Skip to content

Chapter 5: باب پنجم

اہم فقہی مسائل اور اُن کا حل

1۔احرام سے پہلے کے آداب

سوال: احرام باندھنے سے پہلے کن آداب کی رعایت مستحب ہے؟

جواب: خاص اِس موقع کے لیے شریعت نے حاجی یا معتمر کو کسی چیز کا پابند نہیں کیا ہے، تاہم شریعت میں تطہیر بدن کے جو عام آداب ہیں، اُن کا اہتمام اِس موقع پر کرلینا موزوں ہوگا، اِس لیے کہ ایک طرف احرام کی نیت کے بعد تطہیر بدن کے سنن پر عمل کی پابندی عائد ہوجاتی ہے اور دوسری طرف حالتِ احرام کا دورانیہ سفر میں آدمی کے لیے کسی بھی وجہ سے طویل ہوسکتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ علما وفقہا نے بالعموم احرام سے پہلے درجِ ذیل آداب کو پسندیدہ قرار دیا ہے :1

بڑ ھے ہوئے ناخن تراشے جائیں۔

مونچھوں کو پست کیا جائے ۔

زیر ناف کے بال مونڈے جائیں۔

بغل کے بال صاف کیے جائیں ۔

غسل کیا جائے ۔

جسم پرخوش بو لگائی جائے ۔2

اِن آداب میں سے غسل کرنا اور جسم پر خوش بو لگانا خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کےقول وفعل سے بھی ثابت ہے۔3

2۔مباحاتِ احرام

سوال: عام ضرورت کے کون سے افعال ہیں جو حالتِ احرام میں جائز ہیں؟

جواب: حالتِ احرام کے وہ جائز اُمور جن کی عام طور پر ایک مُحرم کو ضرورت پیش آسکتی ہے، وہ درجِ ذیل ہیں:

ضرورت کے موقعوں پر نہانا۔

دانتوں کی صفائی کے لیے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرنا ۔

نظافت کے لیے صابن وغیرہ کا استعمال کرنا۔

جسم یا سَر کو کھجانا۔

مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے تک جوتے یا موزے پہننا۔ عورتیں ، البتہ ہر طرح کے جوتے پہن سکتی ہیں، تاہم وہ اِس بات کا خیال رکھیں کہ اُن کے جوتوں میں بہت زینت وآرایش کا پہلو نہیں ہونا چاہیے۔

چشمہ لگانا یا کانٹیکٹ لینز کا استعمال کرنا۔

ضرورت کے موقع پرہیڈ فون یا ہینڈز فری استعمال کرنا۔

ہاتھ میں گھڑی باندھنا۔

کمر میں بیلٹ وغیرہ باندھنا۔

ضرورت کے موقع پر لباسِ احرام کو دھونا یا اُسے تبدیل کر لینا۔

سایے کے لیے چھتری کا استعمال کرنا۔

سامانِ سفر کو سر پر اُٹھانا۔

علاج وغیرہ کے لیے ٹیکہ لگوانا۔

زخم پر پٹی باندھنا۔

موذی جانور کو مار دینا۔

اپنے ہاتھ سے جانور کی قربانی کرنا یا گوشت حاصل کرنے کے لیے کوئی جانور ذبح کرنا۔

تجارت اور بیع وشرا کی نوعیت کا کوئی کام کر لینا۔

3۔ مردوں کے لیے خاص طرح کی چپل کی پابندی

سوال: مسائل حج میں ہمارے ہاں عام طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ حالتِ احرام میں مردوں کے لیے صرف ایسی چپل یاجوتے پہننا جائز ہے جن میں اُن کے پاؤں کی اوپر والی ہڈی، جہاں تسمہ باندھا جاتا ہے،کھلی رہے، جیسے کہ دو پٹی والی چپل میں ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں اِس حکم کا ماخذ کیا ہے؟

جواب: مردوں کے لیے احرام میں یہ مسئلہ متاخرین حنفیہ نے بیان کیا ہے۔وہ اِسے امام محمد کی طرف منسوب کرتے ہیں، جب کہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ امام محمد سے یہ راے ثابت نہیں ہے۔4بہرحال یہاں یہ جاننا چاہیے کہ حج وعمرہ کی شریعت میں مردوں کے لیے جوتوں میں اِس طرح کی کوئی پابندی نہیں رکھی گئی ہے کہ وہ حالتِ احرام میں اپنے پاؤں کی اوپر والی اُبھری ہوئی ہڈی کو، جہاں آدمی تسمہ باندھتا ہے، لازمًا کھلا رکھیں اور اِس مقصد کے لیے خاص طرح کی چپل ہی استعمال کریں۔

حالتِ احرام میں مردوں کے جوتوں کے لیے اِس طرح کی کوئی شرط قرآن وسنت یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل کی احادیث میں کہیں بیان نہیں ہوئی ہے۔ اِس باب میں مردوں کے لیے جو چیز قانونِ شریعت کی حیثیت سے مقرر کی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ آدمی پاؤں میں جو بھی جوتے، چپل، سینڈل یا موزے پہنے، وہ بہر حال ٹخنوں سے نیچے ہونے چاہییں۔ ایسے جوتے یا موزے وغیرہ پہننا جو ٹخنوں کو بھی چھپا رہے ہوں، البتہ حالتِ احرام میں مردوں کے لیے ممنوع ہیں۔ لہٰذا ہر وہ جوتا، سینڈل یا چپل جو ٹخنوں سے نیچے تک ہو، اُس کا استعمال مردوں کے لیے بلا تردد جائز ہے۔ یہی موقف اِس باب میں جمہور علما،فقہا و محدثین نے اختیار کیا ہے۔5 عورتوں کے لیے جوتوں کے معاملے میں ، البتہ اِس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

حنفیہ کا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس موقع پر احرام کی پابندیاں بیان فرمائی تھیں، آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مُحرم شخص موزے بھی نہ پہنے، البتہ اگر کسی کے پاس چپل نہ ہو تو وہ اپنے موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔6کہتے ہیں کہ امام محمد سے مروی ہے کہ اِس حدیث میں ’الكَعْبَيْن‘سے مراد پاؤں کی اوپر والی اُبھری ہوئی ہڈی ہے، جہاں آدمی تسمہ باندھتا ہے۔

بالبداہت واضح ہے کہ یہ ایک نہایت ضعیف استدلال ہے۔ اِس پر پہلی بات یہ عرض ہے کہ امام محمد سے یہ قول منسوب ہے،یہ بات قطعیت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اُن سے یہ قول ثابت ہو، تب بھی اِس کی صحت کا جائزہ، ظاہر ہے کہ دلیل ہی کی بنیاد پرلیا جائے گا؛ اِس لیے کہ علما کی آرا کے اثبات کے لیے دلیل پیش کی جاتی ہے، خود اُن کی بات کو بہ طور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اِس راے کےغلط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ لفظ ’کعب‘ کا یہ معنی لینا عربیت کے خلاف ہے۔ اہل لغت کے نزدیک یہ معنی بالکل قابلِ قبول نہیں ہے۔ زبان کے لحاظ سے اِس کا صحیح مفہوم صرف وہی ہے جو ہم آیت وضو ’وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ‘،7 ’’اور ٹخنوں تک پاؤں بھی دھو لو ‘‘سے اخذ کرتے ہیں۔کسی صاحبِ علم کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ آیت وضو میں وہ ’الكَعْبَيْن ‘ سے ایک معنی مراد لے اور احرام سے متعلق حدیث میں وارد اِسی لفظ کو ایک نیا مفہوم پہنا دے، جو عربیت کے لحاظ سے ہی قابلِ قبول نہ ہو۔ کیا حنفیہ کے اِس قول سے استدلال کر کے کوئی شخص یہ راے اختیار کرسکتا ہے کہ وضو میں قرآن نے پاؤں کی صرف اوپر والی اُبھری ہوئی ہڈی تک دھونے کا حکم دیا ہے،ٹخنوں تک دھونے کا حکم نہیں دیا۔بالبداہت واضح ہے کہ علمی لحاظ سے یہ ایک نا قابلِ التفات بات ہوگی۔ اِس تفصیل سے واضح ہے کہ اِس مسئلہ میں حنفیہ کی یہ راے کسی طرح قبول نہیں کی جاسکتی ،اِس لیے کہ اِس متفردموقف کی کوئی قابلِ اعتبار دلیل موجود نہیں ہے۔8

4۔میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کا حکم

سوال: کیا میقات سے گزرتے ہوئے حدودِ حرمِ مکی میں داخل ہونے کے لیے بہر صورت احرام باندھنا لازم ہے؟کیا احرام کے بغیر آدمی مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوسکتا؟

جواب: دیکھیے، اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ حج وعمرہ کی میقاتیں من جملہ ’شعائر اللہ‘ ہیں۔ اور اسلامی شریعت میں یہ مقامات صرف اور صرف حج اورعمرہ کی عبادات ہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ حج یا عمرہ کے سوا شریعت کا کوئی عملی حکم اِن سے وابستہ نہیں ہے۔

مزید یہ کہ اِس باب میں اہل علم کے ما بین کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو مسلمان بھی اِن میقاتوں کے ما ورا کسی بھی علاقے سے حج یا عمرہ کی نیت کر کے جب بھی اِن سے یا اِن کے محاذات سے گزرے گا تو اُس پر لازم ہوگا کہ وہ اِن مقامات یا اِن پر پہنچنے سے پہلے اپنے حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے اور اِس کےبغیر یہاں سے ہر گز آگے نہ بڑھے۔ اُس کو اپنے حج یا عمرہ کی نیت اور اپنے مناسک کا آغاز بہرحال میقات یا اُس سے پہلے کرنا ہوگا۔ مواقیت کے حوالے سے یہی بات متفق علیہ سنت کے طور پر چلی آ رہی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی حکم روایتوں میں نقل ہوا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ’ذو الحُلیفۃ‘ کو، اہل شام کے لیے ’جُحفۃ‘ کو، اہل نجد کے لیے ’قَرنُ المنازل‘ کو اور اہل یمن کے لیے ’یَلَملَم‘ کو میقات مقرر فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایاکہ یہ اِن ملکوں کے باشندوں کی میقاتیں ہیں اور اُن سب مسلمانوں کی بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوئے اِن میقاتوں پر آئیں۔9اِس حدیث میں یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ یہ متعین مقامات صرف اُن لوگوں کے لیے میقاتیں ہیں جو اِن پر حج یا عمرہ کے ارادے سے آئیں۔

باقی رہا یہ سوال کہ جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن وہ کسی دوسری غرض سے مکہ مکرمہ یا حدودِ حرم میں جانا چاہتا ہے تو اُس کے لیے کیا حکم ہے؟

بالخصوص اِس سوال کے بارے میں جاننا چاہیے کہ جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن وہ حرمِ مکی میں جانا چاہتا ہے تو اُس کے لیے میقات سے گزرنے پر یا حدودِ حرم میں داخل ہونے پر شریعت کا کوئی حکم نہ قرآن کی رو سے بیان کیا جا سکتا ہے، نہ سنت میں ایسا کوئی حکم موجود ہے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ایسی کوئی بات نقل ہوئی ہے۔ چنانچہ ایسا شخص میقات سے آگے بڑھ کر اپنی کسی بھی ضرورت کے لیے بلا تردد مکہ مکرمہ، حدودِ حرم اور یہاں تک کہ مسجدِ حرام میں بھی، جب چاہے بغیر احرام کے داخل ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر باہر کا کوئی شخص مسجدِ حرام میں نمازِ جمعہ پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے، کوئی عید کی نماز اِس میں ادا کرناچاہتا ہے، کوئی محض بیت اللہ کا طواف کرنے کا خواہاں ہے، کوئی اپنے کسی عزیز سے ملاقات کے لیے مکہ جانا چاہتا ہے، کوئی شخص اپنی کسی تعلیمی یا تجارتی ضرورت کے لیے مکہ کا ارادہ رکھتا ہے اور اِسی طرح کوئی شخص مکہ میں کسی صاحبِ علم یا طبیب سے ملاقات کرنا چاہتا ہے تو واضح رہے کہ اِن سب صورتوں میں کسی شخص پر نہ میقات کا کوئی حکم عائد ہوتا ہے، نہ اُس کے لیے حرم میں داخلے پر کوئی شرعی مانع ہے اور نہ عمرہ کے احرام کی کوئی پابندی اُس پر عائد ہوتی ہے۔ یعنی حرم میں عام داخلے کے لیے عمرہ واحرام کی قطعاً کوئی شرط نہیں ہے؛ نہ باہر سے آنے والوں کے لیے اور نہ اہل مکہ کے لیے، اِس لیے کہ عمرہ کرنا بہ ذاتِ خوددین میں ایک تطوع عبادت ہے۔

اِس کے بر عکس، یہ موقف کہ میقات سے گزر کر حرمِ مکہ میں داخل ہونے والے ہر مسلمان پر عمرے کا احرام باندھنا ضروری ہے تو جاننا چاہیے کہ اِس موقف کی دین کےمآخذ میں نہ صرف یہ کہ کوئی بنیاد موجود نہیں ہے، بلکہ اِس کے نتیجے میں ایک وقیع اشکال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اِس طرح ہم حرمِ مکہ میں کسی بھی غرض اور کام سے داخل ہونے والے ہر شخص پر عمرہ لازم قرار دے رہے ہیں، جب کہ یہ معلوم ہے کہ اسلامی شریعت میں عمرہ کی عبادت کا حکم بجاے خود اعتکاف کے حکم کی طرح نفل وتطوع ہے۔ جب دین میں ایک عبادت اپنی اصل حیثیت میں تطوع کا حکم رکھتی ہے تو حرم میں داخل ہونے والے ہر مرد و عورت پر وہ عبادت لازم کیسے ہو سکتی ہے؟ آدمی جب عمرہ کی نیت سے بھی احرام باندھ کر حرم میں داخل ہوتا ہے تو اُس کا یہ عمل بہ ذاتِ خود تطوع ہوتا ہے، نہ کہ واجب۔ جو عبادت تطوع ہے، اِس کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو مسلمان چاہے، اُسے اپنے شوق سے بجا لائے اور جو نہیں کرتا، اُس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ کوئی مسلمان حدودِ حرم میں بغیر احرام کے داخل نہیں ہوسکتا ہے، یہ نتیجتاً مسلمانوں پر عمرہ کو واجب کردینے کا موقف ہے، جس کی دین وشریعت میں کوئی اساس موجود نہیں ہے۔

اِس موقف کے نا قابلِ قبول ہونے کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ مستند ترین روایتوں سے خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل اِس کے خلاف ثابت ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر رمضان کے مہینے میں آپ اور آپ کے صحابہ حرمِ مکی میں بغیر احرام کے داخل ہوئے تھے۔ پھر 19 دن آپ مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، لیکن اِس دوران میں بھی آپ نے کوئی عمرہ نہیں کیا۔10

علاوہ ازیں، یہ عموم بلویٰ کی نوعیت کا معاملہ بھی ہے۔ مکہ مکرمہ میں لوگ ہمیشہ سے بڑی تعداد میں آتے رہے ہیں۔ دین میں ایسا کوئی حکم ہوتا تو خود اسلامی شریعت اِس کو موضوع بناتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ضرور اِس کے قطعی شواہد ہمیں موصول ہوتے کہ حدودِ حرم میں داخلے کے لیے اُنھوں نے سب مسلمانوں کو اِس کا پابند کیا تھا اور اِس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا تھا۔بالبداہت واضح ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ سے ایسا کوئی حکم منقول نہیں ہے۔

5۔طوافِ بیت اللہ کے لیے وضو کی شرط

سوال: مسائل حج میں بالعموم ہمارے اہل علم یہ مسئلہ بتاتے ہیں کہ طوافِ بیت اللہ کی صحت کے لیے آدمی کا با وضو ہونا اُسی طرح شرط ہے، جس طرح یہ نماز کے لیے ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعت کی رو سے کیا یہ بات درست ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو ہمارے دین میں اِس حکم کا ماخذ کیا ہے؟

جواب: سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دین میں کسی عبادت کی صحت کے لیے کسی خاص عمل کو شرط قرار دینا سواے شارع کے کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ کوئی عالم اور کوئی فقیہ اِس بات کا مجاز نہیں ہے کہ وہ کسی عمل کو کسی عبادت کے لیے خود سے شرط قرار دے دے۔ مسلمانوں کے لیے اُن کے دین میں کسی چیز کو کسی عبادت کی شرط بتایا جائے گاتو اِس کے اثبات کے لیے یہ لازم ہوگا کہ ہم قرآن یا سنت میں اُس کے شرط ہونے کا ایک صریح ماخذ پیش کریں۔

دوسرے یہ کہ اسلامی شریعت کی مقرر کردہ عبادات سات ہیں: نماز، زکوٰة، روزہ، اعتکاف، حج، عمرہ اور قربانی۔ یہ معلوم ہے کہ اِن سب عبادتوں میں نماز وہ واحد عبادت ہے جس کے لیے اسلامی شریعت نے وضو کو شرط قرار دیا ہے۔ اِن میں سے باقی کسی عبادت کے لیے با وضو ہونے کی شرط قرآن وسنت اور احادیث نبویہ میں کہیں بیان نہیں ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے فقہا جن مناسک کو حج وعمرہ کے ارکان وواجبات قرار دیتے ہیں، اُن میں بھی با وضو ہونے کی شرط کو دین میں وہ خود بھی تسلیم نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر حالتِ احرام، قیام منیٰ، وقوفِ عرفہ، وقوفِ مزدلفہ، رمی جمرات، قربانی، صفا ومروہ کی سعی اور حلق یا قصر کراتے ہوئے بھی با وضو ہونا کسی عالم وفقیہ کے نزدیک شرط نہیں مانا گیا ہے۔ اب اگر وضو تمام مناسکِ حج وعمرہ میں سے صرف طواف کے لیے شرط ہے، جس کے بغیر طواف شرعاً صحیح نہیں مانا جا سکتا تو شریعت کے مآخذ، یعنی قرآن یا سنت میں اِس کا صریح ماخذ بتانا اہل علم پر لازم ہوگا۔مسلمانوں پر ایسی کوئی شرط ہم اپنے فہم واجتہاد کی بنیاد پر عائد نہیں کر سکتے۔جس طرح نماز کے لیے وضو کی شرط ہم نے اپنے فہم سے مقرر نہیں کی ہے، بلکہ نص شرعی نے خود اِس کی صراحت کی ہے۔

تیسرے یہ کہ طواف، خواہ حج کا ہو، عمرے کا ہو، طوافِ وداع ہو یا مطلق نفل طواف ہو؛ ہمارے نزدیک متحقق راے کے مطابق اِن سب طوافوں میں آدمی کو با وضو ہی ہونا چاہیے۔ یہی افضل ومندوب ہے۔ بعض اخبارِ آحاد کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے بھی طواف سے قبل وضو کرنا ثابت ہے۔11 لیکن اِس وضو کو طواف کی صحت کے لیے شرط قرار دینا قطعاً ثابت نہیں ہے۔ جیسے مثال کے طور پر فجر کی نماز سے قبل اہتمام ومداومت کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ثابت ہے، اِس کے باوجود وہ فجر کی نماز پڑھنے والے کے لیے شریعت میں لازمی رکعتیں نہیں ہیں اور نہ نمازِ فجر کی صحت کے لیے اِن دو رکعتوں کو شرط قرار دیا جاسکتا ہے۔ غرض یہ کہ طواف سے پہلے آپ کا وضو کرنے کا عمل روایت ہوا ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ اِس کا مندوب ومستحب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو چیز شرط ہوگی، اُس کو شرط ہی کی حیثیت سے شریعت کے مآخذ خود بہ صراحت بیان کریں گے، جیسے مثال کے طور پر نماز کے لیے وضو کی شرط قرآن وسنت، دونوں سے بہ صراحت معلوم ہے۔ کسی خبرِ واحد میں ایک موقع پر محض کوئی فعلِ نبی دیکھ کر اُس کو کسی دوسرے عمل کی شرط قرار دینا علمی لحاظ سے بالکل بھی کافی نہیں ہے۔

چوتھے یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کرنے والوں کے سامنے طواف سے پہلے وضو کرنے کے عمل کو شرط بتایا ہو یا اِس کا حکم دیا ہو، اِس طرح کی کوئی چیز بھی آپ سے نہ کسی عمرہ میں نقل ہوئی ہے اور نہ حج ہی کے موقع پر؛ اِس کے باوصف کہ آپ کے عمروں اور حج کے موقع پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ساتھ رہی ہے۔ لہٰذا یہ بات مانی نہیں جاسکتی کہ ایک چیز دین میں ایک موقع پر لازم ہو اور شارع مسلمانوں کے لیے اُس موقع پر اُسے بیان ہی نہ کرے۔

علاوہ ازیں، حج کے ارکان وواجبات پر قیاس کیا جائے تو بھی وہی موقف درست معلوم ہوتا ہے جو راقم السطور عرض کر رہا ہے۔ یعنی جب حالتِ احرام، قیامِ منیٰ، وقوفِ عرفہ، وقوفِ مزدلفہ، رمی جمرات، قربانی، صفا ومروہ کی سعی اور حلق یا قصر کراتے ہوئے؛ اِن سب موقعوں پر باوضو ہونا شرط نہیں ہے تو طواف کے لیے بھی اِس کو شرط نہیں ہونا چاہیے، ورنہ تنہا طواف کے لیے وضو کی شرط ہوتی تو قرآن یا سنت خود اِس کی صراحت کردیتے اور شارع خود اِس کو بیان فرما دیتے ۔

پانچویں یہ کہ طواف کی صحت کے لیے وضو کی شرط نہ ہونے کا جو موقف راقم الحروف نے یہاں پیش کیا ہے، یہی موقف امام ابو حنیفہ، متقدمین فقہاے حنفیہ، امام ابن حزم، امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم نے اختیار کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت کے مطابق یہی قول نقل ہوا ہے۔ معاصرین اہل علم میں سے سعودی عرب کے مشہور عالمِ دین علامہ محمد بن صالح العثیمین نے بھی اِسی کی تصویب کی ہے۔12

امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ جن اہل علم نے طواف کے لیے وضو کو واجب قرار دیا ہے، بنیادی طور پر اُن کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے، اِس لیے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحابی نے ایسی کوئی بات نقل نہیں کی ہے کہ آپ نے طواف کے لیے لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا ہو۔ ایسی کوئی بات کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے، نہ کسی ضعیف حدیث سے،جب کہ یہ معلوم ہے کہ آپ کے ساتھ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے حج کیا ہے۔ اِسی طرح آپ نے متعدد بار عمرہ کیا ہے، جن میں لوگ آپ کے ساتھ عمرہ کے لیے جاتے تھے۔ طواف کے لیے وضو کی شرط شریعت میں ہوتی تو آپ لازماً اِسے سب کے لیے واضح فرما دیتے۔ اور آپ کے بیان کردینے کے بعد یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ کا یہ حکم مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا، بلکہ صحابۂ کرام آپ کی نسبت سے اِسے ضرور آگے مسلمانوں تک پہنچاتے۔ تاہم اتنی بات صحت کے ساتھ بالکل ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے موقع پر وضو کیا ہے، لیکن یہ بات وضو کے لازم ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔13

آخر میں عرض ہے کہ طواف کے لیے وضو شرط نہ بھی ہو، تب بھی بیت اللہ کے مقدس ترین مقام کے ادب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی میں افضل ومستحب یہی ہے کہ طواف سے پہلے لوگ وضو کا اہتمام کریں۔ تاہم علمی لحاظ سے ہم پر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اگر کسی مسلمان نے طواف سے پہلے وضو نہیں کیایا کوئی وضو کرنا بھول گیا ہے یا کسی کا وضو طواف کے دوران میں ٹوٹ گیا ہے تو اِس طرح کی صورتوں میں شرعاً نہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اِن سب کا طواف باطل ہوگیا ہے، لہٰذا اِن کو طواف دوبارہ کرنا ہوگا اور نہ دین کی رو سے کسی پر یہ لازم کیا جاسکتا ہے کہ چونکہ اُس کا وضو اثناے طواف ٹوٹ گیا تھا، لہٰذا وہ اُسی وقت باہر نکل کر پہلےنیا وضو کرے اور پھر واپس آ کر جہاں اُس نے طواف ترک کیا تھا، دوبارہ وہیں سے شروع کر کے اپنے پھیرے مکمل کرے۔ اِس طرح کے فتووں کی کوئی دلیل قرآن وسنت یا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں قطعاً کہیں موجود نہیں ہے۔

6۔پہلے طواف میں ’رَمل‘ اور’اِضطباع‘ کا حکم

سوال: طواف میں ’رَمل‘ اور ’اِضطباع‘ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ دین میں اِن کا ماخذ کیا ہے؟ اِن دونوں افعال کا اہتمام کس طواف میں کیا جاتا ہے؟ کیا یہ طواف کے کوئی لازمی افعال ہیں؟ اگر اِن کو ترک کردیا جائے تو کیا حاجی پر دَم واجب ہوگا؟ کیا اِن دونوں افعال کے حکم کے بارے میں فقہا کے مابین کوئی اختلاف بھی ہے؟

جواب: دیکھیے، احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی غرض سے آنے والے آفاقی مرد عازمین کے لیے علما وفقہا نے بالعموم طوافِ عمرہ یا طوافِ قدوم14 کرتے ہوئے ’اِضطِباع‘ اور ’رَمل‘ کو اپنی فقہی اصطلاح کے مطابق ’مسنون‘، یعنی پسندیدہ قرار دیا ہے۔ یہ دو افعال اِس طواف میں اُن کے نزدیک لازم تو نہیں ہیں اور نہ اِن کے ترک کرنے پر کوئی فدیہ یا دَم واجب ہوگا، تاہم یہ اُن کے نزدیک باعثِ اجر وفضیلت ہیں۔

جہاں تک ’اِضطباع‘ کے معنی کا تعلق ہے تو احرام میں اِس کے معنی یہ ہیں کہ مرد اپنا دایاں کندھا برہنہ رکھے، یعنی وہ اپنی چادر داہنی بغل سے نکال کر اپنے بائیں کندھے پر ڈالے رکھے۔ طوافِ عمرہ اور طوافِ قدوم میں اکثر فقہا نے اِسے مردوں کے لیے ساتوں پھیروں میں ’مسنون‘ بتایا ہے۔

تاہم امام مالک اور فقہاے مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ’اِضطباع‘ کا حکم ایک خاص سبب سے عارضی طور پر دیا گیا تھا۔ اِس سبب کے ختم ہوجانے کے بعد اب پہلے طواف میں بھی ’اِضطباع‘ کرنا مسنون ومشروع نہیں ہے۔ امام مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ’طواف میں اِضطباع کوئی معلوم ومعروف فعل نہیں ہے اور نہ میں نے کسی کو اِس پر عمل کرتے دیکھا ہے‘۔15

’ رَمل‘ کی اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ آدمی چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ کندھے ہلا کر ذرا تیزی سے چلے16 اور یہ چال اکثر فقہا نے طوافِ عمرہ یا طوافِ قدوم کے صرف پہلے تین چکروں کے لیے پسندیدہ قرار دی ہے، جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا موقف یہ ہے کہ پہلے طواف میں بھی’رَمل‘ اب مشروع ومسنون نہیں رہا ہے۔ اِس کا حکم ایک خاص سبب سے عارضی طور پر دیا گیا تھا۔ اُس سبب کے ختم ہوجانے کے بعد اب پہلے طواف میں بھی’رَمل‘ کا اہتمام کرنا کوئی دائمی مشروع عمل نہیں ہے۔ یہ موقف تابعین میں سے جن ائمہ وعلما نے اختیار کیا ہے، اُن کے نام یہ ہیں: عطاء، مجاہد، طاؤس، حسن البصری، سالم، القاسم، سعيد بن جُبير اور علی بن الحسين۔17’رَمل‘ کی عدمِ مشروعیت کا یہی موقف بعض فقہاے حنفیہ نے بھی اختیار کیا ہے۔18

علاوہ ازیں، عورتیں، بچے، سواری پر طواف کرنے والے اور جن طواف کرنے والوں کو دوسرے لوگ اُٹھا کر طواف کرا رہے ہوں؛ یہ سب مشروعیت کو ماننے والے فقہا کے نزدیک بھی ’اِضطباع‘ اور ’رَمل‘ کے اِس حکم سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

اِس بات پر علما وفقہا کا، البتہ اتفاق ہے کہ حج کے طواف میں، طوافِ وداع میں اور ہر نفل طواف میں؛ جس میں آدمی حالتِ احرام میں نہ ہو، ’رَمل‘ اور ’اِضطباع‘ کرنا غیر مشروع ہے۔

جہاں تک اِن دونوں افعال کے ماخذ کا تعلق ہے تو اِن کی بنیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول بعض روایتیں ہیں۔ مثال کے طور پرسیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حج کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچےتو اپنے پہلےطواف کے ابتدائی تین چکر آپ نے کندھے ہلاتے ہوئے ذرا تیز رفتاری سے لگائے، جب کہ باقی چار چکر معمول کی رفتار سے پورے کیے۔19

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس طواف کے دوران میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں کندھا کھلا رکھا ہوا تھا اور اپنی چادر اِس طرح اوڑھی ہوئی تھی کہ اُس کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال رکھا تھا۔20

’رَمل‘ اور’اِضطباع‘ کی تاریخ، آغاز اور اصل سبب کو جاننے کے لیے صحیح بخاری اورصحیح مسلم کی درجِ ذیل روایتیں پیشِ خدمت ہیں:

ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مکہ آئے تو مشرکین نے اپنی باہم گفتگو میں کہا: تمھارے شہر میں ایسے لوگ آ رہے ہیں جنھیں یثرب (مدینہ ) کے بخار نے کم زور کر دیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں کندھے ہلا کر ذرا تیزی سے چلیں (جس سے قوت کا اظہار ہو) اور رکن یمانی اور رکنِ حجرِ اسوَد کے مابین حسبِ معمول چال پر چلیں۔21

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مکہ آئے تو اُنھیں یثرب (مدینہ) کے بخار سے کچھ کم زوری لاحق تھی۔ مشرکین نے آپس میں کہا: کل تمھارے ہاں ایسے لوگ آرہے ہیں جنھیں بخار نے کم زور کر دیا ہے اور اُنھیں اِس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ (آپ اور آپ کے ساتھیوں کو اِس حال میں دیکھنے کے لیے) حطیم کے برابر میں آکر بیٹھ گئے۔ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے ابتدائی تین چکروں میں کندھے ہلا کر چھوٹے قدموں کی تیز اور مضبوط چال چلیں تا کہ مشرکین اُن کی قوت اور مضبوطی دیکھیں اور رکن یمانی اور رکنِ حجرِ اسوَد کے مابین عام چال پر چلیں۔ یہ دیکھ کر مشرکین کہنے لگے: یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمھارا خیال تھا کہ اِنھیں بخار نے کم زور کردیا ہے؟ یہ تو فلاں اور فلاں سے بھی زیادہ قوی ہیں۔22

یعنی سیدنا ابن عباس نے اِس طرز پر طواف کے پہلے تین چکر لگانے کا سبب اور توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے مدینہ جا کر کم زور ہو جانے کا طعنہ دیا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے جواب میں لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ پہلے تین پھیروں میں اِس طرح دوڑتے ہوئے چلیں اور خود بھی آپ نے اِسی طریقہ سے یہ طواف کیا۔

ابو طفیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کی راے میں بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ابتدائی تین پھیروں میں تیزی سے چلنا اور آخری چار پھیروں میں عام چال پر چلنا سنت ہے؟ اِس لیے کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: لوگوں کی یہ بات صحیح بھی ہے اور غلط بھی۔ ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کی اِس بات کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکین نے آپ سے حسد کی وجہ سے کہا تھا: محمد اور اِن کے ساتھی کم زوری کے باعث بیت اللہ کے طواف کی طاقت نہیں رکھتے۔ چنانچہ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ ابتدائی تین چکروں میں چھوٹے قدموں کی تیز چال چلیں اور بعد کے چار پھیروں میں حسبِ معمول چلیں۔23

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بات کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر تین پھیروں میں ’رمل‘ کیا تھا، اِس لحاظ سے لوگوں کی بات درست ہے، لیکن اِس عمل کو پہلے طواف میں ایک دائمی مشروع سنت سمجھنا؛ لوگوں کا یہ خیال درست نہیں ہے، اِس لیے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کو یہ حیثیت نہیں دی، بلکہ صرف کفار کے سامنے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قوت کے اظہار کے لیے ایسا کیا تھا۔ اِس سبب کے ختم ہوجانے کے بعد اب اِس کا حکم بھی باقی نہیں رہا۔

راقم السطور کے نزدیک مندرجہ بالا تفصیلات کی رو سے’ رمل‘ کے بارے میں سیدنا ابن عباس کا موقف درست ہے اور جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے ، یہی موقف تابعین میں سے عطاء، مجاہد، طاؤس، حسن البصری، سالم، القاسم، سعيد بن جُبير اور علی بن الحسين نے اور بعض فقہاے حنفیہ نے بھی اختیار کیا ہے۔غور کیجیے تو ’اضطباع‘ کا مقصد بھی وہی تھا جو ’رمل‘ کے بارے میں مذکورہ بالا روایتوں میں بیان ہوا ہے، یعنی پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے مشرکین مکہ کے سامنے اظہارِ قوت کے لیے ایک کندھا برہنہ بھی رکھا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، طواف کے اندر یہ دونوں ہی اعمال اپنی نوعیت کے لحاظ سے بھی تعبدی نہیں ہیں، لہٰذا اِن کو دائمی مشروع اعمال قرار دینا درست نہیں ہے۔اور اِسی بنا پر امام مالک اور فقہاے مالکیہ کا یہ موقف بھی درست ہے کہ ’اِضطباع‘ کا حکم ایک خاص سبب سے عارضی طور پر دیا گیا تھا۔

7۔’طوافِ قُدوم‘ کس طواف کو کہتے ہیں؟

سوال: ’طوافِ قُدوم‘ کا کیا مطلب ہے؟ یہ کس طواف کو کہا جاتا ہے؟ اِس کا حکم اور طریقہ کیا ہے؟

جواب: بیت اللہ کا طواف، خواہ وہ طوافِ قدوم ہو، طوافِ عمرہ ہو، طوافِ حج ہو یا طوافِ وداع؛ہر صورت میں یہ بیت اللہ کے سات پھیرے ہی ہوتے ہیں، جو کعبے کو اپنے بائیں طرف رکھ کر لگائے جاتے ہیں اور ہر چکر حجرِ اسوَد کے استلام سے شروع ہوتا اور اِسی مقام پر ختم ہوتا ہے۔’طوافِ قُدوم‘ کے معنی ہیں: باہر سے آنے والوں کی بیت اللہ میں آمد اور وہاں پہنچنے پر کیا جانے والا پہلا طواف۔ یعنی یہ مکہ مکرمہ پہنچ کر سب سے پہلے کیے جانے والے طواف کو کہا جاتا ہے۔ طوافِ قدوم کے علاوہ اِس طواف کو ’طواف التحیۃ‘، ’طواف الوُرود‘، ’طواف القادم‘، ’طواف الوارد‘ اور ’طواف اللقاء‘ بھی کہا جاتا ہے۔24اِس طواف کی مندرجہ ذیل متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں:

ایک یہ کہ کوئی شخص حج یا عمرہ کے بجاے اپنے کسی ذاتی کام سے مکہ مکرمہ گیا ہو اور اُسے مسجدِ حرام میں داخل ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوجائے۔ اِس صورت میں بیت اللہ میں داخل ہو کر جو طواف وہ کرتا ہے، وہ ’طوافِ قدوم‘ کہلاتا ہے۔ اِس طواف کی حیثیت ’تحیۃ بیت اللہ الحرام‘ کی ہوتی ہے، جیسے مثال کے طور پر کسی عام مسجد میں داخل ہو کر ’تحیۃ المسجد‘ کے طور پر دو رکعت نفل نماز ادا کی جاتی ہے۔ اِس طرح کا طواف، ظاہر ہے کہ ایک مشروع نفل طواف ہے،اِس لیے کہ یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے ثابت ہے۔

طوافِ قُدوم کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی آفاقی شخص صرف حج کے ارادے سے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ میں داخل ہو اور ایامِ حج شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت یا دن باقی ہوں۔ اِس صورت میں بھی بالبداہت واضح ہے کہ وہ مسجدِ حرام میں پہلی مرتبہ داخل ہو کر جو پہلا طواف کرے گا، وہ حج یا عمرہ کا کوئی طواف نہیں ہوگا، بلکہ اُس کا یہ طواف ’تحیۃ المسجد الحرام‘ کے طور پر ’طوافِ قدوم‘ ہی کہلائے گا، جس کی حیثیت بھی ایک مشروع نفل طواف کی ہے۔

علاوہ ازیں، عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر حرمِ مکہ میں داخل ہونے والے بیت اللہ کا جو پہلا طواف کرتے ہیں، وہ اصلًاطوافِ عمرہ ہوتا ہے، جو مناسکِ عمرہ کا بنیادی رکن ہے، کوئی نفل طواف نہیں ہے،لیکن عمرہ کے اِس طواف کو لغوی معنی کی رعایت سے ’طوافِ قدوم‘ بھی کہہ دیا جاتا ہے، اِس لیے کہ عملاً یہ بھی بیت اللہ میں پہلی مرتبہ آمد ہی کا طواف ہوتا ہے۔

8۔حج وعمرہ میں سعی کا حکم ـــــــــ واجب یا تطوع؟

سوال: کیا صفا ومروہ کی سعی حج اور عمرہ کے لازمی مناسک میں سےہےیا یہ تطوع ہے؟

جواب: حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کی سعی کے بارے میں اہل علم کی تین آرا ہیں:ایک قول کے مطابق یہ حج کا رکن ہے، جس کو ادا کرنا حج کی صحت کے لیے لازمی شرط ہے اور چھوڑنے کی صورت میں کوئی فدیہ بھی قابل قبول نہ ہوگا۔ یہ جمہور فقہاے مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی راے ہے۔ دوسرے قول کے مطابق حج اور عمرہ، دونوں میں سعی کی حیثیت واجب کی ہے، یہ اِن عبادتوں کا رکن نہیں ہے۔ آدمی حج یا عمرہ میں اِسے ترک کرے گا تو قربانی کی صورت میں اِس کا فدیہ دے کر تلافی کرنی ہوگی۔ یہ قول امام ابو حنیفہ سے منقول ہے۔ فقہا کا تیسرا موقف یہ ہے کہ اِن دونوں عبادتوں میں سعی کی حیثیت ایک تطوع سنت کی ہے۔ یہ نہ رکن ہے اور نہ واجب۔

تینوں مواقف کے دلائل کا علمی وتجزیاتی مطالعہ کرنے کے بعد ہمارے نزدیک قوی ترین موقف یہی ہے کہ حج اور عمرہ کے مناسک میں صفا ومروہ کی سعی ایک مستحب ومندوب منسک کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مناسکِ حج وعمرہ کا کوئی لازمی منسک نہیں ہے کہ جس کے ادا نہ کرنے کے نتیجے میں آدمی کا حج یا عمرہ نا مکمل اور نا قابل قبول قرار پائے۔

حج وعمرہ اِس کے بغیر بھی ہر لحاظ سے مکمل ہوجاتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کے نوافل کے بغیر صرف لازمی نماز ادا کرنے سے آدمی کا فریضہ ادا ہو جاتا ہے۔اِس موقف کے قوی ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں خود قرآن مجید نے صراحت کردی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ .

(البقرۃ 2: 158)

’’صفا اور مروہ یقیناً اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ جو اِس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں، اُن پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اِن دونوں کا طواف بھی کر لیں، (بلکہ یہ ایک نیکی کا کام ہے) اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اُسے قبول کرنے والا ہے، اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘

سورۂ بقرہ کی اِس آیت سے واضح ہے کہ صفا ومروہ کی پہاڑیاں من جملہ شعائر اللہ ہیں، اور حج وعمرہ کے موقع پر صفا ومروہ کی سعی ایک مشروع عمل ہے۔ تاہم مناسک میں اِس کی حیثیت تطوع ومندوب کی ہے۔ یہ اگر کی جائے تو باعث اجر ہوگی۔ یہ اِن کے لازمی مناسک میں سے نہیں ہے۔

قرآن مجید کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اِسی بات کی تائید ہوتی ہے کہ حج وعمرہ میں سعی کی حیثیت ایک تطوع عمل کی ہے ۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے بیت الحرام پہنچ کر عمرہ کیا تو اُس میں طواف کے بعد صفا ومروہ کی سعی بھی کی، جب کہ حج کے مناسک ادا کرتے ہوئے یوم النحر کو آپ نے صرف کعبۃ اللہ کا طواف کیا، صفا ومروہ کی سعی نہیں کی۔25

صفا ومروہ کی سعی کے بارے میں یہی موقف صحابۂ کرام میں عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، ابی بن کعب، انس بن مالک اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نے، تابعین میں عطا بن ابی رباح، مجاہداور ابن سیرین نے اور فقہاے اربعہ میں ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل نے اختیار کیاہے۔26

سعی کو واجب قرار دینے والے اہل علم اپنے موقف کی تائید میں ایک حدیث بہ طور استدلال پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ارشاد فرمایا ہے :”سعی کرو، اِس لیے کہ اللہ نے سعی کو تم پر لازم کیا ہے۔“27

اِس روایت کے بارے میں عرض ہے کہ اولاً، یہ اپنے متن کے لحاظ سے قرآن مجید کی اوپر بیان کردہ صراحت کے خلاف ہے۔ ثانیاً، فن حدیث کی رو سے یہ ایک ضعیف اور ناقابلِ اعتبار روایت ہے۔ اِس کا کوئی طریق ’صحیح‘ یا ’حسن ‘ کے درجے میں ثابت نہیں ہے۔

9۔سعی کے کچھ حصے میں تیز دوڑنے کا حکم

سوال: صفا ومروہ کی سعی کے دوران میں ایک حصے میں لوگ تیز دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اِس کی کیا وجہ ہے اور اِس کا حکم دین میں کہاں وارد ہوا ہے؟

جواب: قدیم زمانے میں صفا ومروہ کی پہاڑیاں اور اِن کے مابین کا پورا حصہ، جہاں سعی کی جاتی ہے، کھلے آسمان تلے ہوا کرتا تھا۔اُس عہد میں نہ اِن پہاڑیوں کے اوپر کوئی عمارت تعمیر ہوئی تھی اور نہ اِن کے مابین کوئی عمارت موجود تھی۔حجاج ومعتمرین اُس زمانے میں کھلے آسمان تلے اِن پہاڑیوں پر چڑھتے اور پھر اِن سے اُتر کر طواف کے یہ پھیرے لگاتے تھے۔ علاوہ ازیں، صفا سے اتر کر مروہ کی طرف آگے بڑھتے ہوئے کچھ فاصلے پر راستے میں ایک حصہ نشیبی زمین کا ہوا کرتا تھا، جو مروہ کی طرف جانے اور وہاں سے واپس صفا کی طرف آتے ہوئے راستے میں پڑتا تھا۔پہاڑوں کے درمیان بارش کے پانی کا بہاؤ یہاں سے ہوا کرتا تھا۔ یہاں ڈھلان اور ریت والی نرم زمین ہوا کرتی تھی۔چنانچہ سعی کرنے والا جب یہاں پہنچتا تو اُس کے لیے عام چال چلنا مشکل ہوجاتا۔اِس نشیبی حصے میں اُس کو بہرصورت تیز ہی دوڑنا پڑتا تھا۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر اِس طواف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا سے اُترتے تو معمول کی چال چلتے، یہاں تک کہ جب آپ کے قدم اِس نشیبی وادی کی ڈھلان میں اترنے لگتے تو آپ تیز دوڑتے، یہاں تک کہ اِس نشیبی وادی سے نکل جاتے۔28

جب کہ آج کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ صفا ومروہ کی پہاڑیاں اور اِن کے مابین کے طواف کی پوری جگہ مسجد حرام کی نئی عمارت سے متصل باقاعدہ ایک عمارت کے تحت آگئی ہے، بلکہ سعی کی پوری جگہ پرکم وبیش سیدھا اور جدید طرز کا پختہ فرش بنادیا گیا ہے، تاکہ حجاج ومعتمرین کے لیے، سعی کرتے ہوئے دھوپ، گرمی اور گرد وغبار سے بچا کر، سہولت اور آسانی پیدا کی جائے۔اِس عمارت میں قدیم زمانے کی نشیبی وادی کے آغاز اور انتہا کی نشان دہی کے لیے ماضی قریب میں دونوں جگہوں پر سبز رنگ کے ستون اور سبز رنگ ہی کے قمقمے لگائے گئے تھے، جب کہ آج کل اِس پورے حصے کی چھت میں سبز رنگ کے طویل قمقمے لگادیے گئے ہیں تا کہ لوگ یہ جان سکیں کہ صفا ومروہ کے ما بین یہ حصہ تھا، جہاں عہدِ قدیم میں ڈھلان اور نشیبی زمین ہونے کی وجہ سے لوگ تیز دوڑتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہاں اِسی وجہ سے دوڑے تھے۔

غرض یہ کہ یہ بات بالکل قطعی ہے کہ صفا ومروہ کی دونوں پہاڑیاں من جملہ ’شعائر اللہ‘ ہیں، جیسا کہ قرآن مجید نے صراحت کی ہے۔ اِسی طرح یہ بھی شریعت میں ایک یقینی بات ہے کہ اِن دونوں کے مابین سعی کرنا مناسکِ حج وعمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم اِن کے مابین کا وہ حصہ جو ڈھلان پر واقع تھا، اُس کا اِس صورت میں نشیبی ہونا ’شعیرہ‘ کی نوعیت کی کوئی چیز نہیں تھی، یہی وجہ ہےکہ مسلمانوں نے عہدِ جدید میں یہاں عمارت تعمیر کر کے اُس حصے کے نشیب اور ڈھلان کو ختم کر دیا ہے۔ اِس کا ڈھلان میں ہونا اور باقی رہنا دین میں ’شعیرہ‘ کی نوعیت کی کوئی چیز ہوتی تو بالبداہت واضح ہے کہ مسلمان ایسی تبدیلی کرنے کے مجاز نہیں تھے، بلکہ جدید طرز کے فرش میں بھی، اُن کو چاہیے تھاکہ اِس ڈھلان کو باقی رکھتے تا کہ آج بھی عہدِ قدیم کی طرح سعی کرنے والوں کے قدم یہاں آپ سے آپ تیز دوڑتےرہیں۔

ہمارےعلما بالعموم اِس عمل کو مردوں کے لیے آج بھی اِس بنا پر پسندیدہ قرار دیتے ہیں کہ بعض صحابہ نے روایتوں میں اپنا یہ مشاہدہ بیان کیا ہے کہ اِس نشیبی مقام پر اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیز دوڑتے ہوئے دیکھا تھا، ورنہ مسلمانوں کے لیے اِس کا باقاعدہ حکم قرآن وسنت اور احادیث نبویہ میں کہیں وارد نہیں ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی عالم وفقیہ نے اِس عمل کو کبھی لازم قرار نہیں دیا ہے۔علاوہ ازیں، علما نے تیز دوڑنے کے اِس عمل سے عورتوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے، جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کوئی ماخذ راقم السطور کے علم میں نہیں ہے کہ آپ نےاپنے سفرِ حج میں موجود صحابیات کے لیے صراحت کی ہو کہ وہ اِس عمل سے مستثنیٰ ہیں، جب کہ یہ واقعہ ہے کہ ہمارے علما بالعموم سعی کی اِس پوری سنت کی اساس سیدہ ہاجرہ کے عمل کوقرار دیتے ہیں۔لہٰذا روایتی نقطۂ نظر پر یہاں بعض سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔

ایک یہ کہ اِس مقام پر اِس طرح تیز دوڑنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی بنا پر دین میں کوئی مشروع عمل ہے اور عورتیں اِس سے مستثنیٰ ہیں تو اِس استثنا کی صراحت خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہیں فرمائی، جب کہ حجۃ الوداع میں آپ کے ساتھ مردوں کے علاوہ عورتیں بھی بڑی تعداد میں شریکِ سفر تھیں؟ دوسرے یہ کہ سعی کی مشروعیت کی بنیاد اگر سیدہ ہاجرہ کا عمل تھا اور اُس زمانے میں بھی یہ نشیبی مقام، ظاہر ہے کہ موجود تھا تو اب مسلمان عورتوں کے لیے اِسی مقام پر تیز دوڑنے کی ممانعت حج وعمرہ کی شریعت کے کس حکم کی بنیاد پر ہوئی ہے؟

اِس تفصیل کی روشنی میں راقم الحروف نے اِس مسئلہ پر جو تحقیق و تدبر کیا ہے، اُس کے مطابق عہدِ قدیم میں مسعیٰ کا جو حصہ ڈھلان میں تھا، اِس کے بارے میں یہ سمجھنا چاہیے کہ اِس ڈھلان کو شریعت نے مقرر کیا تھا، نہ اِس نشیب کو باقی رکھنے کا دین نے کہیں کوئی حکم دیا ہے۔اِس مقام پریہ ایک طبعی اور اتفاقی چیز تھی۔ اِسی طرح اِس مقام پر تیز دوڑنے کے عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی حیثیت سے حکم دے کر مسلمانوں میں جاری کیا ہو اور عورتوں کو اِس سے روکا ہو، اِس بات کا بھی دین میں کہیں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ لہٰذا جاننا چاہیے کہ اِس مقام پر تیز دوڑنا سعی کرنے والوں کے لیے ایک اتفاقی چیز اور مجبوری تھی، اِس لیے کہ ایسی ڈھلان جہاں کہیں بھی راستے میں آجائے، یہ واقعہ ہے کہ ہر شخص وہاں نہ چاہتے ہوئے بھی تیز دوڑنے ہی پر مجبور ہوگا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ اسلامی شریعت میں یہاں تیز دوڑنے کا کوئی آسمانی حکم نازل نہیں ہوا ہے۔ اِس تناظر میں دیکھیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس مقام پر تیز دوڑتے ہوئے جن لوگوں نے دیکھا ہے، وہ بیان واقعہ ہے، نہ کہ بیان شریعت۔ حجۃ الوداع کے سفر کی وہ روایتیں جن میں بعض صحابہ نے اِس پورے سفر کی روداد بیان کی ہے، اُن کو تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو واضح ہوجاتا ہے کہ وہ جس طرح حج وعمرہ کے مشروع مناسک و اعمال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ نقل کر رہے ہیں،بعض فقہی مسائل میں لوگوں کے سوالات پر آپ کے ارشادات روایت کر رہے ہیں ، اُسی طرح اِن روایتوں میں دین وشریعت سے قطع نظر ،عام واقعات کا ذکر بھی جگہ جگہ آ گیا ہے۔ جیسے مثال کے طور پر آپ کس سواری پر سوار تھے، راستے میں آپ نے کس کس مقام پر پڑاؤ ڈالا، مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر آپ نے پہلے کس جگہ پر قیام فرمایا اورکس موقع پر زم زم کا پانی نوش فرمایا وغیرہ۔روایت ومشاہدے میں بیان ہونے والی ہر چیز دین وشریعت کا حصہ نہیں ہوا کرتی، بلکہ بہت سی چیزیں بیانِ واقعہ کے طور پر بیان کی جاتی ہیں۔تاہم جو چیز دین کا حصہ ہوتی ہے، وہ قرآن وسنت میں لازماً موجود ہوتی اور دین میں قطعیت سے ثابت ہوتی ہے اور وہ اپنے ثبوت کے لیے اخبارِ آحاد کی محتاج نہیں ہوتی۔

10۔حج وعمرہ کے علاوہ صفا ومروہ کی نفلی سعی

سوال: حج وعمرہ کے علاوہ جس طرح بیت اللہ کا نفل طواف کیا جاتا ہے، کیا اُسی طرح صفا ومروہ کی پہاڑیوں کے مابین تطوعاً سعی بھی کی جاسکتی ہے؟

جواب: بیت اللہ کا نفل طواف حج وعمرہ کے علاوہ بھی ہمیشہ سے معلوم، متعارف اور معمول بہ رہا ہے۔ مسجد ِحرام میں صرف نماز کے لیے حاضر ہونے والے بھی ہمیشہ سے اِس گھر کا نفل طواف کرتے آئے ہیں۔ حج کے موقع پر یوم الترویہ سے قبل بیت الحرام پہنچنے والے حجاج و زائرین بھی اِسی نفلی حیثیت میں ’طوافِ قدوم‘ کیا کرتے اور اِسی طرح وہ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی الوداعی نفل طواف کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا نفل طواف گویا مسجدِ حرام کے لیے ہمیشہ سے ’تحیۃ المسجد‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ اور بعض موقعوں پر نفل طواف کرنے کی آپ کی ہدایت بھی مستند روایتوں سےثابت ہے۔29اور اِسی پر طبقۂ صحابہ سے آج تک تمام مسلمانوں کا علم و عمل معلوم ومعروف ہے۔

جہاں تک صفا ومروہ کی سعی کا تعلق ہے تو اِس کے بارے میں یہ بات تو درست ہے کہ مناسکِ حج وعمرہ میں یہ بھی ایک الگ منسک اور جزو کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حج وعمرہ کے مناسک سے مجرد کرکے اِن دو پہاڑیوں کے مابین طواف کا عمل نہ دین ابراہیمی کی روایت میں کہیں ملتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے علم وعمل ہی سے یہ ثابت ہے۔ خود قرآن مجید نے بھی اِس کی ادائیگی کے حکم کو حج وعمرہ ہی کے ساتھ متعلق کر کے بیان کیا ہے: ’فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا‘،30 ’’چنانچہ وہ لوگ جو اِس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں، اُن پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اِن دونوں کا طواف بھی کرلیں‘‘۔

چنانچہ صفا ومروہ کے مابین سعی کی صحت کے لیے یہ شرط ہے کہ اِسے حج یا عمرہ کی عبادت کے مناسک کے اندر اپنے موقع ومحل پر ایک منسک کی حیثیت ہی سے ادا کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حج وعمرہ کے سوا اِس پر مسلمانوں کا کبھی عمل نہیں رہا، بلکہ تمام علما وفقہا حج وعمرہ سے مجرد کر کے صفا و مروہ کی نفلی سعی کو غیر مشروع قرار دیتے ہیں، اِس لیے کہ تمام تعبدی امور سرتاسر توقیفی ہوتے اور اُن کا اثبات تنہا شارع کی تشریع پر مبنی ہوتا ہے۔فہم و اجتہاد کو اِس باب میں کوئی دخل نہیں ہے۔31

علاوہ ازیں، صفا و مروہ کی سعی بھی طوافِ بیت اللہ ہی کی طرح ’عمومِ بلویٰ‘ کی نوعیت کا ایک عمل ہے، جس کا عقلی تقاضا ہے کہ یہ بھی حج وعمرہ کے سوا مسلمانوں کے لیے اگر دین میں مندوب ہوتی تو نفلی طواف ہی کی طرح دین ابراہیمی کی روایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے علم وعمل کی عمومی روایت کے طریقے پر ضرور نقل ہوتی اور نفلی طواف ہی کی طرح آج بھی مسلمان اِن دونوں پہاڑیوں کے مابین نفلی سعی بھی کر رہے ہوتے۔

تطوعات کے باب میں قرآن کے بیان کردہ ضابطے ’وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا، فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ‘،32’’اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اُسے قبول کرنے والا ہے، اُس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘ کو ، ظاہر ہے کہ دین کی مجموعی ہدایت کی روشنی میں تطوعات کے باب میں حدود وشرائط کے ساتھ ہی سمجھا جائے گا۔

اِس آیت کو پیش نظر رکھ کر کوئی شخص اپنے فہم کی بنیاد پر نماز کی عبادت کے کچھ اجزا، مثلاً قیام، رکوع یا قعدے کو اُس سے مجرد کر کے انجام نہیں دے سکتا۔ اِسی طرح اعتکاف کی کچھ پابندیاں اپنے اوپر عائد کر کے اُس کو تطوع عبادت نہیں کہہ سکتا۔ روزے کی تین محظورات میں سے صرف کھانے اور پینے کی پابندی اختیار کر کے اُس کو نفل عبادت قرار نہیں دے سکتا۔ حج وعمرہ کے مشروع وردِ تلبیہ کو نفلی طور پر روزہ، اعتکاف یا عید کی قربانی کے ساتھ مشروع نہیں کرسکتا۔ ایک رکعت نفل نماز نہیں پڑھ سکتا۔ وضو کی شرط کو نظر انداز کر کے دو رکعت نفل نماز بھی ادا نہیں کرسکتا اور مناسکِ حج وعمرہ میں سے صرف محظوراتِ احرام کو نفل طور پر اختیار کر کے اپنے اِس عمل کو بھی تطوع عبادت قرار نہیں دے سکتا۔

لہٰذا تعبدی امور میں تطوعات کے بارے میں ایک بات یہ واضح رہنی چاہیے کہ مرکب اعمال یا احکام پر مشتمل جن عبادات کے نوافل ہمارے دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے مشروع کیے گئے ہیں، اُنھیں تطوعاً بھی شریعت میں قائم کردہ اُن کی مکمل صورت میں اور اپنے حدود وشرائط کے ساتھ ہی ادا کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص نفل نماز پڑھنا چاہتا ہے تو اُس کو شریعت کی مقرر کردہ حصولِ طہارت کی شرط کو بھی پورا کرنا ہو گا اور وہ کم از کم نفل نماز بھی دو رکعت ہی ادا کرے گا اور وہ بھی اُسی طرح ادا کی جائیں گی،جس طرح نماز کے اعمال واذکار کی شریعت میں مقرر و معلوم ہے۔ اِسی طرح روزے، اعتکاف اور حج وعمرہ کی نفل ادائیگی کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔

مرکب افعال پر مشتمل اسلامی شریعت کی کسی بھی عبادت کے متعین ڈھانچے میں نہ کوئی ترمیم واضافہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اپنے اجتہاد سے اِن عبادات کے کچھ اجزا کو مجرد کر کے نفل عبادت قرار دیا جاسکتا ہے، اِس لیے کہ دین اسلام میں عبادات سر تا سر توقیفی ہیں، یعنی وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حتمی صورت میں متعین کر کے دے دی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین کے تعبدی امور میں لوگ اپنی طرف سے اِس طرح کے جو اقدام بھی کرتے ہیں، اُنھیں غیرمشروع اور ’بدعت‘ کہا جاتا ہے۔

شریعت کی مرکب اعمال پر مشتمل عبادت کا کوئی جزو اگر اُس سے مجرد کر کے دین میں تطوعاً بھی مشروع ہوگا تو تنہا شارع کے قول وعمل ہی سے ہوگا، جیسے مثال کے طور پر حج وعمرہ کے تمام مناسک میں، اُن سے مجرد کر کے کوئی منسک اگر جزواً بھی مشروع ہوا ہے تو وہ صرف بیت اللہ کا نفل طواف ہے۔ اِسی طرح نماز کی عبادت کے مشروع اعمال میں سے کوئی جزو اگر نماز کے سوا بھی مشروع ہے تو وہ اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہوجانا ہے، جیسے مثال کے طور پر سجدۂ تلاوت۔ یہ دونوں افعال اِس لیے مشروع ہیں کہ یہ خود شارع سے ثابت ہیں، ورنہ تعبدی امور میں مسلمانوں کے فہم واجتہاد کو کوئی دخل نہیں ہے۔مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجودِ تلاوت کو پیش نظر رکھ کر اپنے اجتہاد سے ہر سورت کی تلاوت مکمل کرنے پر سجدے کو مندوب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں افعال اپنی ذات اور نوعیت ہی میں تعبدی حیثیت رکھتے ہیں۔ طوافِ بیت اللہ میں جس طرح ایک خاص پہلو اُس کے ’تحیۃ المسجد الحرام‘ ہونے کا ہے، اُسی طرح سجدے کے فعل میں خاص پہلو یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے خالص مظہرِ پرستش اور اظہارِ تذلل ہے، بر خلاف نماز کے قعدے، احرام کے مخصوص لباس اور دوسری بہت سی عبادات کے اجزا کے، جو اپنی مجرد حیثیت میں اصلاً مظاہر ِپرستش نہیں ہیں۔

غرض یہ کہ متعین عبادات سے مجرد کر کے جن اجزا کو بہ طور نفل ادا کرنا خود شارع سے ثابت ہو، صرف اُنھی پر عمل پیرا ہونا جائز ہوگا۔ کوئی مسلمان اپنے فہم کی بنیاد پر کسی عبادت کا کوئی جزو اُس سے مجرد کر کے اُس کو نفل عبادت قرار دینے کا مجاز نہیں ہے۔ ایسا کرنا دین میں ’بدعت‘ کہلائے گا۔

چنانچہ واضح ہوا کہ حج وعمرہ کے سوا جس طرح تطوع کے طور پر احرام، منیٰ میں جمرات کی رمی، قیامِ منیٰ یا وقوف عرفہ نہیں کیا جاسکتا، بالکل اُسی طرح حج وعمرہ کے سوا صفا ومروہ کے مابین تطوعاً سعی بھی نہیں کی جاسکتی، اِس لیے کہ ’سعی‘ کے لیے بھی مکانی قید کے علاوہ شرعاً یہ بھی لازم ہے کہ اِسے بہرحال حج یا عمرہ کے اندر اُس کے ایک منسک ہی کے طور پرادا کیا جائے۔ تفسیر”تدبرِ قرآن “میں سورۂ بقرہ کی آیت 158 کی تفسیر کرتے ہوئے امام امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ نے بھی اِس مسئلے میں اِسی موقف کی صراحت کی ہے، جو راقم السطور نے اِس سوال کے جواب میں یہاں عرض کیا ہے۔33

11۔مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میں بہ تکرار عمرہ کرنا

سوال: کیا حج یا عمرہ کرنے والوں کے لیے یہ بات دین میں باعثِ اجر وفضیلت ہے کہ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میں وہ جتنی مرتبہ عمرہ کرسکیں، ضرور کریں؟ کیا اِس طرح بار بار عمرہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طرزِ عمل سے ثابت ہے؟

جواب: بالعموم حجاج ومعتمرین کی ایک مُعتد بہ تعداد کو دیکھا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کے دوران میں وہ حدود ِحرم سے باہر جاتے اور تنعیم کے علاقے کی معروف مسجد، مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرتے ہیں اور اپنے اِس عمل کو اپنی اپنی استطاعت کے مطابق دہراتے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ عمرہ کی اِس طرح تکرار کو وہ دین میں بہت ہی باعثِ اجر وفضیلت بھی تصور کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہاں ایک بات پہلے یہ سمجھ لینی چاہیے کہ تعبدی امور میں مسلمانوں کے لیے کوئی بھی متعین عمل دین اسلام میں اُس وقت تک مشروع اور پسندیدہ نہیں ہوسکتا، جب تک شارع کی طرف سے اُس کی تشریع واستحباب ثابت نہ ہو۔

عمرہ کی صورتِ مسؤلہ کے بارے میں قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل کی احادیث میں اِس طرح عمرہ کی تکرار کے لیے کوئی ماخذ موجود نہیں ہے، بلکہ قرآن وسنت کی رو سے حج اور عمرہ کی عبادات میں پسندیدہ طریقہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی حج کے لیے الگ سفر کرے اور عمرہ کے لیے الگ۔ دُور دَراز کے علاقوں سے آنے والوں کے لیے یہ حکم زحمت کا باعث ہو سکتا تھا، چنانچہ اِسی بنا پراللہ تعالیٰ نے باہر سے آنے والے حجاج کو اجازت دی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اپنے حج کے سفر میں عمرہ بھی کرسکتے ہیں، لیکن اِس رخصت سے فائدہ اُٹھانے کی بنا پر اُنھیں قربانی یا دس روزوں کی صورت میں فدیہ ادا کرنا ہو گا۔34

قرآن کے اِس حکم سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشا صاف واضح ہے کہ اِن عظیم عبادات کی ادائیگی کی بہتر اور افضل صورت یہی ہے کہ آدمی اِن میں سے ہر ایک کے لیے الگ سے عزمِ سفر کرے۔ اور اِس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب حج کے سفر میں اُس کے ساتھ ایک عمرہ کرنے پر فدیہ عائد کر رہے ہیں تو پھر اُس کے نزدیک ایک سفر میں مکہ میں رہتے ہوئے بار بار عمرہ کرنا کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہوسکتا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک عمل دین میں پسندیدہ نہیں ہوسکتا تو یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اُس کا رسول اُس عمل کو انجام دے یا مسلمانوں کے لیے اُسے دین میں پسندیدہ قرار دے۔ چنانچہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور حج وعمرہ کے باب میں آپ کے اُسوہ کی روایتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حج یا عمرہ کے کسی سفر میں حرم سے باہر نکل کر عمر بھر کبھی کوئی عمرہ نہیں کیا اور نہ آپ نے قولی طور پر اِسے کسی پسندیدہ عمل کی حیثیت سے کبھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اِس سےواضح ہوا کہ اِس باب میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کااُسوہ عین قرآن کے منشا کے مطابق تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد حج یا عمرہ کے لیے مدینہ منورہ سے چار مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ہیں۔شہر ِمکہ میں مقیم رہتے ہوئے یہ اگر کوئی مشروع اور پسندیدہ عمل ہوتا تو اِن مواقع پر آپ اِسے ضرور انجام دیتے یا کم از کم مسلمانوں کے لیے اِسے بیان ضرور کر دیتے، جیسا کہ طوافِ وداع کے بارے میں آپ نے تلقین فرمائی ہے۔ لیکن اِس معاملے میں ایسا بھی نہیں ہوا، بلکہ فتح مکہ کے موقع پر تو آپ اُم القریٰ میں رمضان کے مہینے میں بغیر احرام کے داخل ہوئے اور پھر 19 دن تک مکہ میں مقیم رہے، لیکن اِس دوران میں بھی حدودِ حرم سے باہر نکل کر آپ نے کوئی عمرہ نہیں کیا۔35

چنانچہ جاننا چاہیے کہ جس طرح ایک سفر میں ایک سے زائد عمرہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، اُسی طرح مکہ مکرمہ سے باہر نکل کر کبھی عمرہ کرنا بھی آپ کے عمل سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔

علاوہ ازیں، ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے کا اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ کے صحابہ نے بھی کبھی نہیں کیا، بلکہ صدرِ اوّل میں تو یہ سوال زیر بحث رہا ہے کہ ایک سال میں ایک سے زائد بار عمرہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ 36

حافظ ابن قیم الجوزیہ کہتے ہیں:

’’رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر کبھی کوئی عمرہ مکہ مکرمہ سے باہر نکل کر نہیں کیا، جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ عام طور پر کرتے ہیں۔آپ نے اپنے سب عمرے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہوئے کیے ہیں۔نزولِ وحی کے بعد آپ 13 سال تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے،لیکن ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ جس سے ثابت ہو کہ اِس ساری مدت میں مکہ سے باہر جا کر بھی آپ نے کبھی کوئی عمرہ کیا ہو۔آپ نے جو عمرہ کیا ہے اور جسے مشروع فرمایا ہے ، وہ مکہ میں داخل ہونے والے کا عمرہ ہے، نہ کہ ایسا عمرہ کہ آدمی حرم سے باہر نکلے اور پھر عمرہ کی نیت کر کے واپس آجائے۔ آپ کے عہد میں ایسا عمل کبھی کسی نے نہیں کیا، سواے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے، جو حجۃ الوداع کے موقع پر دوسرے تمام صحابہ کی طرح آپ کے ساتھ شریکِ سفر تھیں۔سیدہ نے یہ عمرہ اِس لیے کیا تھا کہ وہ مدینہ منورہ سے آپ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئی تھیں۔ پھر جب مکہ مکرمہ پہنچیں تو وہ ایام سے تھیں، جس کی وجہ سے وہ اپنا عمرہ ادا نہ کرسکیں، یہاں تک کہ حج کے ایام شروع ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں ہدایت کی کہ وہ اپنے عمرے کے اِسی احرام میں حج کی نیت کرلیں اور اُنھیں بتایا کہ حج میں کیا جانے والا اُن کا طواف وسعی اُن کے حج وعمرہ، دونوں عبادات کے لیے کافی ہوگا۔ تاہم حج کے بعد اُن کے دل میں یہ بات آئی کہ مدینہ سے اُن کے ساتھ آنے والی عورتیں حج اور عمرہ، دونوں عبادتوں کو الگ الگ انجام دے کر واپس جائیں گی اور وہ تمتع کی نیت کے با وصف صرف حج کے ساتھ لوٹیں گی۔ چنانچہ اِس پر اُن کی تطییبِ قلب کے لیےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاُن کے بھائی سے کہا کہ وہ اِنھیں تنعیم تک لے جا کر عمرہ کرائیں، لیکن نہ اُنھوں نے خود یہ عمرہ کیا، نہ باقی صحابہ میں سے کسی نے۔ ‘‘37

روایاتِ باب کو جمع کر کےسیدہ عائشہ کے اِس واقعے کی تفصیل سے معلوم ہوتا کہ سیدہ اُس موقع پر مدینہ منورہ سے آپ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئی تھیں۔ پھر قافلے کے ساتھ جب مکہ مکرمہ پہنچیں تو وہ ایام سے تھیں، جس کی وجہ سے وہ اپنا عمرہ ادا نہ کرسکیں اور نتیجتاً احرام بھی نہ کھول پائیں، یہاں تک کہ حج کے ایام شروع ہوگئے اور اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق تمام حجاج کے ساتھ اپنے اُسی احرام میں حج ادا کیا جو وہ عمرہ کی نیت سے باندھ کر مکہ آئی تھیں۔ حج کے بعد اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، کیا آپ سب حج اور عمرہ ،دونوں کی ادائیگی کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس ہوں گی؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: عائشہ، اللہ کے ہاں تمھیں وہی کچھ ملے گا جو اِن سب کو ملے گا۔ پھر سیدہ عائشہ نے کہا: (اے اللہ کے رسول) ،میرے دل میں یہ بات آ رہی ہے کہ میں نے حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ (چنانچہ سیدہ کے اصرار کو دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بھائی سے کہا: عبد الرحمٰن، تم اِنھیں لے کر جاؤ اور تنعیم سے لا کر عمرہ کراؤ۔38

اِس سارے معاملے میں بھی آپ دیکھیں کہ اِس عمرہ کے لیے سیدہ کو آپ سے اجازت لینی پڑی ہے۔ مکہ مکرمہ میں ٹھیرے ہوئے اِس طرح عمرہ کرنا اگر دین میں پہلے سے کوئی مشروع اور پسندیدہ عمل ہوتا تو سیدہ کو آپ سے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ پھر طلبِ اجازت اور اصرار کی اصل وجہ وہ عمرہ تھا جس کا احرام باندھ کر وہ مدینہ سے روانہ ہوئی تھیں، لیکن معذوری کی بنا پر ادا نہ کرسکی تھیں، جب کہ آج کل جو لوگ مکہ میں قیام کے دوران میں بار بار عمرہ کرتے ہیں، اُن کے پاس ایسی کوئی وجہ بھی قطعاً نہیں ہوتی۔ سیدہ کو اتفاق سے یہ صورتِ حال پیش نہ آئی ہوتی تو بالبداہت واضح ہے کہ اِس عمرہ کا خیال بھی اُن کے دل میں نہ آتا، جیسا کہ معلوم ہے کہ اُس حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود دوسرے صحابہ نےعمرہ کے لیے کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔

پھر واقعہ یہ ہے کہ اِس موقع پر سیدہ کے بھائی عبد الرحمٰن، جن کے ساتھ احرام باندھنے کے لیے وہ تنعیم تک گئی ہیں اور جن کے لیے بہ ظاہر موقع تھا کہ وہ بھی عمرہ کر لیں، اپنی دینی بصیرت کی بنیاد پر خود اُنھوں نے بھی اِسے اپنے لیے کوئی مشروع ومندوب عمل نہ سمجھا۔ چنانچہ روایتوں سے معلوم ہے کہ سیدہ کے ساتھ اُنھوں نے عمرہ نہیں کیا۔

سیدہ عائشہ کے اِس واقعہ سے زیادہ سے زیادہ جو بات اخذ کی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ حج کے سفر میں اگر کسی عورت کو وہی صورت ِحال پیش آجائے جو سیدہ عائشہ کو اتفاقاً پیش آگئی تھی اور وہ چاہتی ہو کہ جس عمرہ کی نیت سے وہ اپنے وطن سے نکلی تھی، اُسے ادا کر کے جائے تو انفرادی طور پر اُس عورت کے لیے کوئی حرج کی بات نہیں ہوگی کہ وہ حج کے بعد اپنا چُھوٹا ہوا وہ عمرہ ادا کر لے۔ سب مسلمانوں کے لیے بغیر کسی عذر کے سیدہ کے اِس عمرے میں کوئی اُسوہ ہوتا تو سب سے پہلے اُسی زمانے کے مسلمان اِس پر عمل پیرا ہوتے۔اِس واقعے کی روشنی میں یہی موقف شیخ ناصر الدین البانی نے اختیار کیا ہے۔ 39

اِس ساری بحث سے یہ بات متحقق ہوتی ہے کہ قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی رو سے مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے یکے بعد دیگرے عمرہ کرنا ایک غیر مشروع اور خلافِ سنت عمل ہے؛ اِس لیے کہ جس نفل عبادت کی تکرار کو خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول یا فعل سے مسلمانوں کے لیے پسندیدہ قرار نہ دیا ہو اور آپ کے صحابہ کا بھی اُس پر عمل نہ ہو، وہ دین میں مندوب ومشروع نہیں ہوسکتی۔یہی راےامام ابن تیمیہ، شیخ ناصر الدین البانی، شیخ محمد بن صالح عثیمین اور استاذ جاوید احمد غامدی صاحب نے اختیار کی ہے۔40

اتنی بات، البتہ درست ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی کام سےحرمِ مکی سے باہر چلا جاتا ہے، کسی دوسرے شہر کا قصد کرتا ہے یا مدینہ منورہ کا سفر کرتا ہے اور پھر دوبارہ بیت الحرام کا قصد کرتے ہوئے وہ عمرہ کی نیت کر کے احرام کے ساتھ داخل ہوتا اور اِس طرح عمرہ کرتا ہے، جیسا کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سےمکہ میں داخل ہو کر کیا تھا، تو اِس طرح عمرہ کرنے میں کوئی چیز خلافِ سنت نہیں ہے۔

12۔حج وعمرہ میں طوافِ وداع کی حیثیت اور اُس کا حکم

سوال: حج یا عمرہ میں طوافِ وداع کے بارے میں بتائیے، یہ طواف کب کیا جاتا ہے؟ کیا یہ مناسکِ حج وعمرہ کا حصہ ہے؟ کیا یہ حاجی اور معتمر، دونوں پر واجب ہے؟ حاجی طوافِ وداع ترک کردے تو کیا اُس پر دَم واجب ہوگا؟

جواب: حجاج اپنے وطن واپسی کے موقع پر بیت الحرام سے رخصت ہوتے ہوئے جو آخری طواف کرتے ہیں، اصطلاح میں اُس طواف کو ’طواف الوداع‘، یعنی الوداعی طواف کہا جاتا ہے۔ حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے حجاج کے لیے طوافِ وداع کی تلقین ثابت ہے۔41اِسی طرح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ جو عورتیں ایام سے ہوں، وہ طوافِ وداع کیے بغیر بیت الحرام سے رخصت ہوسکتی ہیں۔42تاہم عمرہ کے سفر سے واپسی پر طوافِ وداع کرنا یا لوگوں کو اِس کی تلقین کرنا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل سے ثابت نہیں ہے؛ اِس کے باوصف کہ حجۃ الوداع کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے۔43

طوافِ وداع کے بارے میں پہلی بات تو یہ جاننا چاہیے کہ یہ طواف حج یا عمرہ کے اپنے مناسک کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حج کا طواف صرف ایک ہی ہے، جو یوم النحر کو حجاج ’طواف الاِفاضۃ‘ یا ’طواف الزیارة‘ کے نام سے کرتے ہیں اور عمرہ کا طواف بھی ایک ہی ہے، جو اُس کا بنیادی رکن ہے۔حج اپنے تمام مناسک کے ساتھ اُس وقت مکمل ہو جاتا ہے جب حجاج ایامِ تشریق میں قیام منیٰ اور رمی جمرات سے فارغ ہوجاتے ہیں، اور عمرہ کے مناسک سَر کا حلق یا قصر کرانے پر اپنے اتمام کو پہنچ جاتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ طوافِ وداع جب اصلاً حج وعمرہ کے مناسک کا حصہ نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حاجی یا معتمر پر لازم بھی کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ جاننا چاہیے کہ باہر کے حاجیوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب کی بنا پر ’طوافِ وداع‘ کی حیثیت ایک نفل اور پسندیدہ طواف کی ہے ۔

اِس میں عورتوں کے لیے بیانِ رخصت سے بھی صاف واضح ہے کہ یہ طواف حجاج کے لیے کوئی لازمی طواف نہیں ہے، بلکہ تطوع ہے۔ یہ اگر لازم ہوتا تو ’طواف الافاضۃ‘ کی طرح اِس کو کر کے جانا ہی لازم ہوتا، لہٰذا اِس کو ترک کرنے پر کوئی دَم یا فدیہ بھی واجب نہیں ہوتا، جیسا کہ امام مالک ، امام داؤد، ابن منذر،فقہاے مالکیہ اور بعض شافعیہ نے اِس کی صراحت کی ہے۔44

تیسرے یہ کہ عمرہ کے سفر سے واپسی پر بھی ’طوافِ وداع‘ کرنا یا لوگوں کو اِس کی تلقین کرنا اگرچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل سے ثابت نہیں ہے،تاہم اِس کے باوجود نفل طواف کرنا بجاے خود چونکہ ایک مشروع وثابت عمل ہے، لہٰذا آفاقیوں کے لیے عمرہ کے سفر میں بھی بیت اللہ سے رخصت ہوتے ہوئے الوداعی طواف کرنا اُسی طرح ایک مندوب ومستحب عمل ہوگا، جس طرح حرم میں قیام کے دوران میں عام نفل طواف پسندیدہ ہوتا ہے۔طواف کی اِن دونوں صورتوں میں سواے نام کے کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک حرمِ مکی میں قیام کے دوران میں کیا جاتا ہے اور دوسرا رخصت ہوتے ہوئے ’آخری طواف‘ کہلاتا ہے۔

13۔عورت کےایام اور طوافِ حج

سوال: کسی عورت کو طوافِ حج سے پہلے اگر ایام لاحق ہوجائیں اور اپنی فیملی یا گروپ کے ساتھ اُس کی وطن واپسی کا وقت بھی بالکل قریب آگیا ہو تو اِس صورت میں اُس کے لیے کیا حکم ہوگا؟ بہ ظاہر اِس حالت میں وہ نہ بیت اللہ کا طواف کرسکتی ہے اور نہ اُس کے لیے دوبارہ مکہ مکرمہ آ کر طوافِ حج کرنا ممکن ہے، لہٰذا سوال یہ ہے کہ ایسی مشکل اور مجبوری کی صورتِ حال میں وہ اپنے مناسکِ حج مکمل کر کے اپنے قافلے کے ساتھ وطن کیسے روانہ ہو؟

جواب: دیکھیے، شریعت میں یہ تو بالکل متعین ہے کہ حالتِ حیض میں عورت نماز نہیں پڑھ سکتی، کیونکہ اِس کے لیے پہلی شرط حیض سے پاکیزگی ہے اور دوسری شرط وضو کر لینا ہے۔ اور جب تک وہ پہلی شرط پوری نہیں کرتی، دوسری شرط بھی بالبداہت واضح ہے کہ پوری نہیں ہو سکتی۔

اب جب وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تو یہ اِسی حکم کا نتیجہ ہے کہ وہ نماز کی جگہوں پر، یعنی مساجد میں بھی نہیں جاسکتی، جیسے مثال کے طور پر حالتِ جنابت میں کوئی مرد یا عورت مسجد میں نہیں ٹھیر سکتی۔ اب ایک طرف آپ اِس دوسرے حکم، یعنی مسجد میں جانے کی پابندی کو دیکھیے اور دوسری طرف بیت اللہ کو دیکھیے، جس کے گرد طواف کیا جاتا ہے۔ خدا کا یہ گھر نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ اولین اور قدیم ترین مسجد ہے، بلکہ دنیا کی تمام مساجد میں اِس کی مرکزیت، شرف اور تقدس بھی سب سے بڑھ کر ہے، لہٰذا حالتِ حیض میں عورت جب کسی عام مسجد میں نہیں جاسکتی تو مسجدِ حرام میں کیسے جاسکتی ہے،اور جب وہ وہاں جا نہیں سکتی تو اِس کے نتیجے میں بالبداہت واضح ہے کہ طواف بھی نہیں کر سکتی۔ یہ ہم نے اصل حکم کی تنقیح کی ہے کہ حالتِ حیض میں اصل مانع شرعی طواف کا عمل بہ ذاتِ خود نہیں ہے، بلکہ مقامِ طواف، یعنی مسجدِ حرام میں کعبۃ اللہ کے جوار میں اِس کی ادائیگی در اصل مانع ہے۔ اور واضح رہے کہ اِس حکم کا تعلق صرف حج وعمرہ کے طواف سے نہیں ہے، بلکہ اِس حالت میں نماز پڑھنے اور مساجد میں جانے کی ممانعت ایک عام شرعی حکم ہے۔

علاوہ ازیں، عورت کا حالتِ حیض میں ہونا شرعاً اِس کو حج وعمرہ کے مناسک میں سے کسی دوسرے منسک سے بالکل نہیں روکتا؛ اِس لیے کہ حج وعمرہ کی عبادات کے لیے اسلامی شریعت نے حیض یا نفاس سے طہارت کو شرط قرار نہیں دیا۔یعنی اِس حالت میں وہ حج وعمرہ کا آغاز بھی کر سکتی ہے اور شروع کرنے کے بعد اگر ماہواری آجائے، تب بھی وہ تمام مناسکِ حج یا عمرہ دوسرے لوگوں کی طرح بلا تردد ادا کرسکتی ہے، سواے دو اعمال کے: ایک طوافِ بیت اللہ اور دوسرے نماز۔نماز کی ممانعت کا حکم عام ہے، مناسک حج وعمرہ سے اِس کا براہِ راست تعلق نہیں ہے اور طواف کی پابندی کی وجہ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، اِس عمل کا مسجدِ حرام میں ہونا ہے، ورنہ اِس حالت میں بھی عورت تلبیہ پکارے گی، احرام کی تمام پابندیوں کا خیال رکھے گی، قیام منیٰ، وقوفِ عرفہ،وقوفِ مزدلفہ، رمی جمرات، قربانی، بالوں کا قصر کرانا اور یہاں تک کہ صفا ومروہ کی سعی کرنے میں بھی حائضہ کے لیے کوئی شرعی مانع نہیں ہے، اِس لیے کہ مسعٰی کی عمارت آج کی تعمیر میں بھی مسجدِ حرام کے احاطے سے خارج شمار کی جاتی ہے، جیسے مثال کے طور پر مسجدِ حرام کی عمارت کے باہر کے صحن ہیں، جہاں لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں۔

حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد یہی صورتِ حال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیش آگئی تھی، چنانچہ اِسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تم جب تک حیض سے پاک نہیں ہوجاتی، بیت اللہ کے طواف کے سوا باقی ہر وہ عمل کرسکتی ہو جو ایک حاجی کرتا ہے۔45

یہاں جملۂ معترضہ کے طور پر ایک بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حج وعمرہ میں اِس طرح کی صورتِ حال سے بچنے کے لیے اور اپنے تمام مناسک بغیر کسی شرعی رکاوٹ کے بر وقت ادا کرنے کی غرض سے جو عورتیں کوئی طبی تدبیر اختیار کرلیں، یعنی اپنے طبیب سے ایسی کوئی دوا لے لیں جو ماہواری کے آنے میں مانع ہوجائے یا جاری حیض جلد منقطع ہوجائے تو اِس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے دور کے بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں بھی اِس طرح کےبعض طبی طریقے اختیار کیے جاتے اور بعض صحابہ وتابعین سے اِس بارے میں سوال بھی کیا جاتا تھا۔ چنانچہ اُنھوں نے بھی اِس پر نہ صرف یہ کہ کوئی نکیر نہیں کی، بلکہ تصویب فرمائی تھی۔46

مزید یہ بھی جاننا چاہیے کہ طوافِ وداع ایک نفل طواف ہے، جو حج یا عمرہ کے اپنے مناسک کا حصہ نہیں ہے۔ اور جو خواتین ایام سے ہوں، وہ یہ طواف کیے بغیر بھی اپنے وطن واپس جا سکتی ہیں۔ اِس حالت میں عورتوں کو طوافِ وداع کے بغیر چلے جانے کی رخصت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد سے ثابت ہے ۔47

تاہم حج کا طواف تو بہرحال لازم ہے۔ اگر پاکیزگی کی حالت لوٹ آنے تک عورت کے لیے مکہ مکرمہ میں قیام ممکن ہو تو لازماً وہ طُہر کی حالت لوٹ آنے تک انتظار کرے گی اور پھر غسل کر کے طوافِ افاضہ کرے گی۔ ایسی عورت کے لیے، ظاہر ہے کہ کوئی رخصت نہیں ہے۔

جو عورت، البتہ پاکیزگی کی حالت لوٹ آنے تک انتظار نہیں کرسکتی، اپنے قافلے کے ساتھ اُس کا جانا ضروری ہے، لیکن وہ کسی دور دراز کے علاقے سے بھی تعلق نہیں رکھتی، بلکہ قریب کے کسی شہر سے آئی ہے اور طوافِ حج کے لیے دوبارہ سفر کر کے واپس مکہ مکرمہ آسکتی ہے تو ایسی عورت پر بھی جس طرح واپس آ کر یہ طواف کرنا لازم ہے، اُسی طرح اُسے یہ بات بھی اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ جب تک وہ دوبارہ مکہ آکر اپنا طوافِ حج نہیں کر لیتی، نہ صرف یہ کہ شرعاً اُس کا حج نا مکمل سمجھا جائے گا، بلکہ اِس عرصے کے دوران میں احرام کی ایک سب سے بڑی پابندی بھی اُس پر عائد رہے گی۔ اور وہ یہ کہ اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو اِس دورانیے میں وہ نکاح نہیں کر سکتی اور اگر شادی شدہ ہے تو واپس آکر طوافِ حج کر لینے تک وہ اپنے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم نہیں کرسکتی۔ تاہم اِس کے بجاے اگر وہ طوافِ حج کے بغیر، احرام کی اِن مذکورہ پابندیوں سے نکلنا چاہے تو حالتِ احصار کے حکم کے تحت وہ حرم میں ایک جانور قربان کر کے حلال ہوسکتی ہے، لیکن اِس صورت میں اُس کا یہ حج غیر ادا شدہ شمار ہوگا۔ اگر یہ اُس کا فرض حج تھا تو استطاعت کی صورت میں حج کی فرضیت اُس پر باقی رہے گی۔

لیکن جو حائضہ عورت مکہ مکرمہ میں مزید قیام بھی نہیں کر سکتی؛ قافلے کے ساتھ اُس کا جانا ضروری ہے، اپنی فلائیٹ بھی وہ کسی صورت میں موخر نہیں کرا سکتی اور اپنے وطن سے دوبارہ سفر کر کے واپس مکہ آنے کی استطاعت بھی وہ نہیں رکھتی؛ یہ صورتِ حال ایسی ہے کہ جس کو معمول کی حالت نہیں کہا جاسکتا، بلکہ یہ ایک تنگی، مشکل اور مجبوری کی صورتِ حال ہے۔ لہٰذا متحقق راے کے مطابق اِس صورت میں وہ عام حکم عورت پر لاگو نہیں ہوگا جو اوپر بیان ہوا ہے کہ ’طوافِ افاضہ‘ بہرحال کر کے ہی جانا ہوگا، بلکہ ایسی صورتِ حال میں عورت کو ایک رخصت حاصل ہوجائےگی۔

اِس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کا اپنا مزاج یہ ہے کہ اِس طرح کی مشکل، تنگی اور معذوری میں وہ انسانی حالات کی رعایت کرتی، تنگی کو دور کرتی اور آسانی کا حکم دیتی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر سفر یا مرض کی وجہ سے رمضان کا روزہ رکھنا آدمی کے لیے مشکل ہوجائے تو شریعت نے رخصت دی ہے کہ ایسی صورت میں روزہ چھوڑ دیا جائے۔ اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بھی بیان فرمایا ہے کہ”اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اورنہیں چاہتا کہ تمھارے ساتھ سختی کرے“۔48ایک مقام پر قرآن کا ارشاد ہے کہ”اللہ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“۔49اِسی طرح ارشاد فرمایا ہے کہ”اور (جو) شریعت (تمھیں عطا فرمائی ہے، اُس) میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے“۔50وضو یا غسل کرنا مشکل ہوجائے تو تیمم کی رخصت دے کر فرمایا کہ”اللہ تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا“۔51دین وشریعت میں آسانی اور رفع حرج کا ضابطہ واضح کرنے کے لیے یہاں قرآنی بیانات کی یہ مثالیں بیان کرنا کافی ہے، ورنہ اسلامی شریعت کے احکام سے رخصت دینے، آسانی پیدا کرنے اور رفعِ حرج کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

چنانچہ واضح ہوا کہ شریعتِ اسلامی نہ صرف یہ کہ انسانی حالات کی رعایت کرتی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کےلیے آسانی، سہولت اور رفع حرج چاہتا ہے۔ اُنھیں سختی، تکلیف اور تنگی میں ڈالنا خدا کو مطلوب نہیں ہے۔

دین کا یہی ضابطہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی واضح ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: بلا شبہ دین آسان ہے ۔ 52اِسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ”لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، اُنھیں مشکل میں نہ ڈالو اور اُنھیں اطمینان دلاؤ، اُن کوبھگاؤ نہیں“۔53 آپ کا ارشاد ہے کہ”اللہ تعالیٰ نے اِس امت کے لیے آسانی کو پسند فرمایا اور مشکل کو نا پسند کیا ہے۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی“۔54

لہٰذا قرآن وحدیث کے مذکورہ بالا ضابطے کی رو سے ایسی حائضہ عورت کے لیے جو مکہ مکرمہ میں رُک کر اپنی پاکیزگی کا انتظار کر سکتی ہے، نہ اُس کے لیے دوبارہ اپنے وطن سے واپس مکہ آنا ممکن ہے؛ تنگی اور سختی کا کوئی حکم نہیں ہوگا، بلکہ اُس کے لیے اِس مشکل اور معذوری کی بنا پر حیض سے پاک ہونے کی شرط ساقط ہوجائے گی(إذ الضرورة تبيح المحظور)۔ اور وہ اپنے وطن روانگی سے پہلے اِسی حالت میں اپنے لباس میں احتیاط کا ایسے اہتمام کر کے مسجدِحرام میں اِس طرح داخل ہو کہ اُس کے خون سے مسجدِ حرام کی آلودگی کا بالکل کوئی امکان باقی نہ رہے اور اِس طرح وہ ’طوافِ افاضہ‘ کر کے اپنے مناسکِ حج مکمل کر لے۔ شریعت کی رو سے اِس طرح کی معذوری ومجبوری میں اُس کے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا۔ اِس طرح کی صورتِ حال کسی عورت کو اگر عمرہ کے سفر میں پیش آجائے تو طوافِ عمرہ کا حکم بھی یہی ہوگا۔ علما وفقہا میں یہ موقف امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم نے اختیار کیا ہے۔اور اِسی قول پر سعودی عرب کے علما کی دائمی کمیٹی، دار الافتاء المصریۃ، شیخ عبد العزیز بن باز، علامہ ابن عثیمین، ڈاکٹر خالد مصلح اور دوسرے بہت سے علما ومحققین نے فتویٰ دیا ہے۔55

14۔ عورت اپنے ایام میں بیت اللہ کا طواف کیوں نہیں کرسکتی؟

سوال:دین میں یہ معلوم ہے کہ آدمی حالتِ جنابت میں اور ماہواری کی حالت میں عورت عدمِ طہارت کی بنا پر نماز نہیں پڑھ سکتی، لیکن حالتِ جنابت یا حیض میں نماز پڑھنے کی ممانعت سے یہ نتیجہ شریعت میں کیسے نکلا کہ عورت اِس حالت میں نماز کی جگہ پر بھی نہیں جا سکتی؟ لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین میں اِس حکم کا ماخذ کیا ہے؟

جواب: حالتِ جنابت میں آدمی نماز کی جگہوں، یعنی مساجد میں نہیں جاسکتا، الاّ یہ کہ مسجد سے صرف گزرنا پیشِ نظر ہو؛ یہ قرآنِ مجید کا منصوص حکم ہے۔56 پھر اِسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کے علاوہ حائضہ عورتوں کو بھی مساجد میں داخلے سے منع فرمایا۔ اِس مضمون کی متعدد روایتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی حیثیت سے ثابت ہیں۔ مثال کے طور پر عورتوں کو آپ نے تلقین فرمائی کہ عید کی نماز میں وہ ضرور حاضر ہوں، بلکہ جو عورتیں حیض سے ہوں، وہ بھی کم از کم خطبہ سننے کے لیے آئیں، البتہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔57اِسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر حالتِ حیض میں سیدہ عائشہ کو آپ نے جو فرمایا ہے کہ تم طواف کے سوا حج کے باقی سارے مناسک ادا کرسکتی ہو؛ یہ بھی قرآن کے مذکورہ بالا منصوص حکم ہی کی بنیاد پر فرمایا ہے۔ غور کیجیے کہ جب اِس حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا ومروہ کی سعی کی اجازت دے رہے ہیں اور طواف کی ممانعت فرما رہے ہیں تو اِس سے یہ بات بالبداہت واضح ہوجاتی ہے کہ دونوں کے حکم میں فرق کی اصل وجہ مناسک بہ ذاتِ خود نہیں ہیں، بلکہ اِن کے مقام کا فرق ہے۔ یعنی ایک مسجد میں ادا ہوتا ہے اور دوسرا غیر مسجد میں۔ خود مناسک کے لیے حیض سے پاکیزگی حاصل کرنا لازم ہوتا تو پھر سعی اور دوسرے تمام مناسک کے لیے بھی یہ لازم ہونا چاہیے تھا، جب کہ اِس پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ طواف کے سوا مناسکِ حج وعمرہ کے کسی منسک کے لیے نہ حیض سے طہارت حاصل کرنا شرط ہے اور نہ با وضو ہونا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشادات اور حکم سے علما وفقہا نے بجا طور پر سمجھا ہے کہ حائضہ کی نجاست چونکہ جنبی ہی کے درجے کی یا اِس سے بھی اوپر کی ہے؛ اِسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کا الحاق جنبی سے متعلق مندرجہ بالا قرآنی حکم سے فرمایا ہے۔ لہٰذا ، اس لیے مسجد میں جانے اور ٹھیرنے کے حوالے سے جنبی اور حائضہ، دونوں کا حکم یکساں ہے۔

15۔حائضہ کے لیے صفا ومروہ کی سعی کا حکم

سوال:کیا ماہواری کی حالت میں عورت حج یا عمرہ کے مناسک میں صفا ومروہ کی سعی کر سکتی ہے؟ کیا مسجد الحرام کی حالیہ عمارت میں صفا ومروہ اور اِن کے مابین کی ساری عمارت مسجدِ حرام کا حصہ ہے یا نہیں؟

جواب:اِس سوال کے حوالے سے پہلی بات تو یہ جاننا چاہیے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صفا ومروہ کی سعی کے بارے میں اِس طرح کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا، اِس لیے کہ اُس زمانے میں صفا ومروہ کی پہاڑیوں پر مسجد کی کوئی عمارت نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ یہ پہاڑیاں اور اِن کے مابین کی ساری جگہ بھی بالکل کھلے آسمان کے تلے ہوا کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حالتِ حیض میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ کو صرف طوافِ بیت اللہ سے روکا اور باقی تمام مناسک معمول کے مطابق ادا کرنے کی تلقین فرمائی، جن میں صفا ومروہ کی سعی بھی، بالبداہت واضح ہے کہ شامل تھی۔

آج کے زمانے میں یہ سوال اِس لیے پیدا ہوتا ہےاور ہونا چاہیے کہ اب مسعٰی کی ساری عمارت بھی بہ ظاہر مسجدِ حرام ہی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔لہٰذا یہ اگر اب مسجدِ حرام کے احاطے میں آتی ہے تو اِس صورت میں حائضہ عورتیں مسعٰی کی عمارت میں بھی داخل نہیں ہو سکتیں اور نتیجتاً اِس حالت میں صفا ومرہ کی سعی بھی اِن کے لیے ممنوع قرار پاتی ہے، لیکن یہ حصہ اگر آج بھی احاطۂ مسجدِ حرام میں شامل نہیں ہے تو اِس صورت میں تمام عورتوں کے لیے ہر حال میں سعی جائز ہوگی، لیکن ہمارے لیے لازم ہوگا کہ ہمارے پاس اِس بات کی دلیل موجود ہو کہ مسعٰی کی عمارت مسجدِ حرام سے خارج ہے۔اِس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

جہاں تک مسعٰی کی موجودہ عمارت کا تعلق ہے تو اِس کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ یہ اپنی اولین صورت میں 1375 ھ میں سعودی عہد ہی میں بنائی گئی، جس کے بعد تدریجاً اِس عمارت میں بہتری اور اضافے کیے جاتے رہے ہیں۔ اِس سے پہلے زمانۂ قدیم میں صفا ومروہ کی پہاڑیاں اور اُن کے مابین کا مسعٰی مسجدِ حرام سے بالکل الگ اور کھلے آسمان کے نیچے ہوا کرتا تھا اور اِن دونوں پہاڑیوں کے درمیان کا ایک حصہ نشیبی بھی تھا، جہاں پہنچ کر ڈھلان کی وجہ سے سعی کرنے والوں کی چال تیز ہو جایا کرتی تھی۔ مسجدِ حرام اُس زمانے میں چھوٹی تھی اور مسعٰی اور مسجد کے درمیان کے حصے میں لوگوں کے گھر، عمارتیں، دکانیں اور مدارس بھی موجود تھے۔ سعودی عہد میں اربابِ حل وعقد نے یہ جگہیں مالکان سے خرید کر منہدم کردیں اور پھر بیت اللہ کی اِسی مشرقی سمت میں مسجدِ حرام کی بھی توسیع کر کے اُسے بڑا کردیا اور مسعٰی پر باقاعدہ عمارت تعمیر کر دی تا کہ سعی کرنے والوں کو دھوپ اور گرمی سے تحفظ حاصل ہو اور اُن کے لیے سہولت پیدا کی جائے، اور ساتھ ہی مسعٰی کو مسجد حرام سے منفصل رکھنے کے لیے علامت کے طور پر دونوں کے مقامِ اتصال پر ایک چھوٹی دیوار بھی کھینچ دی ہے تا کہ یہ واضح رہے کہ مسعٰی مسجد کا حصہ نہیں ہے۔

تاہم اِس کے باوجود اہل علم میں یہ بحث پیدا ہوئی کہ مسعٰی کا اِس طرح مسجدِ حرام کی عمارت کے ساتھ متصل ہو جانا کیا اِس کو مسجد کے حکم میں شامل کرتا ہے یا نہیں؟

یہ قضیہ 20 /شعبان 1415ھ کو رابطۂ عالم اسلامی کے زیر اہتمام’ مجمع الفقہ الاسلامی‘ کے ایک اجتماع میں علما کے مابین زیر بحث لایا گیا، جس کی صدارت مفتی السعودیہ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے کی تھی۔ اُس مجلس میں بعض اہل علم کا کہنا تھا کہ بہ ظاہر مسجدِ حرام کی عمارت سے متصل ہوجانے کی بنا پر یہ مسعٰی اب مسجد ہی کے حکم میں شامل ہے، لہٰذا اب اِس پر مسجد ہی کے احکام لاگو ہوں گے، مثلاً اب جنبی اور حائضہ مسعٰی میں بھی داخل نہیں ہو سکیں گے، جب کہ یہ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد میں حائضہ عورتوں کو سعی سے منع نہیں فرمایا۔

دوسری طرف علما کے اِس اجلاس میں اکثر اہل علم نے یہ راے پیش کی کہ مشاعرِ حج وعمرہ میں صفا ومروہ کی پہاڑیاں اور اِن کے مابین کا مسعٰی ایک الگ اور مستقل ’مشعر‘ ہے، لہٰذا اِس شعیرہ کا اپنا جو حکم زمانۂ قدیم سے تھا، وہی رہے گا اور یہ مسجدِ حرام کا جس طرح پہلے کبھی حصہ نہیں رہا، اب بھی نہیں ہوسکتا، چنانچہ اِس پر مسجد کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔ یعنی حائضہ آج بھی اِس میں داخل ہوسکتی اور ’سعی‘ کر سکتی ہے۔ اِسی طرح جنبی کے وہاں داخل ہونے اور ٹھیرنے میں بھی کوئی شرعی مانع نہیں ہے۔ مسجدِ حرام سے اِس کی عمارت کا ظاہری اتصال خود مسجد کی توسیع کی وجہ سے ہوا ہے اور مسعٰی پر عمارت کی تعمیر اور اِس کے پورے فرش کو سیدھا(Flat track) صرف سعی کرنے والوں کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔ اکثر علما کی راے کے مطابق اِس اجلاس میں اِسی دوسرے موقف پر فیصلہ صادر کیا گیا کہ مسعٰی کی عمارت نہ مسجدِ حرام کا حصہ شمار ہوگی اور نہ اِس پر مسجد کے احکام لاگو ہوں گے۔58

لہٰذا تمام عورتوں کے لیے ہر حال میں صفا ومروہ کے پاس جانا اور اِن کے مابین سعی کرنا زمانۂ قدیم کی طرح آج بھی جائز ومباح ہے۔

16۔وقوفِ مزدلفہ کی رات میں منیٰ چلے جانے کا حکم

سوال:عرفات سے واپسی پر حجاج کو بہت تھکان لاحق ہوتی ہےاور مزدلفہ کے میدان میں شدید ازدحام بھی ہوتا ہے۔چنانچہ اِس رات میں کوئی حاجی فجر ہونے سے پہلے کیا مزدلفہ چھوڑ کر منیٰ کے لیے روانہ ہوسکتا ہے؟

جواب: اِس باب میں سنت یہی ہے کہ حجاج اِس رات کو مزدلفہ میں وقوف کریں اور فجر کے بعد دعا ومناجات کر کےجب صبح روشن ہونے لگے تو منیٰ کے لیے کُوچ کریں۔ تاہم جن حجاج کا کوئی عذر ہو؛ عورتیں، بوڑھے اور بچےہوں تو ایسی صورت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہے کہ عذر رکھنے والے حجاج رات کے دوران میں بھی مزدلفہ سےکوچ کر کے منیٰ کے لیے روانہ ہو سکتے ہیں تا کہ یوم النحر کی صبح وہ ازدحام سے بچتے ہوئے اپنے مناسک ادا کرسکیں۔59

17۔رمی کے اوقات میں رفع حرج اور آسانی

سوال: کیا حجاج کے لیے یوم النحر اور ایام التشریق میں رمی کرنے کے اوقات کی ابتدا اور انتہا شریعت میں متعین ہے؟ کیا یوم النحر کو طلوعِ آفتاب سے پہلے اور ایام تشریق میں زوال سے قبل رمی کرنا جائز نہیں ہے ؟

جواب:اسلامی شریعت میں جمرات کی رمی کے لیےباقاعدہ ایسا کوئی قانون بیان نہیں ہوا ہے،جس میں حجاج کے لیے اِن ایام میں اوقاتِ رمی کے آغاز وانتہا کی تحدید کردی گئی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی ایسی کوئی حدیث کہیں منقول نہیں ہے۔ اِس باب میں جو بات آپ کی نسبت سے مروی ہے، وہ صرف آپ کا اُسوہ ہے، جس میں یہ نقل ہوا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر یوم النحر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت اور ایام تشریق میں تینوں جمرات کی رمی زوال کے بعد کی تھی۔60 آپ کے اُسوہ کی اِس روایت سے بہت سےفقہا نے اپنے فہم واجتہاد سے یہ حکم اخذ کرلیا ہے کہ حجاج کے لیے یوم النحر کو طلوع آفتاب سے پہلے اور ایام تشریق میں زوال سے قبل رمی کرنا جائز نہیں ہے۔ یعنی جن اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی کی تھی، اُن کو بہت سے فقہا نے اپنے فہم سے وقتِ رمی کا آغاز قرار دے دیا ہے، اور اِسی طرح غروبِ آفتاب کو وقتِ رمی کی انتہا قرار دیا ہے اور اِس کےلیے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ اِس وقت دن اپنے اختتام کو پہنچتا ہے،لہٰذا اِس دن کی رمی کا وقت بھی اِس کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ ،نہ اوقاتِ رمی کے آغاز کی کوئی صراحت کرتا ہے اور نہ قرآن وسنت یا کسی حدیث کی صریح نص سے یہ بات ثابت کی جاسکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رمی کے وقت سے پہلے اور غروبِ آفتاب کے بعد یہ عمل اپنے وقت پر شمار نہیں کیا جائے گا،لہٰذا اِس خلاف ورزی پر قربانی واجب ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے، وہ بس یہ ہے کہ آپ نے اپنی رمی اِن اوقات میں کی تھی، جس طرح حجۃ الوداع ہی کی روایتوں سے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرنے کے بعدقربانی کی،سر کا حلق کرایا، احرام کھول لیا اور پھر آپ نے مکہ پہنچ کر طوافِ افاضہ کیا ۔ 61 کیااِس سے کوئی شخص یہ استدلال کرسکتا ہے کہ تمام حجاج کے لیے قربانی ، حلق اور طوافِ افاضہ کے مناسک کا وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقات کے مطابق شروع ہوتا اوریوم النحر ہی کو غروب آفتاب پر ختم ہوجاتا ہے۔بالبداہت واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی اِس روایت سے ایسا استدلال کرنا علمی لحاظ سے کسی طرح بھی درست نہ ہوگا۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ رمی کے بعد کے اِن مناسک کے لیے ابتدا وانتہاے وقت کی تعیین وتحدید ہمارے فقہا نہیں کرتے، بلکہ اِن مناسک کی ادائیگی اور اِن کے اوقات میں وسعت مانتے ہیں، دراں حالیکہ سب کی نوعیت ایک ہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی جمرۂ عقبہ کے بعد اُسی دن میں یہ سب مناسک ادا کیے ہیں۔لہٰذا فقہا کے روایتی موقف پر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اِن سب مناسک میں اپنے فہم واجتہاد سے اوقات کی تحدید نہیں کی گئی ہے تو رمی میں یہ کس اساس پر کی گئی ہے؟

حجاج کے لیے اوقاتِ رمی کی ابتدا وانتہا کا اگر کوئی واجب الاتباع قانون ہوتا تو اِسے لازماً مآخذِ شریعت میں شارع سے براہِ راست ثابت ہونا چاہیے تھا۔یوم النحر کو طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرنا، ایام تشریق میں زوال سے پہلے رمی کرنا اور غروب آفتاب کے بعد رمی کرنا اگر شرعاً جائز نہیں ہےاور اِس خلاف ورزی پر قربانی لازم ہوگی تو اِس حکم کا کوئی ماخذ ہوسکتا ہے تو وہ صرف شارع ہی کی ہستی ہے، جن کے استناد وصراحت کے بغیر اپنے فہم واجتہاد کی بنا پر تمام حجاج کے لیے اِس طرح صرف اوقاتِ رمی کی تحدید کرنا اور مسلمانوں کو اِس کا پابند کرنا علمی لحاظ سے درست نہیں ہے ،اِس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حجاج پر اِس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں فرمائی،بلکہ اِس کے برعکس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی یوم النحر کو منیٰ میں مسلمانوں سے خطاب فرمایا اور لوگوں کے سوالوں کے جواب دیے ہیں۔ اِس موقع پر لوگوں نے اپنے مناسک کی غلطی یا اُن کی ترتیب کے آگے پیچھے ہوجانے کے بارے میں جو سوال بھی کیا، آپ نے جواب میں ایک ہی بات ارشاد فرمائی اور وہ یہ تھی کہ ” حرج کی کوئی بات نہیں ہے، اب کرلو“،یہاں تک کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ، میں نے اپنی رمی شام ہوجانے کے بعد کی ہے۔آپ نے فرمایا: اِس میں حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔62ایک شخص نےبتایا: میں نے قربانی سے پہلے اپنا سر منڈا لیا ہے، آپ نے فرمایا: کوئی حرج کی بات نہیں ہے، اب قربانی کرلو۔63یعنی مناسک کی ادائیگی، اُن کی ترتیب اور اوقات کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اُسوہ کے مطابق ہونے پر کوئی اصرار اور سختی نہیں فرمائی، بلکہ دین وشریعت میں آسانی اور رفعِ حرج کے عمومی ضابطے کے مطابق سب لوگوں کے لیے آپ نے سہولت اور رخصت والا جواب ارشاد فرمایا۔اگر شریعت میں اِن مناسک کی ترتیب کی سختی یا اوقات کی تحدید سے متعلق مسلمانوں کے لیے کوئی خاص قانون ہوتا تو یہ موقع تھا، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجاج کے لیے ضرور اِس کی وضاحت فرمادیتے۔

غرض یہ کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی میں بہ آسانی اُنھی اوقات میں رمی کرتا ہے جن میں آپ نے کی تھی تو بلاشبہ، یہ افضل ہے،تاہم زوال سے پہلے اور غروبِ آفتاب کے بعد بھی رمی کرنا بہرحال جائز ہوگا، جیسا کہ بہت سے قدیم ومعاصر علما وفقہا نے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے۔64اِس کے نا جائز ہونے کی کوئی دلیل شریعت میں موجود نہیں ہے۔علاوہ ازیں ،مزدلفہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بعض لوگوں اور عورتوں کو اجازت دی کہ وہ منیٰ کے لیے کوچ کرجائیں، چنانچہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ اُن میں سے بعض نے فجر سے پہلے اور بعض نے فجر کے بعد جمرۂ عقبہ کی رمی کر لی تھی۔65اِسی طرح بعض روایتوں میں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ بعض چرواہوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، نہ صرف یہ کہ منیٰ میں رات گزارنے سے رخصت دی، بلکہ اُن کو ہدایت فرمائی کہ وہ یوم النحر کو رات کے وقت رمی کر کے چلے جائیں اور ایک دن چھوڑ کر 12/ ذوالحجہ کو واپس آکر باقی دونوں دِنوں کی رمی اکٹھی کرلیں۔66ذرا غور کیجیے کہ اگر رمی جمرات اور اِس کے اوقات میں دین میں ایسی کوئی سختی ہوتی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اِس طرح لوگوں کے لیے اِس باب میں رخصت اور سہولت کو بیان فرماتے ۔آپ نے نہ صرف یہ کہ مناسکِ حج کی ادائیگی اور اِن کے اوقات میں اِس طرح آسانی بیان فرمائی، بلکہ اِس سہولت کے نتیجے میں کوئی فدیہ یا قربانی بھی حجاج پر لازم نہیں کی۔67

18۔منیٰ میں رات گزارنے کا حکم اور اِس میں رخصت

سوال: ایامِ تشریق میں حاجی کے لیے منیٰ میں رات گزارنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایامِ تشریق میں منیٰ میں قیام کرنا اور رات بھی منیٰ ہی کے میدان میں گزارنا مناسکِ حج میں سنت کے طور پر جاری کیا گیا عمل ہے، لہٰذا ہر حاجی کو اِس کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ بلا ضرورت منیٰ سے نہیں نکلنا چاہیے۔ تاہم کسی حاجی کا کوئی عذر ہو تو وہ نہ صرف یہ کہ منیٰ سے نکل کر دوبارہ واپس آسکتا ہے، بلکہ کسی واقعی عذر کی بنا پر وہ مکہ مکرمہ میں رات بھی گزارسکتا ہے۔ رخصت کا یہ حکم خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حجاج کو پانی پلانے کی اپنی ذمہ داری کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ مکرمہ میں رات گزارنے کے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے اُنھیں اِس کی اجازت دی تھی۔68

19۔رمیِ جمرات میں نیابت کا حکم

سوال: کیا جمرات پر کنکر مارنے کا عمل آدمی کسی دوسرے حاجی کے سپرد کرسکتا ہے؟

جواب: بغیر کسی عذر کے ایسا کرنا کسی حاجی کے لیے جائز نہیں ہے۔ہاں، البتہ کوئی حاجی اگر بیمار ہو یا کم زور ہو یا بچہ ہو یاکوئی اور معقول عذر ہو کہ جس کی بنا پر وہ خود اپنی رمی کرنے سے قاصر ہو توایسی صورت میں جمہور علما وفقہا نے بجا طور پر کہا ہے کہ اُسے چاہیے کہ کسی دوسرے حاجی کو اپنا نائب بنا کر اپنی رمی اُسے سونپ دے تا کہ وہ وقت پر کر دی جائے۔کسی کی نیابت میں اِس طرح رمی کرنے والے حاجی کو، البتہ اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ پہلے وہ اپنی رمی کرے اور اِس کے بعد اُس ضرورت مند حاجی کی طرف سے رمی کے کنکر مارے۔ 69

20۔ کیا شریعت میں حج کی تین قسمیں ہیں؟

سوال: کیا اسلامی شریعت میں حج کی تین قسمیں بتائی گئی ہیں؟ یہ قسمیں کون سی ہیں اور اِن میں باہم کیا فرق ہے؟

جواب: اسلامی شریعت نے حج کی کوئی قسمیں مقرر نہیں کی ہیں۔ بیت اللہ کا حج ایک ہی ہے، جو ہر سال ایک مرتبہ ادا کیا جاتا ہے۔ اِس کے مقامات، اِس کی تاریخیں اور اِس کے مناسک شریعت میں بالکل متعین ہیں۔ یہ 8 / ذو الحجہ کو شروع ہوتا اور اِس کے مناسک کی آخری تاریخ 13 /ذو الحجہ ہے۔ خدا کا جو بندہ جانی ،مالی وسفری استطاعت رکھتا ہو تو اُس پر عمر بھر میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض کیا گیا ہے۔

حج کے مناسک اجمالاً حسبِ ذیل ہیں:

میقات سے حج کی نیت کے ساتھ اِس کا احرام

تلبیہ

قیام منیٰ

وقوفِ عرفہ

وقوفِ مزدلفہ

جمرۂ عقبہ کی رمی

حلق یا قصر

بیت اللہ کا طواف مع استلامِ حجرِ اسود

صفا ومروہ کے مابین سعی

تشریق کے دو یا تین دن قیامِ منیٰ

تینوں جمرات کی رمی

حاجی کے لیے گھر سے قربانی کا جانور ساتھ لے کر بیت الحرام جانا مناسکِ حج کا ایک نفلی عمل ہے، لازم نہیں ہے، لیکن کوئی حاجی یہ جانور ساتھ لے کر گیا ہو تو یوم النحر کو حلق یا قصر کرانے سے پہلے اِس کی قربانی کرنی ہوگی۔

اسلامی شریعت میں حج اور اِس کے مناسک ومقامات بالترتیب یہی ہیں،اور اِس میں کوئی قربانی لازم نہیں کی گئی ہے۔ اپنے شوق سے کوئی کرنا چاہے تو ضرور کرے۔ فقہی اصطلاح میں اِس کو ’حج اِفراد‘ کا نام دیا جاتا ہے، جس کا مطلب ’صرف حج ادا کرنا‘ ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ اِس طرح ایک نام اور عنوان دینے سے یہ حج کی اپنی کوئی قسم نہیں بن جاتی، بلکہ یہ تو اصل حج ہی ہے، جو دین ابراہیمی کی روایت سے چلا آرہا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے بیت اللہ سے متعلق دوسری عبادت، یعنی عمرہ کی شریعت کو بھی سمجھ لیجیے۔ یہ ایک نفل عبادت ہے۔ اِس کے لیے شریعت نے کوئی خاص دن یا وقت مقرر نہیں کیا ہے، بلکہ خدا کے بندے پورے سال کے دوران میں جب چاہیں اور جس وقت چاہیں، عمرہ کرسکتے ہیں۔ شریعت میں اِس کے مناسک بالترتیب یہ ہیں:

میقات سے عمرہ کی نیت کے ساتھ اِس کا احرام

تلبیہ

بیت اللہ کا طواف مع استلام حجرِ اسود

صفا ومروہ کے مابین سعی

حلق یا قصر

عمرہ میں بھی گھر سے قربانی کا جانور ساتھ لے کر جانا اِس کے مناسک میں ایک نفلی جز ہے، لازم نہیں ہے،لیکن کوئی عمرہ کرنے والا یہ جانور ساتھ لے کر بیت الحرام آیا ہو تو سعی کے بعد اور حلق یا قصر کرانے سے پہلے اِس کو قربان کرنا ہوگا۔

بیت اللہ کے آفاقی عازمین یہ دونوں عبادات اگر الگ الگ سفر کر کے ادا کریں تو اِن کے مناسک میں اُن پر کوئی قربانی شریعت نے لازم نہیں کی ہے۔ تاہم تطوعاً کوئی قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

اب کوئی آفاقی اپنے حج کے سفر میں مکہ مکرمہ پہنچ کر حج سے پہلے عمرہ بھی کرنا چاہتا ہے تو صرف باہر سے آنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے حج کے سفر میں عمرہ کا فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہے، لیکن اِس طرح فائدہ اُٹھانے پر ایک جانور کی قربانی کی صورت میں فدیہ بھی لازم کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا ہے کہ استطاعت نہ ہو تو قربانی کے بجاے فدیے کے دس روزے رکھنے ہوں گے۔70

حج اور عمرہ، دونوں کو ایک سفر میں اکٹھا کرنے کی یہ جو صورت بیان ہوئی ہے، اِس میں بھی حج اور اِس کے مقامات ومناسک اور اِن کی ترتیب بالکل وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے اور عمرہ بھی اُسی طرح کیا جاتا ہے، جس طرح اِس کی شریعت اوپر ذکر کی گئی ہے۔ دونوں عبادتوں کے لیے احرام بھی الگ الگ اور اپنے اپنے موقع پر باندھا جاتا ہے۔ اور اِن دونوں عبادتوں کے درمیان میں عازم حج کو حالتِ احرام سے ایک وقفہ بھی مل جاتا ہے۔چنانچہ جاننا چاہیے کہ اِس صورت میں اِن دونوں عبادتوں کی ادائیگی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ قطعاً نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حج کی اپنی کوئی نئی قسم وجود میں آگئی ہے۔ فرق صرف یہ واقع ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی رخصت سے ایک آفاقی حاجی فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ دونوں عبادتیں ایک ہی سفر میں جمع کر لیتا ہے۔ تَمتُّع کا لغوی معنی ’فائدہ اُٹھانا‘ہے۔ فقہا کی اصطلاح میں اِس طرح اِن دو عبادتوں کو ایک سفر میں جمع کرنے کو ’حجِ تمتع‘ کا عنوان دیا جاتا ہے، لیکن واضح رہے کہ اِس عنوان سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ حج کی اپنی الگ ایک قسم ہوگئی ہے۔ حج اور عمرہ کو ایک سفر میں جمع کر لیا جائے، تب بھی حج اور عمرہ، دونوں شریعت میں مقرر کردہ اپنی اصل صورت، ترتیب ، مقامات اور اوقات ہی پر ادا کیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں، سفرِ حج کی ایک آخری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی حج کے سفر میں عمرہ کا فائدہ بھی اُٹھانا چاہتا ہے اور اِس پر مزید یہ کہ قربانی کے لیے ہدی کا جانور بھی اُس نے اپنے وطن یا میقات سے ساتھ لے رکھا ہے۔ اِس صورت میں بھی عمرہ اور حج کے مناسک، ترتیب ، مقامات اور اوقات بالکل وہی ہوتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ اور قربانی کی صورت میں فدیہ بھی وہی عائد ہوتا ہے جو پچھلی صورت میں بیان ہوا ہے۔ تاہم ہدی کا جانور ساتھ لے جانے کی وجہ سے ایک اضافی پابندی اِس صورت میں حاجی پر یہ عائد ہوجاتی ہے کہ عمرہ کرنے کے بعد یہ حاجی احرام کی پابندیوں سے نہیں نکل سکتا، بلکہ مناسکِ حج میں یوم النحر کو جب تک اِس کا ہدی کا جانور قربان نہیں ہوجاتا، اُس وقت تک یہ اپنے اُسی احرام کی پابندیوں میں رہتا ہے جو بیت الحرام کی طرف جاتے ہوئے اُس نے اپنی میقات سے باندھا تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ اِس صورت میں حاجی نہ صرف یہ کہ ایک سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کرتا ہے، بلکہ قربانی کا جانور ساتھ لے جانے کی وجہ سے ایک ہی احرام میں دونوں عبادتوں کو ادا کرتا ہے۔اِن دونوں کے درمیان اِس کو احرام کی پابندیوں سے رخصت کا کوئی وقفہ حاصل نہیں ہوتا۔ ’قران‘ کے لغوی معنی ’مِلانے اور جمع کرنے‘ کے ہیں۔ فقہا کی اصطلاح میں دونوں عبادتوں کو ایک احرام میں اکٹھا کرنے کی وجہ سے اِس آخری صورت کو ’حجِ قران‘ کا نام دیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ اِس صورت میں بھی حج اور اِس کی تاریخیں، مناسک، مقامات اور اوقات بالکل وہی ہوتے ہیں جو اوپر آغاز میں بیان ہوئے ہیں اور عمرہ بھی اُسی طرح کیا جاتا ہے، جس طرح اِس کی شریعت میں بتایا گیا ہے۔ اِن دونوں کی ادائیگی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا اِس صورت میں بھی یہ بات بالکل نہیں کہی جاسکتی کہ یہ حج کی اپنی کوئی نئی قسم وجود میں آگئی ہے۔

عازمِ حج کی نیت کیا ہے اور کیا وہ صرف حج کا ارادہ رکھتا ہے یا اپنے اِس سفر میں عمرہ بھی کرنا چاہتا ہے، کیا ہدی کا جانور اُس نے اپنے ساتھ لے رکھا ہے؟ عازمین کے اِن مختلف ارادوں کے امکان کی وجہ سے شریعت کی بعض پابندیاں اُن پر عائد ہوتی یا اُٹھا دی جاتی ہیں، چنانچہ اِنھی مختلف صورتوں کی تفہیم کے لیے در اصل فقہی اصطلاحات وجود میں آئی ہیں۔ اور بہ ظاہر اِن تعبیرات سے بسا اوقات لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ گویا شریعت نے عبادتِ حج کی تین قسمیں الگ الگ بیان کی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ حج ایک الگ عبادت ہے اور عمرہ الگ۔ اسلامی شریعت میں حج کی اپنی کوئی قسمیں مقرر نہیں کی گئی ہیں۔ بیت اللہ کا جو عازم، حج کرنا چاہے تو حج کرے۔ عمرہ کرنا چاہے تو عمرہ کرے۔ دونوں میں کوئی قربانی واجب نہیں ہے۔ تاہم آفاقی حاجی اپنے حج کے سفر میں عمرہ بھی کرنا چاہے گا تو کرسکتا ہے، لیکن اِس صورت میں اُس پر فدیے کی قربانی واجب ہوگی اور اگر اُس نے قربانی کا جانور بھی اپنی میقات سے ساتھ لے رکھا ہے تو اِس صورت میں اب وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہو سکتا، بلکہ اِسی احرام میں رہے گا اور یوم النحر کو اپنا ہدی کا جانور ذبح کرنے کے بعد ہی احرام کی پابندیوں سے نکل سکے گا۔

21۔منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں نمازیں قصر پڑھی جائیں یا مکمل؟

سوال: مشاعرِ مقدسہ میں حجاج کے لیے نمازیں قصر پڑھنا سنت ہے یا یہ پوری پڑھی جائیں گی؟

جواب: اِس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ثابت شدہ اُسوہ یہ ہے کہ 8/ ذو الحجہ کو اور ایام تشریق، یعنی 11، 12 اور 13 /ذو الحجہ کے دوران میں منیٰ میں جو قیام ہوتا ہے، اِن میں ظہر، عصر اور عشا کی نمازیں قصر کر کے دو دو رکعتیں اپنے اپنے وقت پر ادا کی جائیں۔ قیام منیٰ کے ایام میں نمازوں کے آگے پیچھے کے سنن رواتب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترک کیے ہیں۔71 حجۃ الوداع کے موقع پر اہل مکہ نے بھی منیٰ میں یہ نمازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں قصر ہی پڑھی ہیں۔72سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر نے بھی اپنے زمانۂ خلافت میں یہاں نمازیں قصر ہی پڑھی ہیں۔73منیٰ کی ’مسجدِ خیف‘ میں آج بھی امام یہ نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس سنت کے مطابق قصر کر کے ہی پڑھاتے ہیں۔

باقی جسے اللہ توفیق دے، وہ نمازِ تہجد، مطلق نفل نماز، ذکر وتسبیح، تکبیر وتہلیل، دعا ومناجات اور تلاوت ومطالعۂ قرآن؛ اپنے ذوق کے مطابق جس عمل کا چاہے، اہتمام کرسکتا ہے۔

جہاں تک عرفات اور مزدلفہ کے وقوف کا تعلق ہے تو اِن دو مقامات کے بارے میں سنت کا قانون یہ ہے کہ عرفات میں ظہر وعصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع اور قصر کر کے ظہر کے وقت ہی میں پڑھی جائیں گی،74خواہ اپنے اپنے خیموں ہی میں پڑھی جائیں۔ اِس کو اصطلاح میں ’جمعِ تقدیم‘ کہا جاتا ہے۔عرفات کی مسجدِ نمرہ میں آج بھی امام یہ نمازیں سنت کے مطابق جمع اور قصر کر کے ہی پڑھاتے ہیں۔

مزدلفہ میں بھی سنت یہ ہے کہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع اور قصر کر کےعشا کے وقت میں پڑھی جائیں گی۔ اصطلاح میں اِس کو ’جمعِ تاخیر‘ کہا جاتا ہے۔ مزدلفہ کی ’مسجد المشعر الحرام‘ میں آج بھی امام یہ نمازیں سنت کے مطابق جمع اور قصر کر کے ہی پڑھاتے ہیں۔

عرفات اور مزدلفہ میں بھی فرض نمازوں کے آگے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کوئی نوافل نہیں پڑھے۔75یہاں تک کہ مزدلفہ کی رات کو آپ نے تہجد کی نماز بھی نہیں پڑھی، بلکہ فجر تک آرام فرمایا۔76

22۔حج وعمرہ میں دم یا فدیہ کے احکام

سوال: حج وعمرہ میں قربانی، فدیہ یا دَم کب اور کن خلاف ورزیوں پر واجب ہوتا ہے اور کن صورتوں میں لازم نہیں ہوتا اور فدیے یا کفارے کی ادائیگی کی کیا کیا صورتیں شریعت نے بتائی ہیں؟

جواب: اِس مسئلے کے متعدد پہلو ہیں، جن میں سے ہر ایک کی ذیل میں ہم الگ الگ وضاحت کریں گے:

1۔بھول کر غلطی کرنے یا نا دانستہ طور پر خلاف ورزی کا حکم

سب سے پہلے اُن صورتوں کو سمجھ لیجیے جن میں کوئی فدیہ یا دَم واجب نہیں ہوتا اور نہ آدمی گناہ گار ہوتا ہے۔اگر نادانستہ طور پر یا بھول کر کسی حاجی یا معتمر سے مناسکِ حج یا عمرہ کی ترتیب میں کوئی تقدیم وتاخیر ہوجائے یا بھول کر احرام کی کسی پابندی کی خلاف ورزی ہو جائے اور متنبہ ہونے پر وہ اُس غلطی سے باز آجائے یا تلافی ممکن ہو تو تلافی بھی کر لے؛ اِن سب صورتوں میں اُس حاجی یا معتمر پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کوئی فدیہ اُس پر عائد ہوتا ہے۔ اِس طرح کے معاملات میں قانون یہ ہے کہ اگر بلا ارادہ، نادانستہ طور پر یا بھول کر ایسا کوئی فعل سرزد ہو جائے تو اِس پر اللہ تعالیٰ کوئی مواخذہ نہیں کریں گے، جیسے مثال کے طور پر کوئی روزہ دار بھول کر پانی پی لیتا ہے تو اِس پر نہ کوئی مواخذہ ہوتا ہے اور نہ کوئی فدیہ عائد ہوتا ہے۔حج وعمرہ میں بھی بالکل یہی حکم ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ فِیۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِہٖ ۙ وَ لٰکِنۡ مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا.

(الاحزاب 33: 5)

’’اور جس معاملے میں تم سے غلطی ہوگئی، اُس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں، لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کر لیا، اُس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے۔ اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کے میدان میں لوگوں کے سوالات کے جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک شخص نے عرض کیا: مجھے علم نہیں تھا، اِس لیے میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اب قربانی کر لو، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک اور شخص نے عرض کیا: مجھے علم نہیں تھا، میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ آپ نے فرمایا: اب رمی کر لو، اِس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ غرض یہ کہ مناسکِ حج کے کسی عمل کے آگے یا پیچھے ہو جانے کے بارے میں جو سوال بھی کیا گیا، آپ نے جواب میں یہی فرمایا کہ اِسے اب انجام دے لو، حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔77

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن ارشادات سے بھی واضح ہے کہ نادانستہ طور پر اِس طرح کی غلطیوں پر کوئی گناہ ہے، نہ کوئی فدیہ۔

2۔مجبوری کی بنا پر یا جانتے بوجھتے احرام کی خلاف ورزی کا حکم

حج وعمرہ کی شریعت میں فدیے کا ایک حکم اُس وقت لاگو ہوتا ہے جب آدمی کو کوئی ایسی تکلیف لاحق ہوجائے جس سے نکلنے کے لیے اُسے احرام کی کسی پابندی کی مجبوراً خلاف ورزی کرنی پڑ جائے۔ مثال کے طور پر حج یا عمرہ میں آدمی کے سر میں کوئی ایسی تکلیف ہو جس کے باعث وہ سرمنڈوانے پر مجبور ہوجائے۔ چنانچہ ایسی صورت میں وہ اپنا سر منڈوا سکتا ہے اور اپنی مجبوری کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہیں ہوگا، لیکن اُس کو سورۂ بقرہ کی درجِ ذیل آیت میں مذکور تین میں سے کسی ایک صورت میں اِس کا فدیہ ادا کرنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ فَفِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوۡ صَدَقَۃٍ اَوۡ نُسُکٍ. ( البقرۃ 2: 196)

’’پھر جو تم میں سے بیمار ہو یا اُس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (اور وہ قربانی سے پہلے ہی سر منڈانے پر مجبور ہو جائے) تو اُسے چاہیے کہ روزوں یا صدقے یا قربانی کی صورت میں اُس کا فدیہ دے۔‘‘

سورۂ بقرہ کی اِس آیت میں عموم کے اسلوب میں ’فَفِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوۡ صَدَقَۃٍ اَوۡ نُسُکٍ ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کا یہ اسلوب دلیل ہے کہ فدیے کی تعداد اور مقدار کا معاملہ لوگوں کی صواب دید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تین روزے رکھ لیے جائیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیا جائے یا ایک بکری ذبح کر دی جائے تو کافی ہو جائے گا۔78

قرآن کے اِ س قانون کےمطابق جب مجبوری کی اِس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ نے احرام کی پابندی کی خلاف ورزی پر فدیہ عائد فرمایا ہے تو بالبداہت واضح ہے کہ بغیر عذر کے کوئی شخص جانتے بوجھتے محظوراتِ احرام کی خلاف ورزی کرے گا تو بدرجۂ اولیٰ اُس کو اِن تینوں میں سے کسی ایک صورت میں، نہ صرف یہ کہ فدیہ ادا کرنا ہوگا، بلکہ اِس صورت میں غیر معذور ہونے کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی ہوگا۔ جیسے مثال کے طور پر جانتے بوجھتے زینت وآرایش کے لیے مُحرم نے عطر استعمال کیا یا مونچھوں کے بال تراشے یا سلے ہوئے کپڑے پہن لیے یا سر پر عمامہ باندھ لیا یا عورت نے نقاب پہن لیا وغیرہ۔

3۔ ترکِ واجب پر فدیے کا حکم اور اِس کا ماخذ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کےایک فتوے79 کی بنیاد پر علما وفقہا نے بالعموم فدیے کے واجب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ آدمی حج یا عمرہ کے مناسک میں سے کوئی ضروری عمل چھوڑ دے تو اِس صورت میں بھی اُس پر دَم واجب ہوگا، یعنی حرم میں فدیے کی قربانی کرکے اُس کا گوشت وہیں کے فقرا میں تقسیم کرنا ہوگا۔

یہاں پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ حج یا عمرہ کا کوئی واجب چھوڑ دینے کا مطلب یہ ہے کہ مثال کے طور پر عازمِ حج یا عمرہ اپنی میقات سے احرام باندھے بغیر وہاں سے آگے بڑھ جائے یا وقوفِ عرفہ کے موقع پر غروبِ آفتاب سے پہلے ہی عرفات سے نکل جائے یا وقوفِ مزدلفہ ترک کر دے یا جمرات کی رمی نہ کرے ، وغیرہ۔

اِس کے بارے میں، ظاہر ہے کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس حکم کا، جو سیدنا ابن عباس کی راے پر مبنی بتایا جاتا ہے، شریعت میں ماخذ کیا ہے؟ لہٰذا سمجھنا چاہیے کہ اصلاً اِس کا ماخذ بھی سورۂ بقرہ کی آیت 196 ہی ہے، جس میں احرام کی خلاف ورزی کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے فدیہ عائد کیاہے ، اِس لیے کہ حج یا عمرہ کرنے والے کے لیے جس طرح احرام کی پابندیوں کا خیال رکھنا واجب ہے اور اُس کی خلاف ورزی کرنے پر فدیہ عائد ہوتا ہے، اُسی طرح حج وعمرہ میں جن مناسک کو ادا کرنا بھی اُس پر واجب ہے، اُن کو ترک کرنے پر بھی فدیہ ہی عائد ہو گا۔ چنانچہ اِس طرح قرآن میں ترکِ واجب کے اِس فدیے کی اساس بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اِن دونوں میں فرق کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اور ترکِ واجب میں بھی فدیے کی ادائیگی کی تین صورتیں وہی رہیں گی جو قرآن نے احرام کی خلاف ورزی پر بیان کی ہیں، یعنی یہ فدیہ بھی روزوں یا صدقے یا قربانی میں سے کسی ایک صورت میں ادا کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق تین روزے رکھ لیے جائیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیا جائے یا ایک بکری ذبح کر دی جائے تو کافی ہو جائے گا۔جو اہل علم اِس کو تمتع کے فدیے پر قیاس کر کے قربانی یا دس روزوں کا فدیہ بتاتے ہیں، شریعت میں اِس کی کوئی اساس راقم السطور کو نہیں مل سکی۔

4۔حج کی قربانی کی صورت میں فدیے کے احکام

جہاں تک حج میں قربانی کے واجب ہونے کا تعلق ہے تو سمجھنا چاہیے کہ ایک تو قربانی اُس صورت میں لازم ہوتی ہے ،جب حج کے ایک سفر میں آدمی بیت الحرام پہنچ کر پہلے عمرہ بھی کرلے تو فدیے کی ایک قربانی اُس پر واجب ہوجاتی ہے، جو مناسکِ حج میں یوم النحر کو رمی کے بعد کی جائے گی۔ حج وعمرہ کو ایک سفر کے علاوہ ایک احرام میں جمع کرنے والے حجاج پر بھی فدیے کی قربانی کا یہی حکم ہے۔

حج میں فدیے کی اِس قربانی کے لیے مالی استطاعت نہ ہو تو اِس کے بجاے دس روزے رکھنے ہوں گے، جن میں سے تین حج کے دنوں میں اور سات وطن واپس پہنچ کر۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ٝ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَۃِ اِلَی الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الۡحَجِّ وَ سَبۡعَۃٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ؕ تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ.

(البقرۃ 196:2)

’’پھر جب تمھارے لیے امن کی حالت پیدا ہو جائے تو جو کوئی اِس سفر سے یہ فائدہ اٹھائے کہ حج کا زمانہ آنے تک عمرہ بھی کر لے تو اُسے قربانی کرنا ہو گی، جیسی بھی میسر ہو جائے۔ اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو روزے رکھنا ہوں گے: تین دن حج کے زمانے میں اور سات، جب (حج سے) واپس آؤ۔ یہ پورے دس دن ہوئے۔ (اِس طریقے سے ایک ہی سفر میں حج کے ساتھ عمرے کی) یہ (رعایت) صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر بار مسجد حرام کے پاس نہ ہوں۔ (اِس کی پابندی کرو) اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

اِس سے واضح ہے کہ آدمی کے لیے ممکن ہو تو بہتر یہی ہے کہ وہ عمرہ کے لیے الگ اور حج کے لیے الگ سفر کرے۔ ایک ہی سفر میں پہلے عمرہ اور اِس کے بعد احرام کھول کر حج کی تاریخوں میں اِس کے لیے نیا احرام باندھ کر حج کرنا آفاقی عازمین حج کے لیے محض ایک رخصت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ سفر کی زحمت کے پیش نظر اِنھیں دی ہے۔ اِس پر فدیہ اِسی لیے لازم کیا گیا ہے۔ چنانچہ اِس رخصت سے فائدہ بھی ہر مسلمان کو اِسے رخصت سمجھ کر ہی اٹھانا چاہیے۔تاہم حج کے لیے الگ اور عمرہ کے لیے الگ سفر کیا جائے تو عازمِ بیت اللہ پر کوئی قربانی واجب نہیں ہے۔

5۔ راستے میں گھر جانے کی صورت میں قربانی کا حکم

حج یا عمرہ میں فدیے کی قربانی کے واجب ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آدمی حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر عازمِ بیت اللہ ہو، لیکن راستے میں کوئی ایسی صورتِ حال پیش آگئی کہ وہ بیت اللہ پہنچ کر اپنا حج یا عمرہ مکمل نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر آگے سفر جاری رکھنے کے لیے حالات سازگار نہیں رہے، راستے میں کوئی رکاوٹ آگئی ہے ، اُس کی سواری کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہے یا آدمی خود زخمی ہوگیا ہے یا کوئی ایسی بیماری اُس کو لاحق ہوگئی ہے کہ اب بیت الحرام پہنچنا اُس کے لیے ممکن نہیں ہے؛ اِس طرح کی کسی صورت میں گھر جانے کے بعد اپنے احرام سے نکلنے کے لیے بھی اُس کو ایک جانور قربان کرنا ہوگا، جس کے بعد وہ اپنے سر کا حلق یا قصر کرا کے حلال ہوسکتا اور وہیں سے اپنے گھر واپس لوٹ سکتا ہے۔ یعنی مجبوری کی اِس حالت میں یہ قربانی اُس کے حج یا عمرہ کے تمام مناسک کی قائم مقام ہو جائے گی، جیسا کہ ہجرت کے چھٹے سال ذو القعدہ کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ حدیبیہ کے مقام پر محصورہوگئے تھے ۔چنانچہ وہیں قربانی کر کے اُن سب نے احرام کھول لیا اور واپس مدینہ لوٹ گئے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ ؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ وَ لَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمۡ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡہَدۡیُ مَحِلَّہٗ. (البقرۃ 2: 196)

’’اور حج و عمرہ (کی راہ اگر تمھارے لیے کھول دی جائے تو اُن کے تمام مناسک کے ساتھ اُن) کو اللہ ہی کے لیے پورا کرو۔ پھر اگر راستے میں گھر جاؤ تو ہدیے کی جو قربانی بھی میسر ہو، اُسے پیش کردو، اور اپنے سر اُس وقت تک نہ مونڈو، جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔‘‘

عام حالات میں حج وعمرہ کی قربانی کی جگہ اور وقت، دونوں متعین ہیں، لیکن جس صورت کا اِس آیت میں ذکر ہوا ہے، اُس میں قربانی کے پہنچنے کی جگہ وہی ہے، جہاں کوئی شخص گھر جائے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اِسی بات کی تائید ہوتی ہے۔

6۔خشکی کا شکار کرنے پر کفارے کا حکم اور اِس کی صورتیں

حالتِ احرام میں خشکی کے جانور کا شکار کرنا، جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے، ممنوع ہے،لہٰذا اِس کی خلاف ورزی پر بھی قرآن نے فدیہ عائد کیا ہے،لیکن خاص طور پر اِس خلاف ورزی پر فدیے کی جو صورتیں اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّیۡدَ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ وَ مَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحۡکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ ہَدۡیًۢا بٰلِغَ الۡکَعۡبَۃِ اَوۡ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِہٖ ؕ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللّٰہُ مِنۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ. (المائدۃ 5: 95)

’’ایمان والو، احرام کی حالت میں شکار نہ مارو۔ (یہ ممنوع ہے)، اور (یاد رکھو کہ) تم میں سے جس نے جانتے بوجھتے اُسے مارا، اُس کا بدلہ تمھارے مواشی میں سے اُسی کے ہم پلہ کوئی جانور ہے، جیسا اُس نے مارا ہے، جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور یہ نیاز کی حیثیت سے کعبہ پہنچایا جائے گا۔ یا نہیں تو اِس گناہ کے کفارے میں مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا یا اِسی کے برابر روزے رکھنا ہوں گے تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہو چکا، اُسے اللہ نے معاف کر دیا ہے، لیکن اب اگر کسی نے اُسے دہرایا تو اللہ اُس سے بدلہ لے گا۔ اللہ زبردست ہے، وہ بدلہ لینے والا ہے۔‘‘

اِس حکم کے معنی یہ ہیں کہ خشکی کے جانوروں کا شکار ہر حال میں ممنوع ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص دانستہ طور پراِس فعل کا ارتکاب کرے تو اُس پر کفارہ لازم ہوگا۔ اِس کفارے کی تین صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ جس جانور کا شکار کیا گیا ہو، اُسی نوعیت کا کوئی جانور گھریلو مویشیوں میں سے بیت اللہ کے لیے بہ طور قربانی بھیجا جائے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اُس جانور کی قیمت کے برابر مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ اور اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو تو اتنے روزے رکھے جائیں جتنے مسکینوں کو کھانا کھلانا کسی شخص پر لازم آتا ہے۔

رہی یہ بات کہ شکار کیے گئے جانور کے بدلے کون سا جانور مناسب ہوگا یا قربانی ممکن نہ ہونے کی صورت میں اُس کی قیمت کس طرح مقرر کی جائے گی اور اُس کے بدلے میں کتنے مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا کتنے روزے رکھے جائیں تو اِس کا فیصلہ مسلمانوں میں سے دو معتبر آدمی کریں گے، تاکہ اِس جرم کے مرتکب شخص کو اپنے نفس کے حق میں جانب داری کا موقع نہ مل سکے۔

23۔زیارتِ مدینہ ومسجدِ نبوی کا حکم

سوال: حج یا عمرہ کے سفر میں مدینہ منورہ کی زیارت اور مسجد نبوی کی حاضری کا کیا حکم ہے؟

جواب:بیت الحرام پہنچ کر حج یا عمرہ کرنے والے مسلمان کی بالعموم یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دار الہجرت اور آخری مسکن، مدینہ منورہ اور اِس میں آپ کی مسجد، مسجد نبوی کی زیارت بھی کر لے ۔چنانچہ وہ اِس غرض سے مدینہ منورہ کا قصد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اِس مقصد کو حاصل کرنا ایک مسلمان کے لیے بڑ ی سعادت کی بات ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی مسجد میں نماز کو بیت الحرام کے سوا باقی سب مسجدوں میں ہزار نمازوں سے بہتر قرار دیا ہے ۔80

علاوہ ازیں،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عبادت کے لیے) تین مسجدوں کے سوا رختِ سفر نہ باندھا جائے: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری یہ مسجد ‘‘۔81

حرمِ مدینہ کےاحترام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اسی طرح میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے۔ لہٰذا اِس کی دونوں حدوں کے مابین نہ کسی کا خون بہایا جائے، نہ شکار کیا جائے، نہ جنگ کے لیے ہتھیار اٹھائے جائیں اور نہ درختوں کے پتے جھاڑے جائیں، سواے اس کے کہ چارے کے طور پر جانوروں کو کھلانا مقصود ہو۔82

اِسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مدینہ میں کسی بدعت کو ایجاد کیا یا بدعت ایجاد کرنے والوں کوپناہ دی، اُس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔83چنانچہ جاننا چاہیے کہ حرمِ مدنی کی حیثیت وفضیلت یہ ہے ۔

تاہم یہاں یہ واضح رہے کہ اِس سفر و زیارت کا، جیساکہ عامۃ الناس خیال کرتے ہیں ، حج یا عمرہ کی عبادت اور اِس کے مناسک سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔یہ حج یا عمرہ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن وسنت اور حدیثِ نبوی میں حج یا عمرہ کرنے والوں کو اِس زیارت کا کہیں کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔84شریعت کی رو سے حج و عمرہ اِس کے بغیر بھی ہر لحاظ سے مکمل ہوتے اور اِن میں کسی اعتبار سے کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔

24۔مسجد نبوی میں 40 نمازیں پڑھنے کی فضیلت

سوال: ہمارے معاشرے میں یہ بات عام طور پر شہرت رکھتی ہے کہ زیارتِ مدینہ کے موقع پر وہاں اتنا قیام کیا جائے کہ آدمی کم از کم 40 نمازیں مسجد نبوی میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کر لے، اِس لیے کہ دین میں اِس کی بڑی فضیلت آئی ہے،کیا ایسی کوئی فضیلت دین میں بیان ہوئی ہے؟

جواب: جب زیارتِ مدینہ اور مسجدِ نبوی کی حاضری شریعتِ اسلامی میں مناسکِ حج وعمرہ کا حصہ نہیں ہےتو اِس سے یہ بات بالبداہت واضح ہے کہ حرمِ نبوی کا زائر جتنا چاہے، وہاں قیام کرے اور جتنی نمازیں چاہے، مسجد نبوی میں ادا کرے اور جب چاہے، وہاں سے رخصت ہوجائے ۔مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت اور حرمِ مدینہ کی حرمت کے باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ ثابت ہے، پچھلے سوال کے جواب میں بیان ہوچکا ہے۔ تاہم مسجد نبوی میں باجماعت مسلسل 40 نمازوں کی پابندی کا کوئی حکم یا فضیلت دین میں بالکل ثابت نہیں ہے۔

اِس حوالے سے ہمارے ہاں جو بات عام طور پر شہرت پا گئی ہے کہ مسجد نبوی میں 40 نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے، اِس لیے کہ ایک حدیث میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص نے میری مسجدمیں چالیس نمازیں اِس طرح پڑھیں کہ (درمیان میں)کوئی نماز فوت نہ ہوتو اُس کے لیے آگ سے براءت اور عذاب سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور وہ نفاق سے بری ہے۔اِس روایت کا اصل ماخذ مسند احمد، رقم 12583 ہے۔ اِس کے بارے میں یہ جاننا چاہیے کہ علماے محدثین کے نزدیک یہ ایک ’ضعیف‘ و’منکر‘ روایت ہے۔امام ابن باز،85شیح البانی،86شیخ شعیب الارنؤوط،87شیخ ابو اسحاق الحوینی،88 اور تمام محقق علما کے نزدیک یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بالکل ناقابلِ اعتبار ہے۔ لہٰذا اِس کی بنیاد پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے فضیلت کا ایسا کوئی حکم اخذ کرنا شرعاً بالکل درست نہیں ہے۔ عبادات میں جس چیز کا استناد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو، اُسے دین کی حیثیت سے بالکل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اِس تصورکی اصلاح کر لینی چاہیے۔

25۔روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری

سوال: مسجدِ نبوی اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے کیا آداب ہیں؟

جواب: مدینہ طیبہ کی زیارت کرنے والے کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ مسجدِ نبوی کی زیارت کرے اور اِس میں نماز ادا کرے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےحجرۂ مبارک اور آپ کے منبر کے مابین کے حصے میں ، جو برِ صغیر کے عازمین کے ہاں بالعموم ’ریاض الجنۃ‘ کے نام سے مشہور ہے، نماز پڑھنا میسر ہو تو وہاں بھی نماز ادا کرے۔اِس حصے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ مقام جنت کے باغات میں سے ایک باغ کی حیثیت رکھتا ہے اور میرا منبر اسی جگہ واقع ہے جہاں قیامت کے دن میرا حوض ہوگا۔89

علاوہ ازیں،مسجد نبوی کا زائر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے سامنے کھڑے ہو کر آپ پر سلام عرض کرے اور اللہ تعالیٰ سے آپ پر رحمت وبرکت کی دعا کرے۔ اِس سلام ودعا کے لیے دین میں کوئی متعین الفاظ مشروع نہیں کیے گئے ہیں۔ لہٰذا اِس کے لیےجو اچھے الفاظ چاہے، آدمی استعمال کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس موقع پر وہ چاہے تو ’السلام عليك يا رسول اللّٰه ورحمۃ اللّٰه وبركاتہ‘کے الفاظ سے آپ کی قبر کے سامنے سلام عرض کرسکتا ہے۔

پھر اگر زائر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ دعائیہ کلمات بھی کہے تو اِس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ مثال کے طور پر وہ یوں کہہ سکتا ہے : ’جزاك اللّٰه عن امتك خيرًا، وضاعف لك الحسنات، واحسن إليك كما احسنت إلى الأمة‘، ’’اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے،آپ کے حسنات کو خوب بڑھا دے۔جس طرح آپ نے اِس امت پر احسان فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ پر بھی اپنے انعامات فرمائے“۔

مزید برآں، وہ چاہے تو اِن الفاظ کا اضافہ بھی کر سکتا ہے:’اشهد انك قد بلغت الرسالة، واديت الأمانة، ونصحت الأمة، وجاهدت في اللّٰه حق الجهاد‘، ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ، آپ نے رسالت کا حق ادا کر دیا، اللہ کی امانت کو مکمل طور پر ادا کردیا، امت کی خیرخواہی فرمائی اور اللہ کی راہ میں کما حقہٗ جہاد کیا‘‘۔ اِن الفاظ میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اِس لیے کہ آپ کی ہستی کی نسبت سے یہ درست اور ثابت شدہ حقائق پر مبنی ہیں۔

اور پھر زائر آپ کے دونوں جلیل القدر صحابہ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی قبروں کے سامنے یکے بعد دیگرے ٹھیر کر اُن پر بھی سلام بھیجے اور جن الفاظ میں چاہے، اللہ سے اُن کے لیےبھی مناسب دعائیں کرے۔

تاہم کوئی شخص اپنے لیے اللہ سے کوئی دعا کرنا چاہے تو وہ اِس مقام سے ہٹ کر مسجدِ نبوی میں کسی اور جگہ چلا جائے اور قبلہ رُخ ہو کر دعا کرے ۔

  1. 1۔ دیکھیے: فايق سليمان دلول، احكام العبادات فی التشريع الاسلامی150۔ مجموعۃ من الباحثين باشراف الشيخ علوی بن عبد القادر السقاف، الموسوعۃ الفقہیۃ،الدرر السنیۃ /2 86-82۔
  2. 2۔ تاہم احرام کے لباس پر خوش بو لگانے سے اجتناب کیا جائے گا۔
  3. 3۔ دیکھیے:صحیح بخاری، رقم 1539۔صحیح مسلم، رقم 1198۔
  4. 4۔ دیکھیے: احمد بن محمد القسطلانی، ارشاد الساری لشرح صحيح البخاری3/314۔
  5. 5۔ دیکھیے: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، وزارة الاوقاف والشئون الاسلامیۃ، الكويت 153/2۔
  6. 6۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 5806۔
  7. 7۔ المائدۃ 5: 6۔
  8. 8۔ دیکھیے: ابن حجر العسقلانی،فتح الباری شرح صحيح البخاری403/3۔
  9. 9۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم1526۔
  10. 10۔ دیکھیے:صحیح بخاری، رقم 1846،4276، 4298۔
  11. 11۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم 1614۔صحیح مسلم، رقم 1235۔
  12. 12۔ دیکھیے: مجموعۃ من الباحثين باشراف الشيخ علوی بن عبد القادر السقاف،الموسوعۃ الفقہیۃ، الدرر السنیۃ 2/182۔اور دیکھیے’موقع الاسلام سوال وجواب‘ ویب سائٹ پر سوال بہ عنوان:’هل تشترط الطہارۃ للطواف والسعی؟‘۔
  13. 13۔ دیکھیے: ابن تیمیہ،مجموع الفتاویٰ 21/ 273۔
  14. 14۔ ’طوافِ قدوم‘سے مراد باہر سے آنے والوں کی بیت اللہ میں آمد اور وہاں پہنچنے پر کیا جانے والا پہلا طواف ہوتا ہے۔ اِس کی تفصیل اِس کتاب میں آگے”حج وعمرہ کے اہم فقہی مسائل اور اُن کا حل“ کے زیرِ عنوان بیان ہوگی۔
  15. 15۔ دیکھیے:ابن رشد،البيان والتحصيل 3/ 449-450۔ابن قدامہ، المغنی3/ 391۔ الماوردی، الحاوی فی فقہ الشافعی 140/4۔ نووی،المجموع شرح المہذب21/8۔ ابن حجر، فتح الباری شرح صحیح البخاری472/3۔الشوکانی، نیل الاوطار47/5 ۔ العظیم آبادی،عون المعبود شرح سنن ابی داؤد 236/5۔ سیف الدین ابو بکر الشاشی القفال،حلیۃ العلماء فی معرفۃ مذاہب الفقہاء 331/3۔
  16. 16۔ دیکھیے:ابن منظور، لسان العرب، 11/295۔
  17. 17۔ دیکھیے: مصنف ابن ابی شیبۃ 3/277۔ ابن عبد البر، التمہيد 2/ 70۔ابن عبد البر، الاستذكار 4/190۔
  18. 18۔ دیکھیے: فتح القدير 2/454۔ حاشیۃ ابن عابدين 2/ 498۔
  19. 19۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔
  20. 20۔ دیکھیے: سنن ابی داؤد، رقم1884، 1889۔
  21. 21۔ دیکھیے:صحیح بخارى، رقم 1602۔
  22. 22۔ دیکھیے:صحیح مسلم ، رقم 1266۔
  23. 23۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم1264۔
  24. 24۔ دیکھیے: علی بن نايف الشحود ،الخلاصۃ فی احكام الحج والعمرۃ 2 /17۔
  25. 25۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔مسند احمد ، رقم 14986۔
  26. 26۔ دیکھیے: ابن حزم،المحلی 7/ 97۔ دیکھیے:ابن قدامہ ،المغنی 3/406۔
  27. 27۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم 27367۔
  28. 28۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم 15172۔
  29. 29۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم 4462۔ سنن ابی داؤد، رقم2002۔
  30. 30۔ البقرۃ 2: 158۔
  31. 31۔ دیکھیے: مجموعۃ من الباحثين باشراف الشیخ علوی بن عبد القادر السقاف، الموسوعۃ الفقہیۃ، التطوع بالسعی بين الصفا والمروۃ، الدرر السنیۃ 2/202۔
  32. 32۔ البقرۃ 2: 158۔
  33. 33۔ دیکھیے: امام امین احسن اصلاحی، تدبرِ قرآن 1/ 394-395۔
  34. 34۔ دیکھیے: البقرۃ2:196۔
  35. 35۔ دیکھیے:صحیح بخاری ،رقم 1846، 4276، 4298۔
  36. 36۔ دیکھیے: ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد 2/ 86- 95۔
  37. 37۔ دیکھیے: ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد 2/ 89- 90۔
  38. 38۔ دیکھیے: ناصر الدین البانی ،حجۃ النبی 91 – 92۔
  39. 39۔ دیکھیے: ناصر الدین البانی، سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ وشیء من فقہھا وفوائدھا 6/ 261۔
  40. 40۔ دیکھیے: ناصر الدین البانی،سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ وشیء من فقہھا وفوائدھا 6/ 261۔اور دیکھیے:’موقع الاسلام سوال وجواب‘ ویب سائٹ پر سوال بہ عنوان: ’حكم تكرار العمرة من مکۃ، وحكم طواف الافاضۃ للحائض‘اور’الاعتمار لاكثر من شخص فی سفرة واحدة ‘۔یوٹیوب پر جاوید احمد غامدی صاحب سے پوچھے گئے سوال بہ عنوان ’ Can we perform Multiple Umrah in one visit‘ کا جواب۔
  41. 41۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1327۔
  42. 42۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 328، 329۔ صحیح مسلم ، رقم 1211۔
  43. 43۔ یہ معلوم ہے کہ اِن تینوں میں سے پہلے عمرہ کےموقع پر حدیبیہ کے مقام پر آپ اور آپ کے صحابہ محصور ہوگئے تھے اور حرمِ مکی میں داخل نہیں ہوسکے تھے۔
  44. 44۔ دیکھیے: ابو عمر يوسف بن عبد الله القرطبی، الكافی فی فقہ اہل المدينۃ1/406۔ ابن قدامہ، المغنی 3/393۔ عبد الكريم بن محمد ابو القاسم الرافعی، العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير 3/447۔ نووی،المجموع شرح المہذب 8/284۔
  45. 45۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 294۔
  46. 46۔ دیکھیے: مصنف عبد الرزاق،رقم 1220،1219۔
  47. 47۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم 328، 329۔صحیح مسلم ، رقم 1211۔
  48. 48۔ دیکھیے: البقرۃ 2 : 185۔
  49. 49۔ دیکھیے: البقرۃ 2 : 286۔
  50. 50۔ دیکھیے: الحج 22: 78۔
  51. 51۔ دیکھیے: المائدۃ 5 : 6۔
  52. 52۔ دیکھیے: السنن الصغریٰ، نسائی، رقم 5034۔
  53. 53۔ دیکھیے:مسند طیالسی، رقم 2199۔
  54. 54۔ دیکھیے:المعجم الکبیر، طبرانی، رقم17092۔
  55. 55۔ دیکھیے: عبد العزيز بن عبد الله بن باز ،فتاوىٰ تتعلق باحكام الحج والعمرۃ والزيارۃ، رقم 78-77۔ محمد بن عبد العزيز المسند، فتاوىٰ اسلامیۃ 2/238-237۔احمد مصطفىٰ متولی ،المجموع الثمين لفتاوى الحج والعمرۃ لابن باز وابن عثیمین وابن جبرين 86-85۔ اور دیکھیے ’دار الافتاء المصریۃ‘ ویب سائٹ پر سوال وجواب بہ عنوان ’ حكم أداء طواف الإفاضة وطواف العمرة للحائض ‘ کا جواب۔
  56. 56۔ دیکھیے: النساء 4: 43۔
  57. 57۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 890۔
  58. 58۔ دیکھیے: قرارات المجمع الفقہی الاسلامی،الدورۃ الرابعۃ عشرۃ 328-327۔ سعود بن ابراہیم الشریم، المنہاج للمعتمر والحاج 72۔
  59. 59۔ دیکھیے:محمد عبد اللہ ضیاء الاعظمی، الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل، کتاب الحج 5/267 – 268۔
  60. 60۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1299۔
  61. 61۔ دیکھیے:صحیح مسلم ، رقم 1218، 1305۔
  62. 62۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم 1723۔
  63. 63۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم83۔
  64. 64۔ دیکھیے: سلمان بن فہد بن عبد الله العودۃ،فعل و لا حرج 94-90۔ اور دیکھیے درجِ ذیل لنک پر پروفیسر ڈاکٹر فيحان بن شالی المطيری کا مقالہ بہ عنوان’التسہيل لما ورد فی وقت الرمی من التيسير‘: www.saaid.org/mktarat/hajj/152.htm ۔
  65. 65۔ دیکھیے:محمد عبد اللہ ضیاء الاعظمی، الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل، کتاب الحج5/271-267۔
  66. 66۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم23776، 23777۔ صحیح ابن خزیمۃ، رقم 2975۔
  67. 67۔ اِس مسئلے سے متعلق مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: الشيخ عبد الله بن زيد آل محمود، يسر الاسلام فی احكام حج بيت الله الحرام 14 – 26۔ اور دیکھیے درجِ ذیل لنک پر پروفیسر ڈاکٹر فيحان بن شالی المطيری کا مقالہ بہ عنوان’التسہيل لما ورد فی وقت الرمی من التيسير‘:

    www.saaid.org/mktarat/hajj/152.htm۔

  68. 68۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1745۔ صحیح مسلم ، رقم 1315۔
  69. 69۔ دیکھیے:مجموعۃ من الباحثين باشراف الشيخ علوی بن عبد القادر السقاف، الموسوعۃ الفقہیۃ، الدرر السنیۃ2/ 274۔
  70. 70۔ دیکھیے: البقرۃ2: 196۔
  71. 71۔ بعض روایتوں سے، البتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نمازیں ہمیشہ قصر پڑھا کرتے اور اِن کے آگے پیچھے کے نوافل ترک کیا کرتے تھے، تاہم رات کی نماز اور فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کا آپ سفر میں بھی اہتمام کیا کرتے تھے۔ دیکھیے: ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد1/ 456۔ اِن روایتوں کی بنیاد پر بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ حجۃ الوداع کے دوران میں مشاعر مقدسہ میں بھی آپ نے رات کی نماز اور فجر کے نوافل کا اہتمام کیا ہوگا، ورنہ حج کے دوران میں اِن کے پڑھنے کی روایتوں میں کہیں صراحت مذکور نہیں ہے، بلکہ مزدلفہ کی رات کے حوالے سے صراحت موجود ہے کہ اِس رات آپ نے فجر تک آرام فرمایا اور کوئی عبادت نہیں کی۔
  72. 72۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم696۔
  73. 73۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1082، 1083، 1984۔ صحیح مسلم ، رقم 694، 696۔
  74. 74۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم 1662۔
  75. 75۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم 1673۔صحیح مسلم ، رقم 1218۔
  76. 76۔ دیکھیے: ناصر الدین البانی، حجۃ النبی 76-73۔
  77. 77۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1734، 1735۔ صحیح مسلم ، رقم1306، 1307۔
  78. 78۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1814۔
  79. 79۔ دیکھیے: سنن دارقطنی، رقم 2534۔
  80. 80۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1190۔صحیح مسلم ، رقم 1394۔
  81. 81۔ دیکھیے: مصنف ابن ابی شیبۃ، رقم 15543۔
  82. 82۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1869۔صحیح مسلم ، رقم 1374۔
  83. 83۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1867۔صحیح مسلم ، رقم 1366۔
  84. 84۔ اِس حوالے سے بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے عام طور پر جو روایت نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا، لیکن میری(قبر کی) زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے بے رخی برتی؛ یہ ایک من گھڑت روایت ہے۔ تمام علماے حدیث نے اِس کو ’موضوع‘قرار دیا ہے۔لہٰذا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اِس کو بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے۔دیکھیے: ابن الجوزی، الموضوعات 2/ 217۔
  85. 85۔ دیکھیے: مجموع فتاوى العلامۃ عبد العزيز بن باز رحمہ الله، رقم 230، 17/405- 406۔
  86. 86۔ دیکھیے: ناصر الدین البانی،سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ، رقم364۔
  87. 87۔ دیکھیے: مسند احمد ، رقم 12583، تحقیق شعیب الارنؤوط، عادل مرشد وآخرون، مؤسسۃ الرسالۃ۔
  88. 88۔ دیکھیے یوٹیوب پر شیخ ابو اسحاق الحوینی کی گفتگو بہ عنوان:صحة حديث :من صلى في الجماعة أربعين صلاة كتبت له براءتان۔
  89. 89۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1196۔صحیح مسلم ، رقم 1391۔