Skip to content

Chapter 10: باب پنجم: ب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور آپ کے متعلق پیشین گوئیاں

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت

اور آپ کے متعلق پیشین گوئیاں

میرے نزدیک قرآن کا قانون رسالت اور خاص طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگذشت انذار، ایسی ٹھوس علمی اور عقلی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اسلام ایک الہامی دین ہے۔ تاہم، دو مزید پہلو ایسے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی صداقت کو مزید تقویت بخشتے ہیں:

1۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت و کردار

2۔ سابقہ آسمانی کتابوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیاں

1۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت و کردار

الف۔ راست گوئی اور دیانت داری

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کی زندگی میں، آپ نے اپنی دیانت داری اور سچائی کا ایسا معیار قائم کیا تھا کہ اہل مکہ آپ کو ”امین“اور ”صادق“ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے پوچھا کہ اگر وہ کہیں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا وہ آپ کی بات مانیں گے؟ لوگوں نے بہ یک زبان کہا کہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا اور ایمان دار پایا ہے ۔ 1

ب۔ فکری ارتقا کی عدم موجودگی

دنیا میں فوجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدانوں کے ہر ممتاز دانش ور یا رہنما کے خیالات اور نظریات میں وقت کے ساتھ ایک واضح ارتقا نظر آتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا ارتقا نظر نہیں آتا۔ آپ نے 40 سال کی عمر تک ایک عام انسان کی حیثیت سے زندگی گزاری، جس میں کوئی ایسا نشان موجود نہیں تھا جو آپ کے مستقبل کے عظیم منصب کی طرف اشارہ کرتا ہو۔ لیکن جب آپ نے چایس سال کی عمر میں اعلانِ نبوت کیا تو اچانک قرآن جیسی بے مثال کتاب آپ کے ذریعے سے دنیا کے سامنے آنا شروع ہو گئی۔ اس کتاب نے اپنی شاعرانہ عظمت، فکری گہرائی، سماجی، سیاسی اور قانونی مباحث اور احکامات، اور بے نظیر عسکری اور جنگی حکمتِ عملیوں کے ذریعے سے سب کو حیران کر دیا۔ قرآن کے پیغام اور بنیادی دلائل میں 23 سالہ دورِ وحی کے دوران میں کوئی بنیادی تبدیلی یا ارتقا نظر نہیں آتا، حالاں کہ اس دوران خارجی حالات مسلسل تبدیل ہو رہے تھے۔ آئیے، اس کی کچھ تفصیل کرتے ہیں۔

ہر انسان کی شخصیت، صلاحیت اور خیالات وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہیں۔ شیکسپیئر ایک دن میں عظیم ڈراما نگار نہیں بنا اور گاندھی کے نظریات بھی ایک تسلسل کے ساتھ پروان چڑھے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ہماری معلوم تاریخ کا انوکھا اور یکتا واقعہ ہے۔ آپ کے ہاں بہ ظاہر دینی، سیاسی یا سماجی نظریات میں کوئی ارتقا نہیں ہوا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کی ابتدائی زندگی میں، یہاں تک کہ آپ کی عمر چالیس سال کو پہنچی، شاعری یا اس جیسی کسی فنی یا ادبی دل چسپی کا نشان نہیں ملتا۔ اس وقت تک ایسی کوئی بات آپ کے ہاں ظاہر نہیں ہوئی، لیکن قرآن مجید، جس کے مشمولات ہمہ گیر ہیں—اس میں مذہبی، سماجی،سیاسی، قانونی اور شاعرانہ موضوعات موجود ہیں— زبان و بیان اور فکری گہرائی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اور یہ سب آپ کی زندگی میں اچانک اور غیر متوقع طور پر نمودار ہوا۔ یہ بات اس نظریے کو بہت تقویت دیتی ہے کہ قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف نہیں ہو سکتی۔

ج۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ اور دینی علوم میں کوئی پس منظر نہ تھا

قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں موجود معلومات درست اور معتبر مانی جا سکتی ہیں، کیونکہ قرآن ان لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ اگر قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی غلط معلومات پیش کی جاتیں تو اس کے براہ راست مخاطبین انھیں فوراً چیلنج کر دیتے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ اور دینی علوم میں کوئی پس منظر نہ تھا۔ سورۂ قصص کی آیت 86 کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تو وحی کے نزول کی توقع تھی اور نہ ہی آپ نے کبھی دینی معرفت اور الوہی علم کے حصول کے لیے کوئی کوشش کی تھی۔

اس موقعے پر ایک مشہور روایت پر روشنی ڈالنا ضروری ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم الہامی علم کی تلاش میں تھے۔ اس روایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ وقتاً فوقتاً غارِ حرا میں خلوت گزیں ہو کر روحانی مراقبے کرتے تھے۔ آگے چل کر میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کروں گا ، لیکن اس مرحلے پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں مذہبی بصیرت کے حصول یا روحانی مشق کے لیے نہیں جاتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غارِ حرا میں پراسرار مراقبے کا مشہور قصہ ایک ایسی حدیث پر مبنی ہے جس کی سند غریب ہے، یعنی صرف ایک راوی کی روایت پر مبنی ہے۔ مزید برآں، یہ حدیث خود آپ کے الفاظ پر مشتمل نہیں ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی سیرت نگاروں میں سے ایک، ابن اسحاق، اس روایت کے صرف ایک مختصر حصے ہی کو اپنی کتاب میں شامل کرتے ہیں، اور بقیہ حصے کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جہاں تک پہلی وحی کا تعلق ہے، ابن اسحاق ایک مختلف روایت پیش کرتے ہیں جو غارِ حرا میں پراسرار روحانی مراقبے کی مشہور بات سے متضاد ہے۔ اس کے برعکس، وہ واقعات کے ایک مختلف منظر نامے کو یوں پیش کرتے ہیں:

”عرب میں کئی لوگ قدیمی ابراہیمی مذہب ”دین حنیف“کے پیروکار تھے، جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی عمل پیرا تھے۔ اس دین میں رمضان کے روزے رکھنا اور اعتکاف جیسی عبادات شامل تھیں۔ اعتکاف سے مراد روزے کے ساتھ خلوت میں عبادت کرنا ہے۔ دین ابراہیمی کی اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ کی بت پرستی کے ماحول سے نکل کر پہاڑوں میں جا کر اعتکاف کیا کرتے تھے۔ بہت سے دیگر لوگ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اس عبادت کا مقصد کسی پراسرار مراقبے یا الہامی حقیقت کی تلاش نہیں تھا، بلکہ یہ دین حنیف کی عام روایت تھی، جس پر دیگر لوگ بھی عمل کرتے تھے۔ اپنی عمر کے چالیسویں سال میں، جب آپ اسی عبادت میں مشغول تھے، پہلی بار جبریل آپ کے سامنے ظاہر ہوئے۔ اس واقعے کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی، لیکن اس وقت یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وقت کی مروجہ عبادات میں مشغول تھے اور کسی غار میں پراسرار مراقبے یا الہامی علم کی جستجو میں نہیں تھے۔“2

علاوہ ازیں، قرآن کی سورۂ یونس کی 16 ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے براہِ راست مخاطبین سے فرمایا کہ نزولِ وحی سے پہلے آپ نے اپنی پوری زندگی انھی لوگوں کے درمیان گزاری اور ان موضوعات اور معاملات پر کبھی بات نہیں کی، جو قرآن زیر بحث لاتا ہے۔ لہٰذا آپ کے مخاطبین بہ خوبی جانتے تھے کہ اعلانِ نبوت سے پہلے آپ کا مذہبی تبلیغ کا کوئی پس منظر نہیں تھا، نہ ہی آپ کسی مذہبی علم کے متلاشی تھے۔

د۔ آپ کی شاعری اور ادب میں کوئی تربیت نہ تھی

قرآن مجید سورۂ یٰسین کی آیت 69 میں واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعری سے قطعی کوئی دل چسپی نہ تھی اور نہ ہی آپ کبھی شاعری سننے یا اسے پڑھنے کے لیے معروف تھے۔ اس کے باوجود، قرآن عربی زبان کا ایک ایسا ادبی شاہ کار ہے، جس کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں۔

قرآن کے شعری اسلوب کی قوت اس حد تک اثر انگیز تھی کہ عرب کے عظیم ترین شعرا میں سے ایک، ابو عقیل لبید بن ربیعہ بن مالک عامری، اسے سن کر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ لبید کی ایک نظم عربی زبان کے سات عظیم ترین شعری شاہ کاروں ”سبعہ معلقات“ میں شامل تھی۔ یہ معلقات خانۂ کعبہ کے باہر ایک طرح کے ”شعری ہال آف فیم“ (Hall of Fame) کے طور پر آویزاں تھے۔ لبید رضی اللہ عنہ خاص طور پر سورۂ کوثر کے اسلوب سے متاثر ہوئے، جو بالآخر ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا۔3

قرآن کا شعری کمال ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کی ساخت اس قدر شاعرانہ اور منفرد ہے کہ یہ ایک ضخیم کتاب ہونے کے باوجود بچے اسے آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔ سات سال یا اس سے کم عمر کے بچے بھی اسے مکمل طور پر حفظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ یاد کرنے کی آسانی ان لوگوں کے لیے بھی ممکن ہے جو عربی زبان نہیں سمجھتے۔ ہر سال مسلم ممالک میں ہزاروں بچے ایک سال کے اندر قرآن کو مکمل طور پر حفظ کر لیتے ہیں۔

ابھی تک کی بحث سے معلوم ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عمومی طور پر ایک سچے انسان کے طور پر جانے جاتے تھے اور صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے۔ نہ تو آپ مذہبی علم حاصل کرنے کی طرف مائل رہے تھے، نہ ہی آپ نے مذہبی تعلیمات کی تبلیغ کی تھی۔ اس کے باوجود قرآن گہرے مذہبی مباحث پر مشتمل ہے۔ مزید یہ کہ، قرآن میں پیش کیے گئے خیالات میں کوئی ارتقائی عمل نظر نہیں آتا، اور اس کے 23 سالہ نزول کے دوران خیالات اور نظریات میں مکمل ہم آہنگی اور تسلسل پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شاعری سے نہ تو کوئی شغف تھا اور نہ ہی کوئی پس منظر۔ اس کے باوجود قرآن عربی زبان کا ایک غیر معمولی ادبی شاہ کار ہے۔ یہ تمام عوامل اس امکان کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذہنی کاوش کا نتیجہ نہیں ہے۔

ہ۔ دوسروں سے مدد لینے کا الزام

یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کو قرآن لکھنے کے لیے مقرر کیا ہو۔ تاہم، یہ بات نا ممکن ہے، اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں سے قرآن لکھوانے کی کوشش کی ہوتی تو انھیں دو مختلف ماہرین کی ٹیموں کی ضرورت ہوتی۔ ایک ایسی ٹیم جو مذہبی علم، خاص طور پر ابراہیمی مذاہب کے بارے میں گہرے فہم کی حامل ہو ، اور دوسری ٹیم جو شاعری کے فن میں یکتا ہو۔ قرآن میں خیالات کے تسلسل اور زبان کی شاعرانہ خوب صورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے، انھیں ان ٹیموں کی خدمات نزولِ قرآن کے آغاز ہی سے درکار ہوتیں اور یہ سلسلہ 23 سالہ مدتِ نزول کے دوران میں بلا تعطل جاری رہتا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی تاریخی شواہد یہ ظاہر نہیں کرتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ماہرین کی ٹیموں تک رسائی حاصل تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی برسوں میں وہ زیادہ تر اکیلے داعی تھے، جن کے چند ہی پیروکار تھے اور ان کے ابتدائی ساتھیوں میں بھی ایسے افراد شامل نہیں تھے، جو ان شعبوں کے ماہر سمجھے جاتے ہوں۔

2۔ سابقہ الہامی کتب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیاں

الف۔ بائیبل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیاں

قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوی روایت سے ایک الگ تھلگ شخصیت کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ انھیں سابقہ انبیا اور رسولوں کے تسلسل میں رکھتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور مشن کو خاص طور پر وہ پیشین گوئیاں دل چسپ بناتی ہیں جو بائیبل کے دونوں حصوں—پرانے اور نئے عہد نامے—میں موجود ہیں۔ جب ان پیشین گوئیوں کو ملا کر دیکھا جاتا ہے تو ان کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور مشن کے ساتھ حیرت انگیز انطباق سامنے آتا ہے۔

آیئے، ان میں سے چند پیشین گوئیوں کا ایک کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

عہد نامہ قدیم

کتاب استثناء( 18 : 18 ) میں اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے متبعین کو بتاتے ہیں:

”میں اُن کے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گااور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا وہی وہ اُن سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو، جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گانہ سُنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔“

تو، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ خبر دی کہ ایک نبی ان کے اپنے درمیان سے نہیں، بلکہ ان کے بھائیوں میں سے، یعنی ان کے قریبی نسبتی قبیلے سے اٹھایا جائے گا۔ یہ نبی، موسیٰ علیہ السلام کی طرح، اپنے مخاطبین تک خدا کا پیغام پہنچائے گا۔ جو لوگ اس نبی کا انکار کریں گے، انھیں دنیا ہی میں خدا کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جیسا کہ ہم نے قرآن میں رسولوں کے قوانین کا تفصیل سے مطالعہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کے بھائیوں، یعنی اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے مشابہ نبی ہیں، جو اپنے عہد کے لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچانے آئے۔ اور جنھوں نے ان کا انکار کیا، انھیں خدا کے قوانین رسالت کے مطابق دنیا ہی میں سزا دی گئی۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ بائیبل کے مذکورہ بالا اقتباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ تاہم، یہ تشریح درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کی قوم سے تعلق رکھتے تھے، جب کہ اس پیشین گوئی میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آنے والی شخصیت بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگی۔ مزید برآں، جس شخصیت کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشابہ نبی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح حضرت موسیٰ کے ساتھ اور ان کی قوم کے ساتھ غیر معمولی واقعات پیش آئے، اسی طرح کے واقعات اس نبی اور اس کی قوم کے ساتھ بھی پیش آئیں گے۔ یہ نبی نئےالہامی قوانین متعارف کرائیں گے، ایک منظم لشکر کی قیادت کریں گے، زمینی اقتدار حاصل کریں گے اور ان کی قوم کو خدا کے دین کی حفاظت اور اشاعت کی ذمہ داری تفویض کی جائے گی، تاکہ وہ خدا کے پیغام کو مکمل طور پر دنیا تک پہنچا سکیں۔ ان میں سے کوئی بھی امر حضرت عیسیٰ کے معاملے میں ظاہر نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ جب ہم عہد نامہ جدید کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ خود اپنی امت کے لیے ایک ایسی شخصیت کی پیشین گوئی کرتے ہیں، جو ان کے بعد آئے گی۔ اس پیشین گوئی کی حامل شخصیت کتاب استثناء 18: 18 میں مذکور شخصیت کے اوصاف کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے۔

عہد نامہ جدید :یوحنا کی کتاب

یوحنا 1: 2 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”پیراکلیٹ“ (Paraclete) یا ”تسلی دینے والا“ (Comforter) کہا گیا ہے۔ اگلی آیات میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک اور ”تسلی دینے والے“ کے آنے کی پیشین گوئی کرتے ہیں، جو ان کے سوا کوئی دیگر ہوگا، اور فرماتے ہیں:

”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمھیں دوسرا مددگار بخشے گا …۔ “

(یوحنا14: 16)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام مزید وضاحت کرتے ہیں:

”لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لیے فائدہ مند ہے،کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (Paraclete) تمھارے پاس نہ آئے گا …۔ “ (یوحنا 16: 7)

” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے، مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن جب وہ، یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمھیں آیندہ کی خبریں دے گا۔“

(یوحنا16: 12 – 13)

بائیبل میں ”روح“ کی اصطلاح کا دیگر کئی نبیوں پر بھی اطلاق کیا گیا ہے۔ 4چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہی تھے اور دیگر انبیا کو بھی ”روح“ کہا گیا ہے، اس لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا معقول ہے کہ ان آیات میں ”روح“ سے مراد ایک انسان ہی ہے۔

جب موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی پیشین گوئیوں کو ایک جامع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دونوں ایک ایسی شخصیت کی آمد کی نشان دہی کرتے ہیں، جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگی۔ یہ شخصیت خدا کے کلام کو لفظ بہ لفظ بیان کرے گی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند رسول ہوگی۔ یہ صفات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر صادق آتی ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جو حضرت اسمٰعیل کی اولاد میں سے ہیں، بنی اسرائیل کے بھائیوں میں شامل ہیں۔ انھوں نے قرآن کی صورت میں خدا کے کلام کو انسانیت تک پہنچایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مانند نبی کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک نئی شریعت پیش کی۔ خدا نے ان کے ذریعے سے ایک ایسی قوم کو کھڑا کیا، جو اُس کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالے۔ اللہ تعالیٰ نےاس قوم کو زمین پر نمایاں اقتدار عطا کیا، بالکل ویسے ہی جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو عطا کیا تھا۔

3۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہندوؤں کے صحیفوں میں پیشین گوئی

قرآن کا بیان ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی عالم گیر نعمت تھی، جو ہر قوم کو عطا ہوئی۔ بعد میں یہ حضرت ابراہیم کی نسل میں محدود ہو گئی۔ ہندو مذہب کے پیروکار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے مذہبی متون پانچ ہزار سال سے زیادہ قدیم ہیں۔ بعض محققین کے نزدیک یہی حضرت ابراہیم کا زمانہ تھا۔ اس بنیاد پر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ابراہیمی سلسلے میں نبوت کے خاص ہونے سے قبل، اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے خطے میں بھی انبیا مبعوث کیے ہوں گے۔ ہندو مذہب میں رشی یا سادھو کا تصور پایا جاتا ہے، جنھوں نے اپنی قوم کو الہامی علم سے روشناس کرایا۔ قرآنی نقطۂ نظر سے یہ امکان موجود ہے کہ ہندو صحیفے، جیسا کہ وید، اصل میں الہامی کتب تھیں، جو ہزاروں برس کی تشریحات در تشریحات کے باوجود الٰہی ہدایت کے کچھ اجزا کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

ان متون میں ایک مقام پر ایک نبی کے ذریعے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دی گئی ہے۔ صدیاں گزرنے کے ساتھ، یہ پیشین گوئیاں ممکنہ طور پر اس تصور میں ڈھل گئیں کہ دیوتا وشنو کل یگ (دنیا کے آخری دور) میں ایک انسانی اوتار کے طور پر ظاہر ہوں گے اور برائی کا خاتمہ کریں گے۔ آئیے، ان پیشین گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ میرے نزدیک، یہ پیشین گوئیاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی نشان دہی کرتی ہیں۔ تاہم، آپ اس معاملے میں آزادی سے اپنی راے قائم کر سکتے ہیں۔

یہاں میں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کی تقاریر سے استفادے کا اعتراف کرنا چاہوں گا۔ اگرچہ ممکن ہے کہ ان کے کچھ نظریات اور تشریحات سے میں اختلاف رکھتا ہوں، لیکن غیرابراہیمی مذاہب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ان کی تحقیق قابلِ قدر ہے اور اس تحقیق نے میری اس جستجو میں بڑی مدد دی ہے۔

مندرجہ بالا نکات کے حوالہ جات یہ ہیں:

”کلکی شہر شنبھالا کے سرداروں میں وشنویاس کے گھر پیدا ہوگا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوگا، ہاتھ میں تلوار ہوگی، دشمنوں کو شکست دے گا اور فرشتے اس کی مدد کریں گے۔ “

(بھگوت پران، کھنڈ 12، ادھیائے 2، شلوک 18-20)

”کلکی مادھو مہینے کی 12 تاریخ کو وشنویاس اور سُمتی کے گھر پیدا ہوگا۔“

(کلکی پران 2/ 15)

”کلکی شنبھالا کے سرداروں میں وشنویاس اور سُمتی کے گھر پیدا ہوگا۔ وہ چار ساتھیوں اور فرشتوں کی مدد سے برائی کے خلاف جنگ کرے گا۔“ (کلکی پران 2/ 4- 5 ، 7)

”کلکی پہاڑ پر علم حاصل کرے گا، شمال کی طرف ہجرت کرے گا اور واپس آئے گا۔“

(کلکی پران 3/ 1)

ہندو روایات میں ایک شخص کلکی اوتار کا ذکر ملتا ہے۔ وہ اوتار کے سلسلے کے آخر میں اور انسانیت کے آخری دور میں ظاہر ہو گا اور برائی کا خاتمہ کرے گا۔ میں اس کے متعلق پیشین گوئیوں کو درج کرنے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعاتِ زندگی سے ان کی مماثلت کو بیان کروں گا، تاکہ آپ خود دونوں کے تقابل سے اپنی راے قائم کر سکیں۔

1۔ کلکی اوتار کے والد کا نام وشنویاس اور والدہ کا نام سُمتی ہوگا۔

وشنویاس سنسکرت کی ایک اصطلاح ہے۔ اس ترکیب میں لفظ ”وشنو“ کا مطلب ہے خدا۔ ”یاس“ کے مختلف معانی ہیں، جن میں عظمت اور عزت شامل ہیں۔ ایک معنی کوشش کرنے کا بھی ہے۔ اس لحاظ سے، ”وشنویاس“ کا مطلب ہوا: وہ شخص جو وشنو خدا کے قرب کی کوشش کرتا ہے، یا ان کی تقدیس کرتا ہے یا غالباً اس خدا کی عظمت کا مظہر ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبداللہ تھا۔ ”عبداللہ“ کا مطلب ہے: اللہ کا بندہ، یعنی وہ شخص جو خدا کی عبادت کرتا ہے۔ سنسکرت میں سُمتی کے معنی ہیں: خیرخواہی، وفاداری، یا کرم۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کا نام آمنہ تھا، جس کے معنی ہیں: ایمان دار، وفادار، یا محفوظ رہنے والی۔5

2۔ کلکی اوتار کی جاے پیدایش : شنبھالا گاؤں

ہندو متون 6 میں کلکی اوتار کی جاے پیدایش شنبھالا نامی گاؤں بتائی گئی ہے۔ شنبھالا سنسکرت کا لفظ ہے، جس کے معنی نیو ورلڈ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ”امن کی جگہ“ ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدایش مکہ میں ہوئی، جسے قرآن سورۂ تین کی آیت 3 میں ”امن کا شہر“ قرار دیتا ہے۔ اسلام کے ظہور سے قبل بھی مکہ کو امن کا مرکز سمجھا جاتا تھا، کیونکہ مختلف عرب قبائل سالانہ حج کے لیے یہاں آتے تھے اور شہر میں کسی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں تھی۔

3۔ کلکی اوتار شنبھالا کے سرداروں میں سے ہوگا۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق قریش قبیلے سے تھا، جو قبائل مکہ کا سردار قبیلہ تھا۔ آپ کی پیدایش عبدالمطلب کے گھر میں ہوئی، جو مکہ اور قریش کے سردار تھے۔ آپ کی پرورش آپ کے چچا ابو طالب کے زیر سایہ ہوئی، جو قریش کے معزز رہنما تھے۔

4۔ کلکی اوتار کی پیدایش مادھو مہینے کی 12 تاریخ کو بتائی گئی ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت بھی 12 ربیع الاول کو ہوئی۔

5۔ کلکی اوتار گھوڑے پر سوار ہوگا، تلوار ہاتھ میں لے کر برائی کے خلاف جنگ کرے گا اور لوگوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لائے گا۔ وہ لوگوں کو اپنی رہنمائی میں سچے عہد (ستیا یُگ) میں لے کر جائے گا۔ اس کے چار دوست ہوں گے، جو اس کی مدد کریں گے۔ میدان جنگ میں فرشتے بھی اس کی مدد کو اتریں گے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے پر سوار ہو کر جنگیں کیں اور تلوار کا استعمال کیا۔ آپ نے لوگوں کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر الٰہی ہدایت کے نور کی طرف گام زن کیا۔ آپ کے بعد چار خلفاے راشدین—حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم—آپ کے بہت قریبی رفیق تھے۔ انھوں نے دین اسلام کی تبلیغ اور نفاذ کو آگے بڑھایا۔ قرآن میں متعدد مواقع ، مثال کے طور پر آل عمران(3) کی آیت 125میں ذکر ملتا ہے کہ جنگوں میں فرشتے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی مدد کے لیے بھیجے گئے۔

6۔ کلکی اوتار پہاڑ پر علم حاصل کرنے اور شمال کی طرف ہجرت کرنے کے بعد واپس آئیں گے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی غارِ حرا میں، جو پہاڑ پر واقع ہے، نازل ہوئی۔ آپ نے مکہ سے شمال کی جانب مدینے ہجرت کی اور تقریباً دس سال بعد مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے۔

7۔ کلکی اوتار کا مطلب آخری اوتار یا انتیم رشی (Antim Rishi) ہے۔

ہندو دھرم میں کلکی اوتار کو آخری اوتار اور انتیم رشی کہا گیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن 7اور احادیث ‎8میں اللہ کا آخری نبی کہا گیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سابقہ الہامی کتب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ ان پیشین گوئیوں کے ساتھ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہماری بحث کو بھی شامل کر لیجیے۔ انھی امور نے میری اس بات میں دل چسپی کو بڑھایا کہ میں یہ جانوں کہ اللہ تعالیٰ کائنات کے وجود اور اس میں میرے وجود کے مقصد کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔ اپنے تحقیقی سفر کے اس موڑ پر مجھے یہ تجسس ہوا کہ کیا قرآن زیادہ مربوط اخلاقی، منطقی اور عقلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کیا یہ میرے وجودی سوالات کے تسلی بخش جوابات دیتا ہے۔ اگر اس کے جوابات تسلی بخش ہیں تو پھر جو دلائل ہم نے اوپر ذکر کیے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے، اس کتاب کا یہ دعویٰ کہ یہ حق ہے، مضبوط تر ہو جاتا ہے۔

__________

  1. 1۔ بخاری، رقم 4770، 4972۔
  2. 2۔ ابنِ ہشام کے نقطۂ نظر کی تفصیل جاوید احمد غامدی کی درج ذیل یو ٹیوب ویڈیو پر مبنی ہے:”23 اعتراضات کے جواب میں: 43 ، پہلی وحی کا واقعہ، غار حرا“۔ یہ ویڈیو غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ کے یو ٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔
  3. 3۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، لاہور: فاران فاؤنڈیشن،1985، 1/ 25- 26۔
  4. 4۔ یوحنا 4: 1- 3۔
  5. 5۔ وشنویاس اور سومانی کا ترجمہ learnsanskrit.cc سے لیا گیا ہے۔
  6. 6۔ newworldencyclopedia.org پر مضمون Shambhala” “ دیکھیے۔
  7. 7۔ الاحزاب 33 : 40 ۔
  8. 8۔ جامع ترمذی، رقم 2272۔