বিষয়বস্তুতে যান

অধ্যায় 8: باب پنجم: قانون رسالت کی تفصیلات

قانون رسالت کی تفصیلات

یہ بات میرے لیے نہایت حیران کن ہے کہ جو موضوع اسلام کی صداقت کو سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ وزنی اور قابلِ غور ہے، وہی سب سے کم سمجھا اور بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے درمیان بھی یہ بہت کم زیر بحث آیا ہے۔ اگر آپ مسلمان ہیں اور یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو 95 فی صد امکان ہے کہ آپ اس حقیقت سے بے خبر ہوں گے کہ قرآن کے مطابق رسول وہ ہستی ہے، جس کے ذریعے سے اللہ دنیا میں ہی لوگوں کو سزا اور جزا دیتا ہے۔

قرآن نہایت جامع انداز میں ہر اس مرحلے کو بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے مخاطبین پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ واقعات عالمی سطح پر قرآن کے بیان کردہ طریقے کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئے، یہاں تک کہ ان کی باریک تفصیلات میں بھی کوئی فرق نہیں پایا گیا۔

قرآن کے قانونِ رسالت کا ایک اور دل چسپ پہلو یہ ہے کہ یہ نہ صرف حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی اہم شخصیات کو اللہ کے نبی کے طور پر پیش کرتا ہے، بلکہ انھیں اللہ کے رسول کے طور پر بھی بیان کرتا ہے، جن کے ذریعے سے زمین پر اللہ کی دینونت (جزا و سزا کا نفاذ) عمل میں آیا۔ اسی طرح، حضرت نوح جیسی قبل از ابراہیمی شخصیات کو بھی یہی مقام عطا کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق حضرت نوح، حضرت لوط، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات محض علاقائی نوعیت کے نہیں تھے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی رہنمائی اور زمین پر اس کے عدل و انصاف کو ثابت کرنے کے ایک مسلسل، مربوط اور منظم عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ واقعات دینونت کے دنیا میں عملی مظاہرے کے طور پر قیامت کے دن ہونے والے حتمی فیصلے کا پیش خیمہ ہیں۔ قرآن کا یہ قانونِ رسالت نہ صرف دینی روایات سے ہم آہنگ ہے، بلکہ غیر مذہبی تاریخی حوالوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ مزید برآں، یہ قانون بائیبل کے عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید (Old and New Testament) کی تعلیمات سے بھی مکمل ہم آہنگی رکھتا ہے۔

آئیے، اب قرآن کے نقطۂ نظر سے رسولوں کے سلسلے میں قانونِ الٰہی کا تجزیہ کریں۔ ہم اس موضوع پر قرآن کے بیانات کا مطالعہ کریں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کیوں قرآن کی وضاحت اخلاقی، فکری اور عقلی لحاظ سے معقول ہے۔مزید برآں، ہم یہ بھی جانچیں گے کہ ہماری وجودی حقیقت میں موجود بعض علامات کس طرح قرآن کے دعووں کی تصدیق کرتی ہیں۔

1۔ اللہ تعالیٰ انسانوں سے براہِ راست مخاطب کیوں نہیں ہوتا؟

آگے بڑھنے سے پہلے، مختصراً یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن اس سوال کا کیا جواب دیتا ہے کہ اللہ انسانوں سے براہِ راست بات کرنے کے بجاے پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے سے اپنا پیغام کیوں بھیجتا ہے۔

قرآن میں سورۂ شوریٰ کی آیت 51 اور دیگر کئی مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے تین طریقوں سے کلام کرتا ہے:

1۔ وجدان یا القا کے ذریعے سے ،

2۔ براہِ راست کلام کے ذریعے سے ،

3۔ فرشتوں کے ذریعے سے جو اللہ کا پیغام وحی کی صورت میں پہنچاتے ہیں ۔

قرآن کے مطابق، براہِ راست گفتگو—خواہ وہ اللہ کی طرف سے ہو یا فرشتوں کے ذریعے سے وحی کی شکل میں—صرف ان افراد کے لیے مخصوص ہے، جو پیغمبر یا رسول ہوں اور کسی خاص مشن کے لیے منتخب کیے گئے ہوں۔ یہ سوال اکثر میرے ذہن میں آتا کہ اس نظام کی کیا ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ براہِ راست سب سے کیوں بات نہیں کرتا؟ قرآن اس کا ایک عقلی اور منطقی جواب پیش کرتا ہے، جو ہماری دنیوی حقیقت کے مطابق بھی ہے۔

ہم آگے چل کر قرآن کے نظریے کے مطابق انسانی وجود کے مقصد پر تفصیل سے گفتگو کریں گے، لیکن یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کو اچھے یا برے اعمال کے انتخاب کی مکمل آزادی حاصل ہے۔1قرآن کے مطابق، اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ، فرشتے اور ان کی دنیا انسانوں کی نظروں سے اوجھل رکھی گئی ہے ۔ 2

لہٰذا اللہ تعالیٰ پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے سے انسانوں سے مخاطب ہوتا ہے تاکہ ان لوگوں کو رہنمائی فراہم کی جا سکے جو اس کی طلب رکھتے ہیں، جب کہ انسانوں کی آزادی کو بھی محفوظ رکھا جائے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبروں اور رسولوں کی آزادی کا کیا ہوتا ہے؟ اگر وہ اللہ سے براہِ راست رابطے میں ہوتے ہیں تو کیا ان کی آزادی متاثر نہیں ہوتی؟ قرآن کے مطابق، اللہ نے نبیوں اور رسولوں کو ان کے کردار کی برتری کی بنیاد پر چنا ۔3 تاہم، جب وہ پیغمبر یا رسول مقرر کیے جاتے ہیں تو ان کی ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ غیب کی دنیا ان پر جزوی یا مکمل طور پر ظاہر ہو جاتی ہے اور اس کے بعد ان کے لیے کسی قسم کے عذر کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ جب غیب کی حقیقت ان پر ظاہر ہو جاتی ہے تو نیکی کے لیے انعام دوگنا ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ کسی غلطی کا ارتکاب کریں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو تو سزا بھی فوری اور شدید ہوتی ہے۔4 یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص جانتے بوجھتے ٹریفک کا اشارہ توڑ دے، جب کہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ پولیس اہلکار اسے دیکھ رہا ہے۔ اس پر عام حالات کے مقابلے میں زیادہ جرمانہ عائد ہوگا۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیا اور رسولوں کو عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب کیا اور ان سے براہِ راست رابطہ کیا۔ ان منتخب افراد کو غیب کی دنیا تک رسائی دی گئی تاکہ انھیں مکمل اذعان اور یقین ہو کہ وہ کس کی کن امور میں اتباع کر رہے ہیں اور اس میں کسی قسم کے شک کی گنجایش باقی نہ رہے۔ عام انسانوں کے لیے موت وہ لمحہ ہے جب غیب کی دنیا ان پر کھل جاتی ہے اور ان کے لیے انتخاب کی آزادی کا دورانیہ ختم ہو جاتا ہے۔5

الف۔ آسمانی دنیا کو غیب میں رکھنے کی حکمت

اگر آپ خدا پر ایمان نہیں رکھتے تو تھوڑی دیر کے لیے یہ تصور کریں کہ یہ پورا نظام، جس میں خدا، فرشتے اور ہماری آزادی انتخاب شامل ہیں، حقیقت پر مبنی ہے۔ منطقی طور پر یہ بات معقول نظر آتی ہے کہ خدا، فرشتے اور ان کی پوری دنیا ہماری نظروں سے پوشیدہ رہے۔ ورنہ ہماری آزادی انتخاب کیسے برقرار رہ سکتی ہے اور ہم آزادی سے غلط انتخاب کیسے کر سکتے ہیں؟ ذرا غور کیجیے، اگر ہم خدا اور فرشتوں جیسی طاقت ور ہستیوں کی براہِ راست موجودگی میں رہ رہے ہوں اور کسی بھی غلطی پر فوراً سزا کا سامنا ہو تو کیا کوئی شخص بہ قائم ہوش و حواس غلط کام کرنے کی جرأت کرے گا؟ اس سوال کا واضح جواب ”نہیں“ میں ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب ہمیں یقین ہو کہ کوئی اتھارٹی ہماری نگرانی کر رہی ہے اور قانون کی خلاف ورزی پر سزا دے گی تو ہم قانون کی خلاف ورزی سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر خدا اور ہماری آزادی انتخاب کا تصور درست ہے تو یہ معقول ہے کہ خدا اور اس کی دنیا ہماری نظروں سے پوشیدہ رہے تاکہ ہمیں اچھائی اور برائی کے درمیان مکمل آزادی انتخاب حاصل رہے۔

ب۔ ہمارے معلوم وجودی حقائق سے پوشیدہ عوالم کے تصور کی تائید

بہت سے افراد کے لیے مذہب کا کوئی بھی تصور اس وقت زیادہ قابل قبول محسوس ہوتا ہے جب اسے سائنس کی تائید حاصل ہو۔ ذیل میں دیے گئے دو بیانات پر غور فرمائیں:

1۔ خدا نے ہماری آزادی انتخاب کو برقرار رکھنے کے لیے وجود کے غالب حصے کو ہم سے پوشیدہ رکھا ہے۔

2۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا 96 فی صد حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے اور ہم اسے دیکھ یا محسوس نہیں کر سکتے۔

ایک تشکیکی ذہن رکھنے والے شخص کے لیے دوسرا بیان شاید زیادہ قابل قبول ہو گا، حالاں کہ یہ پہلے بیان سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ خیال کہ خدا نے ہماری نظروں سے زیادہ تر حقیقت کو پوشیدہ رکھا ہے، کسی حد تک ہماری کائنات کی سائنسی تفہیم کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ کائنات کے تمام مادی اجزا اور قوتیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہیں، وہ کائنات کا محض 4 فی صد ہیں۔ باقی 96 فی صد ایسے اجزا پر مشتمل ہے، جنھیں نہ تو ہم دیکھ سکتے ہیں، نہ ماپ سکتے ہیں اور نہ ہی براہ راست محسوس کر سکتے ہیں۔ جو خلا ہمیں خالی محسوس ہوتا ہے، وہ درحقیقت ایسے عناصر سے بھرا ہوا ہے، جن کے بارے میں ہمارا علم محدود ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ اجزا کیا ہیں یا کہاں موجود ہیں، لیکن ان کی موجودگی کا یقین ہمیں ان کے اثرات کے ذریعے سے ہوتا ہے، جو مرئی مادے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ ناقابل فہم اجزا سائنس دانوں کے مطابق ”ڈارک میٹر“ اور ”ڈارک انرجی“ کہلاتے ہیں، اور یہاں لفظ ”ڈارک“ سے مراد ہماری مکمل لاعلمی پر زور دینا ہے۔ اس طرح سائنس کے مطابق، کائنات کا بیش تر حصہ ہماری نظروں سے اوجھل، ناقابل سراغ اور ناقابل فہم ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی خدا یا فرشتوں کے عوالم ہیں، بلکہ میں صرف یہ نشان دہی کر رہا ہوں کہ مذہب کا یہ تصور کہ خدا نے زیادہ تر وجود ہم سے پوشیدہ رکھا ہے، ہمارے موجودہ سائنسی علم سے کسی حد تک ہم آہنگ ہے۔

آیئے، اب قرآن میں رسولوں کے حیرت انگیز بیانات کا جائزہ لیں۔

2۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی حق پر قائم تھے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے غیرمعمولی واقعات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس مقام سے اپنی تحقیق کا آغاز کریں جہاں سے قرآن اس داستان کا آغاز کرتا ہے، یعنی انسان کی تخلیق سے۔ ہم قرآن میں حضرت آدم اور حوا کی تخلیق کے بیان کو آگے تفصیل سے بیان کریں گے، جو شاید آپ کے لیے حیرت انگیز ہو اور آپ کی توقعات کے برعکس ہو۔ فی الحال، آئیے قرآن کے اس دعوے پر غور کرتے ہیں کہ انسانیت کے آغاز میں تمام لوگ ایک ہی حق پر قائم تھے، یعنی خدا کی وحدانیت اور آخرت میں جواب دہی کے تصور پر۔

الف۔ انسانی فطرت میں صحیح اور غلط کا بنیادی شعور

ایک وقت تھا جب میرا یہ خیال تھا کہ مذہب کا دعویٰ ہے کہ انسان کو صحیح اور غلط کا شعور فطری طور پر حاصل نہیں، بلکہ یہ علم اسے صرف الہامی کتابوں کے ذریعے سے ملتا ہے۔ اس سوچ نے مجھے مذہبی دعووں پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا، خاص طور پر ان افراد کو دیکھتے ہوئے جو کسی الہامی کتاب کو مانے بغیر بھی اخلاقی اصولوں پر کاربند رہتے ہیں۔ تاہم، قرآن 6کے مطابق، صحیح اور غلط کا بنیادی شعور انسان کی فطرت میں ودیعت شدہ ہے۔ یہ بیان ان لوگوں کی موجودگی کی وضاحت کرتا ہے، جو کسی بھی مذہبی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے، مگر پھر بھی اعلیٰ اخلاق کے حامل ہیں ۔ اخلاقی شعور کے فطری ہونےکا تصور انسانوں کی اس عمومی عادت سے بھی ہم آہنگ ہے کہ وہ اعمال کو صحیح یا غلط کے طور پر جانچتے ہیں، چاہے ان اصطلاحات کی تشریح میں وہ اختلاف رکھتے ہوں۔ وہ لوگ جن میں یہ اخلاقی شعور موجود نہیں یا اس میں شدید بگاڑ آ چکا ہو، عام طور پر انھیں دیوانہ، سائیکوپیتھ یا سوشیوپیتھ کہا جاتا ہے۔

ب۔ ابتدائی انسانوں کو الہامی ہدایت براہِ راست ملی

قرآن کی سورۂ بقرہ کی آیت 213کے مطابق، ابتدائی انسانوں کو براہِ راست الہامی ہدایت ملی، جس کے ذریعے سے ان پر ان کی اصل اور مقصد واضح کیا گیا۔ یوں ایک فطری اخلاقی شعور اور الہامی ہدایات کے ساتھ، اولین انسان الہامی سچائی سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ قرآن مزید بیان کرتا ہے کہ جب بھی انسانیت اس سچائی سے بھٹکی تو اللہ نے نبیوں اور کتابوں کو بھیجا تاکہ لوگوں کو اس ہدایت کی یاد دہانی کرائی جا سکے اور پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کیا جا سکے۔ 7

یہ سچائی، جیسا کہ قرآن کی مختلف آیات میں بیان کی گئی ہے، ان اصولوں پر مشتمل ہے: خداے واحد و برتر پر ایمان، فرشتوں کی موجودگی پر یقین، آخرت میں زندگی کا تصور اور اس دنیوی زندگی میں کیے گئے اعمال کی بنیاد پر آخرت میں جواب دہی کا اصول اور اس جواب دہی کے نتیجے میں اچھے یا برے دائمی انجام کا سامنا۔

ج۔ مختلف مذاہب کے وجود کی وضاحت

قرآن واضح کرتا ہے کہ مختلف مذاہب اور اساطیر کے وجود کا سبب یہ ہے کہ وقت کے ساتھ انسان مختلف وجوہات کی بنا پر سچائی سے منحرف ہو گئے۔ ان وجوہات میں باہمی دشمنی، دنیوی فائدے اور مفاد پرستی شامل ہیں، جنھوں نے معاشروں کو شرک اور بت پرستی میں مبتلا کر دیا ۔8 انسانوں نے جنوں اور فرشتوں کو خدا کے ساتھ شریک ٹھیرانا شروع کیا اور ان کے متعلق داستانیں اور اساطیری کہانیاں گھڑ لیں، یہاں تک کہ خدا سے اولاد تک منسوب کر دی۔ 9قرآن کے مطابق، تمام انسانیت ابتدا میں خدا اور وجود کی بنیادی حقیقتوں سے آگاہ تھی اور توحید کے راستے پر قائم تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ شرک اور بت پرستی کی طرف مائل ہو گئی۔

د۔ ہمارے معلوم حقائق سے قرآن کے دعوے کی تائید

قرآن رسولوں کی سرگذشتوں میں یہ بیان کرتا ہے کہ تمام انسانیت ابتدا میں سچائی کے ایک ہی راستے پر قائم تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ تقسیم کا شکار ہو گئی۔ قرآن مزید یہ بھی کہتا ہے کہ تمام ابراہیمی مذاہب اور اکثر دیگر مذہبی عقائد، ایک ہی سچائی کی شاخیں ہیں جو بگاڑ کا شکار ہو چکی ہیں۔ یہ نکتہ قابل فہم ہے، کیونکہ انسان اکثر تفصیلی عقائد پر اختلاف کرتے ہیں، چاہے ان عقائد کی بنیاد پر اتفاق ہو۔ مثال کے طور پر، مسلمانوں کو ہی لیجیے۔ ان کے پاس قرآن ہے، جسے وہ اللہ کی آخری کتاب مانتے ہیں، جو عقائد سے متعلق تمام معاملات کو واضح کرتی ہے، لیکن پھر بھی مسلمان مختلف فرقوں میں تقسیم ہیں جن کے عقائد میں نمایاں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، ایک متبادل نظریہ، جو زیادہ تر غیر مذہبی حلقوں میں پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ انسانیت نے اپنی ابتدا ایک خالی ذہن کے ساتھ کی اور بعد میں روحوں، خداؤں اور آخرت کے تصورات تخلیق کیے تاکہ اپنے وجود کی تشریح کر سکیں اور موت کے پراسرار حقائق کی کوئی تعبیر کر سکیں۔

کون سا نظریہ درست ہے؟ قرآن کا پیش کردہ نظریہ یا متبادل نظریہ؟ انسانی ارتقا کی تاریخ کے مطابق، جدید انسان تقریباً دو لاکھ سال سے موجود ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے پاس کوئی ایسی ٹائم مشین نہیں جو ہمیں ماضی میں لے جا کر یہ جاننے کے قابل کرے کہ ابتدائی انسانوں نے الوہی حقائق کے بارے میں کیا سوچا تھا۔ مزید برآں، تحریر کے ایجاد ہونے سے پہلے ( تقریباً 5000سے 7000 سال قبل) کے ہمارے پاس کوئی تحریری شواہد موجود نہیں۔

وہ ماہرین جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانیت نے شرک اور بت پرستی سے اپنے فکری سفر کا آغاز کیا، اپنا مقدمہ قدیم معاشروں کے کھنڈرات میں ملنے والے خداؤں اور دیویوں کے مجسموں اور نشانات پر استوار کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تحریر کے ایجاد ہونے سے پہلے خالص توحید آثار قدیمہ کا کوئی نشان چھوڑ سکتی تھی؟ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ خالص توحید میں نہ تو بت ہوتے ہیں، نہ علامات اور نہ ہی ایسے آثار جنھیں کھدائی کے ذریعے سے دریافت کیا جا سکے اور نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ کوئی معاشرہ توحید پر قائم تھا۔ تحریر کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں، جس کے ذریعے سے خالص توحید اپنا نشان چھوڑ سکتی۔

کیا ہماری معلوم حقیقت میں کوئی ایسا اشارہ موجود ہے جو اس بات کی تصدیق کرے کہ قرآن کا یہ بیان درست ہے کہ تمام انسانیت ابتدا میں ایک ہی عقیدہ رکھتی تھی؟ جی ہاں، ایسا اشارہ موجود ہے۔

ہ۔ مذہبی عقائد کی مشابہت — قرآن کے اولین متفقہ حق کے دعوے کی تصدیق کی ایک بنیاد

دنیا بھر کے مختلف معاشروں کے مذہبی تصورات میں ایک حیران کن عمومی مشابہت پائی جاتی ہے۔ عقائد کی یہ مشابہت ان معاشروں میں بھی پائی جاتی ہے جن کے درمیان کوئی ظاہری رابطہ نہیں رہا۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ان تمام تصورات کی اصل ایک ہی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، تقریباً چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر ہر انسانی تہذیب میں خدا یا خداؤں، فرشتوں اور آخرت کے متعلق تصورات پائے جاتے ہیں۔

مذہب—جس میں مافوق الفطرت ہستیوں جیسے خدا، بھوت، فرشتے، جن، روحوں وغیرہ کو ماننا شامل ہے—تاریخ بھر میں اور ہر ثقافت میں پایا جاتا ہے۔ ہر جانی پہچانی انسانی تہذیب کے پاس تخلیق کے اساطیری قصے موجود ہیں، سواے ایمازون کے پیراہا لوگوں کے، جن کے پاس نہ تو گنتی کے الفاظ ہیں، نہ رنگوں کے الفاظ اور نہ سماجی درجہ بندی کا کوئی تصور۔10

جب اس سمت میں مزید غور و خوض کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا دعویٰ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان ابتدا ہی سے حق سے آگاہ تھا۔ ایک خدا کا وجود، آخرت، اس آخرت میں خدا کے سامنے جواب دہی اور دنیا میں انسان کے اعمال کی بنیاد پر جنت یا جہنم کی جزا و سزا اس حق میں شامل ہیں۔ آئیے، اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کی وہ کون سی تہذیبیں ہیں، جو ایسے عقائد کی حامل رہی ہیں۔

ذیل میں پیش کی گئی تحقیق کسی پیچیدہ علمی مطالعے پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ایک عام شخص کی انٹرنیٹ پر کی گئی بنیادی جستجو کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ گوگل پر ”قدیم تہذیبوں کے مذہبی عقائد“ جیسے الفاظ و تراکیب تلاش کریں تو آپ کو اس میں سے زیادہ تر مواد تلاش کے پہلے صفحے پر دستیاب ہو جائے گا۔ یہاں یہ وضاحت کرنا نہایت اہم ہے کہ تاریخ کے ماہرین ان موضوعات پر مختلف آرا ، دلائل اور جوابی دلائل پیش کرتے ہیں، لیکن میں آپ کے سامنے ایک عمومی اور سادہ تصور پیش کر رہا ہوں، جو ایک عام قاری کو اس موضوع پر دستیاب مواد کے سرسری جائزے سے حاصل ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے، ہم نسبتاً حالیہ ادوار کے اہم عالمی مذاہب پر گفتگو کریں گے اور پھر کم معروف اور قدیم مذاہب و عقائد کی طرف رجوع کریں گے۔

ہم سب ابراہیمی مذاہب سے واقف ہیں، یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام۔ اگرچہ ان میں جزوی اختلافات موجود ہیں، لیکن یہ تینوں مذاہب کچھ بنیادی تعلیمات پر متفق ہیں: ایک خدا ہے۔ انسان کا ایک دشمن بھی ہے، جو ایک غیر مرئی مخلوق سے تعلق رکھتا ہے اور عام طور پر شیطان کہلاتا ہے۔ اسے بائیبل کے عہد نامہ عتیق، عہد نامہ جدید اور قرآن میں ”دھوکا دینے والا“ بھی کہا گیا ہے، کیونکہ یہ انسانوں کو گناہ پر اکساتا ہے۔ موت کے بعد جزا و سزا کا تصور بھی تینوں ابراہیمی مذاہب میں موجود ہے۔ آخرت میں ایک اچھا مقام (جنت) اور ایک برا مقام (جہنم) ہے، جہاں ہر فرد اپنے دنیوی اعمال کے مطابق مقام پائے گا۔

زرتشتیت، جسے ایران میں زرتشت نے پیش کیا تھا، بھی ایسے ہی بنیادی اصول سکھاتی ہے۔ اس مذہب میں ایک خدا کو ” آہور مزدا“ اور شیطان کو ” انگرہ مینیو“ یا ”بد روح“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس مذہب کے مطابق بھی موت کے بعد حساب ہو گا اور اس کے نتیجے میں انسان کو اپنے دنیوی اعمال کے بدلے میں ایک ابدی اچھا یا برا مقام ملے گا۔11

ہندومت بھی ان کے مشابہ اصولوں کی تعلیمات دیتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے اچھی یا بری زندگی موت کے بعد مثبت یا منفی نتائج کا تعین کرتی ہے، جو تناسخ کے ذریعے سے بالآخر موکش (نجات) یا نروان (آزادی) تک لے جاتی ہے۔ اگرچہ ہندومت میں کوئی واحد شیطانی شخصیت موجود نہیں، تاہم اس میں راکشسوں کا تصور پایا جاتا ہے— بدی کے دیو، جو مختلف اشکال اختیار کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ آج ہندومت کو عمومی طور پر ایک مشرکانہ مذہب کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم اس کے مقدس متون میں خداے واحد کا تصور بھی موجود ہے۔ ہندو کتب مقدسہ کی درج ذیل آیات پر غور کیجیے:

”اس دنیا کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے صرف ایک وجود تھا، ایک ایسا وجود جس کا کوئی دوسرا نہیں تھا ۔“ (چندوگیا اپنیشد: 6: 2: 1)

”جو ایک ہے، حکیم اسے کئی ناموں سے پکارتے ہیں ۔“ (رگ وید 1: 164 : 46)

”اسے نہ اوپر سے دیکھا جا سکتا ہے، نہ پار سے، نہ درمیان سے۔ وہ ہماری گرفت سے ماورا ہے۔ اس کی صورت کا کوئی صحیح عکس موجود نہیں۔ اس کا نام خود جلال ہے۔ حواس اس کا ادراک نہیں کر سکتے۔ ذہن اسے سمجھ نہیں سکتا … اس کی صورت نظر نہیں آتی۔ آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں۔ لیکن جو لوگ اسے اپنے دل میں موجود سمجھتے ہیں—اپنے دل و دماغ کے ذریعے— وہ لافانی ہو جاتے ہیں ۔“ (شویتاشوتر اپنیشد : 2: 19)

اب ہم نسبتاً کم معروف اور قدیم اقوام کے مذہبی عقائد کا جائزہ لیتے ہیں۔

اصل امریکی باشندے (Native Americans)

اصل امریکی باشندے عمومی طور پر ایک عظیم اور برتر خدا کی عبادت کے لیے معروف ہیں اور وہ فرشتوں پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ اس حوالے سے تھامس ہیریٹ (Thomas Harriot) نے اپنے مشاہدات ان الفاظ میں بیان کیے ہیں:

”انڈینز (Indians) کا ماننا تھا کہ ایک عظیم اور برتر خدا ازل سے موجود ہے، لیکن جب اس نے دنیا تخلیق کرنے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے چھوٹے دیوتاؤں کو پیدا کیا، تاکہ وہ تخلیق اور اس پر حکمرانی کے عمل میں مددگار ہوں۔“12

انی شی نا بے (Anishinaabeg) قبائل

انی شی نا بے شمالی امریکہ کے قدیم ترین مقامی قبائل کا ایک گروہ ہے۔ یہ قبائل ایک خدا پر ایمان رکھتا ہے، جسے وہ ”گیچے منیٹو“ (Gitche Manitou) یا ”عظیم روح“ کہتا ہے ۔ دیگر انڈین قبائل بھی اس واحد اعلیٰ ہستی کو ”منیٹو“ (Manitou) یا ”عظیم روح“ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ انی شی نا بے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خالق نے انھیں نیکی کے راستے پر چلنے پر مامور کیا ہے۔ نیکی کے راستے کا یہ تصور قرآن کے ”صراطِ مستقیم“ کے تصور سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ انی شی نا بے اور دیگر ریڈ انڈین قبائل میں زندگی اخلاقی اصولوں اور اقدار کے مطابق گزارنا لازم ہے تاکہ روحیں ”روحانی دنیا“ — جو ایک بہتر مقام ہے، میں جا سکیں، ورنہ ان کا انجام ”زیر زمین دنیا“ ہو گی، جو اچھا جاے قیام نہیں ہے۔ ان قبائل میں ”دھوکا باز“ یا ”فریب دینے والے“ کے کردار کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کردار ہمیشہ منفی نہیں سمجھے جاتے، کیونکہ اکثر یہ لوگوں کو زندگی کے اہم سبق سکھانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

”نانا بوزھو“ (Nanabozho) 13 انی شی نا بے قبائل کے تصور میں ایک دھوکا باز یعنی شیطان کا کردار ادا کرتا ہے،14 جس کا مقصد لوگوں کے لیے مسائل پیدا کرنا ہوتا ہے۔

چین

2000 ء قبل مسیح سے قدیم چینی عقائد کے بارے میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں، تاہم شواہد بتاتے ہیں کہ اس دور کے لوگ ایک بزرگ ترین خدا کی عبادت کرتے تھے، جسے ”Shangdi “ کہا جاتا تھا۔ چین کے بعض علاقوں میں اس اعلیٰ ہستی کو ”The Jade Emperor “کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ چین میں جہنم کا ایک تصور بھی تھا۔ یہ ایک مقام ہے جسے ”Diyu “ کہا جاتا تھا اور ارواح کو ان کے گناہوں کے کفارے کے لیے یہاں لے جایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک آسمانی دنیا کا تصور بھی موجود ہے، جسے ”Tian “ کہا جاتا ہے اور یہ نیک روحوں کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔15

قدیم چینی قوم کے ہاں شیطانی قوتوں کا بھی ذکر ملتا ہے، جنھیں ”Mogwai “ کہا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں چینی معاشرت میں یہ اصطلاح ان آبا و اجداد کی ارواح کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو اپنی زندگی میں مظالم کا شکار ہوئیں اور بدلے کی خواہش رکھتی ہیں۔ تاہم، قدیم چینیوں کے نزدیک ”Mogwai “شر کی مخلوق تھی جو انسانوں کو نقصان پہنچانے اور برائی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی تھی۔16

قدیم مقامی آسٹریلوی قبائل (Aboriginals)

ابوریجنل قبائل کے بہت سے گروہوں کے نزدیک Baiame سب سے بڑا خالق اور آسمانی خدا (Supreme Creator Sky God)ہے۔ ان میں یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ فطرت کی ایک روح ہے۔ اسی طرح ان کے آبا و اجداد کی روحیں بھی موجود ہیں۔ وہ انھی ارواح کو کائنات کا خالق مانتے ہیں۔ ان کے ہاں جنت کا ایک مبہم تصور موجود ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیوی زندگی کے اختتام پر روح کو ”Land of the Dead “میں جانا ہوتا ہے، جہاں داخلہ اس بات پر منحصر ہے کہ زندگی میں کسی فرد نے مخصوص مذہبی رسومات میں کس حد تک حصہ لیا اور اس کی تدفین کی رسومات کتنی درستگی سے انجام دی گئیں۔ یوں ایک خدا، آخرت، اچھے یا برے انجام کا تصور اور یہ خیال کہ دنیا میں کچھ مخصوص داریاں انسان کے اخروی مقدر کا تعین کرتی ہیں، ان کے عقائد کا بنیادی حصہ ہیں۔

قدیم مقامی آسٹریلوی قبائل کا یہ اعتقاد تھا کہ کائنات کے تمام عناصر ”Dream Time “ کے دوران میں تخلیق کیے گئے۔ ڈریم ٹائم کسی بھی شے کے وجود میں آنے سے پہلے کا دور ہے۔ ان کے مطابق، خالقوں نے نہ صرف انسان کو پیدا کیا، بلکہ انسانوں کو زندگی گزارنے کے اصول بھی سکھائے تاکہ موت کے بعد وہ ایک بہتر مقام تک پہنچ سکیں۔ Dream Time کے دوران میں خالقوں نے مردوں، عورتوں اور حیوانات کی تخلیق کی، زمین کے قوانین مرتب کیے اور انسانوں کے باہمی رویوں کے اصول وضع کیے۔ انھوں نے خوراک کی تقسیم کے ضوابط، پیدایش ، تدفین —جنھیں اس لیے لازمی سمجھا جاتا تھا تاکہ مرنے والے کی روح امن میں اپنی مقررہ جگہ پہنچ سکے— اور شادی بیاہ کے رسوم بھی متعین کیے۔ 17 ان کے عقائد میں ایک دھوکا باز اور فتنے کے کردار کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ قدیم Yolngu قبائل کے مطابق Bamapana ایک دھوکا باز اور فتنہ پرور کردار ہے، جو انسانوں کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔18

قدیم مصر

قدیم مصر میں مختلف دیوتاؤں کو برتری حاصل تھی اور ہر سلطنت اپنے مخصوص دیوتا کو معبودِ اعلیٰ کے طور پر پوجتی تھی۔ پہلی سلطنت کا اعلیٰ دیوتا ”پتاح“ (Ptah)تھا، جس کا تصور توحید کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ Ptah کو ہر شے کا ایسا خالق مانا جاتا تھا، جو ازلی اور غیرمخلوق ہے۔ وہ کائنات کے آغاز کا باعث، دعاؤں کو سننے والا، سچائی کا علم بردار اور عدل و انصاف کا سرپرست سمجھا جاتا تھا۔19

قدیم مصری عقائد میں Maat کے پَر کا ایک نمایاں تصور بھی پایا جاتا ہے، جس کے مطابق موت کے بعد انسان کو خدا کے سامنے حساب کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔ ہر شخص کے دل کو سچائی اور انصاف کے پَر میں تولا جاتا، تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا اس کی روح اخروی زندگی میں جنت کی حق دار ہے یا نہیں۔20

افریقی یوروبا مذہب

یوروبا مذہب ہزاروں برس سے افریقہ میں رائج ہے۔ اس مذہب میں ایک عظیم خدا کا تصور ہے۔ یہ خدا ”Olorun “ یا ”Olodumare “کہلاتا ہے۔ یوروبا مذہبی روایت میں فرشتوں کا بھی ذکر ہے، جنھیں ”Irunmole “ کہا جاتا ہے۔ یوروبا کے پیروکار نیکی، پاکیزگی، اور کمال کی جستجو سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ”Orun-Rere “یعنی نیک روحانی دنیا میں جگہ پا سکیں۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مضمون نگار کے مطابق:

”عمومی طور پر، افریقی مذاہب میں ایک ایسے خالق خدا کا عقیدہ موجود ہے جس نے ایک متحرک کائنات کی بنیاد رکھی۔ مختلف افریقی قوموں کے اساطیر میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ دنیا کو حرکت میں لانے کے بعد یہ خالق خدا خود کو انسانی معاملات سے دور کر لیتا ہے۔“21

افریقی مذہبی عقائد میں ایک ”دھوکا باز“ یا ”چالاک“ کردار کا تصور بھی پایا جاتا ہے، جو غالب صورتوں میں برائی کی علامت ہوتا ہے، لیکن بعض روایات کے مطابق وہ اچھائی کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ خواہ یہ کردار اخلاقی طور پر اچھا ہو یا برا، یہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھوکا دہی اور فریب کاری کا سہارا لیتا ہے۔ جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں ذکر ہوا ہے:

”دھوکہ باز (trickster) افریقی اساطیر میں ایک عام اور نمایاں کردار ہے۔ یہ روایت کو بدل دیتا ہے اور اپنی بے قابو خواہشات اور لالچ کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں تباہی ہی کیوں نہ آئے۔“22

نارسی (Norse) اساطیر

قدیم اسکینڈی نیوین قوموں کے مذہبی عقائد کے بارے میں تفصیلات کم دستیاب ہیں، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں ایک خداے برتر کا تصور موجود تھا، جسے وہ ”Odin “ کے نام سے جانتے تھے۔

نارسی عقائد میں جنت کو ”Valhalla “کہا جاتا ہے، جسے ”شہید جنگجوؤں کا ایوان “ نام بھی دیا گیا ہے۔ یہ وہ مقام تھا، جہاں جنگ میں مارے جانے والے بہادر جنگجو خدا Odin کی قیادت میں پر مسرت زندگی گزارتے ہیں۔23

ان کے ہاں جہنم کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ وہ اس مقام کو ”Niflheim “ کے نام سے پکارتے ہیں اور اس کا بیان کچھ یوں کرتے:

”مُردوں کی سرد، تاریک اور دھندلی دنیا …وہ مقام جو موت کے بعد بروں کا ٹھکانا ہے۔“24

نارسی عقائد میں ”دھوکہ باز “ یا ”چالاک (شیطان) “ کا کردار بھی موجود ہے، جو ”Loki “ کہلاتا ہے۔ یہ کردار نہ مکمل طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے اور نہ برا، لیکن اس کا مقصد ہمیشہ انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔25

یونانی اساطیر

یونانی اساطیر میں Zeus کو سب سے بڑے خدا کا درجہ حاصل تھا۔ Elysium وہ جنت تھی جہاں دیوتاؤں کی عنایات سے لافانی ہونے والے ہیروز بستے تھے۔ 26Underworld قدیم یونانیوں کے عقائد میں جہنم کی طرح ایک جگہ تھی۔ 27 یونانی اساطیر میں بھی ”مکار (شیطان) “ کے کردار کو اہم مقام حاصل ہے، جسے Prometheus ، یعنی سب سے بڑا دھوکے باز، کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 28 پرومیتھس Dolos (یعنی فریب کی روح) اور Pseudea (جھوٹ کی روح) کو کنٹرول کرتا ہے۔29

اگرچہ ان تہذیبوں کے عقائد اور اساطیری داستانوں کی تفصیلات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں، لیکن ان میں عمومی اور بنیادی تصورات میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان سب اساطیر میں ایک سب سے بڑے خدا یا خالق کا تصور، آخرت کا عقیدہ اور آخرت میں انسان کے اعمال کی بنیاد پر اچھے یا برے انجام کا تصور شامل ہیں۔ اسی طرح، ایک ”دھوکا باز“ یا ”گمراہ کرنے والے“ کردار کا ذکر بھی ان عقائد میں مشترک ہے۔ یہ کردار انسانوں کو گم راہ کرنے اور انھیں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں میں یہ یکساں تصورات کہاں سے آ گئے۔ یہ امر غور کا تقاضا کرتا ہے۔ ان تصورات کا تقریباً ہر انسانی معاشرے میں پایا جانا ایک مشترکہ ماخذ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ کیوں مختلف انسانی معاشرے آزادانہ طور پر ان تصورات کو اپناتے۔ نہ انسانی نفسیات میں اور نہ ہی خارجی ماحول میں کوئی ایسی چیز ہے، جو اس طرف اشارہ کرے کہ تمام انسان ایک مخصوص انداز میں سوچنے اور ایسی حقیقت کی یہ تشریحات اپنانے پر فطری طور پر مجبور تھے۔

میرے نزدیک یہ اشتراک قرآن کے اس دعوے کی تصدیق ہے کہ شروع میں تمام انسان ایک ہی الہامی پیغام کو حق مانتے تھے۔ بعد میں یہ پیغام سینکڑوں ہزاروں سال کے دوران میں مختلف مذاہب اور اساطیری کہانیوں میں بکھر گیا۔ ان داستانوں اور عقائد کی تفصیلات چاہے کتنی بھی مختلف ہوں، ان میں ایک بنیادی مشابہت موجود ہے، جو ان سب کے مشترکہ منبع و ماخذ کے وجود کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

3۔ انسانیت کی ہدایت کے لیے خدا کے نبی

قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ جب انسانیت حق سے بھٹکنے لگی تو خدا نے مختلف اقوام میں سے نیک اور برگزیدہ افراد کو چنا اور انھیں ”نبی“ کا مقام عطا کیا۔ ان انبیا کو اس عظیم منصب پر فائز کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ انسانوں کو حق کی طرف واپس بلائیں اور ان گم راہیوں اور بگاڑ کی اصلاح کریں جو وقت کے ساتھ انسانی معاشروں میں سرایت کر چکے تھے۔ 30

الف۔ انسانی تاریخ میں انبیا کے تصور کا مبہم خاکہ

قرآن کا بیان ہے کہ انسانیت مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے تصور سے واقف تھی، لیکن زیادہ تر انبیا کو ان کی اپنی اقوام نے مسترد کر دیا اور وہ خاطر خواہ پیروکار حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ 31 کتاب اللہ کا یہ دعویٰ تاریخی مشاہدات سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ انسانیت عمومی سطح پر ایسے افراد کے تصور کو تسلیم کرتی رہی ہے، جو خدا سے رابطے میں تھے اور اس کی رہنمائی میں لوگوں کو حق کی طرف بلاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں ہمیں شمن، رِشی اور بزرگ شخصیات کے تصورات تقریباً ہر تہذیب میں ملتے ہیں۔ تاہم، سواے چند استثناءات کے ایسے انبیا میں سے مخصوص شخصیات کا واضح ریکارڈ کم ہی موجود ہے۔ استثنائی مثالوں میں جیسے ہندومت کے رِشی، زرتشتیت کے پیغمبر زرتشت اور ابراہیمی روایت کے انبیا شامل ہیں۔

قرآن کے بیانیے کے مطابق، جب انسانیت حق سے بھٹک گئی تو خدا نے مختلف اقوام میں انبیا بھیجے، لیکن، اکثر انبیا کو مسترد کر دیا گیا۔ کسی نبی کی دعوت اور پیغام کو قبول یا رد کرنے کا کوئی دنیوی نتیجہ نہیں ہوتا تھا، کیونکہ ہر انسان کا حتمی احتساب ”یومِ قیامت“ پر ہونا طے پایا تھا۔

انبیا کے بعد خدا نے رسول بھیجے، جن کا کام صرف ہدایت اور رہنمائی کے ابلاغ تک محدود نہ تھا، بلکہ ان کے نہ ماننے کے دنیوی نتائج نہایت سنگین تھے۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو یہاں زیرِ بحث ہے—خدا کے رسول کے تصور کا جائزہ!

4۔خدا کے رسول اور قانونِ رسالت

رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور قانون رسالت، بالخصوص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہ حیثیت رسول پر، تفصیلی بحث اور حوالہ جات کے لیے ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“کے یوٹیوب چینل پر دستیاب اتمام حجت کی پلے لسٹ ملاحظہ کریں۔32

الف۔ نبی اور رسول: دو مختلف مناصب

”رسول“ کا لغوی مطلب پیغام بر یا قاصد ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے، یعنی وہ خدا سے براہِ راست وحی وصول کرتا ہے، لیکن قرآن نبی اور رسول کے مناصب میں واضح فرق کرتا ہے اور ان دونوں اصطلاحات کو مخصوص اور مختلف مواقع پر استعمال کرتا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”ہم نے (اے پیغمبر)، تم سے پہلے جو رسول اور جو نبی بھی بھیجا ہے، اُس کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا کہ اُس نے جب بھی کوئی تمنا کی، شیطان اُس کی تمنا میں خلل انداز ہو گیا ہے۔ پھر شیطان کی اِس خلل اندازی کو اللہ مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔“ (الحج22 : 52)

علماے امت اس بات پر متفق ہیں کہ ”نبی“ اور ”رسول“ دو مختلف مناصب ہیں۔ ابن عاشور اور زمخشری جیسے مفسرین کے مطابق، نبی وہ ہے جو نئی شریعت یا کتاب نہیں لاتا، جب کہ رسول نئی کتاب اور شریعت لاتا ہے۔ تاہم، اس تاویل میں ایک اشکال یہ ہے کہ قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول قرار دیتا ہے۔ البتہ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود یہ واضح کیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار تھے اور انھوں نے کوئی نئی شریعت نہیں دی۔ مولانا مودودی نے اس اختلاف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ قرآن کے مطابق نبی اور رسول دو مختلف مناصب ہیں، لیکن ان کے مابین فرق کے حوالے سے علما کے درمیان اختلافِ راے موجود ہے اور اب تک کوئی قطعی اور حتمی راے سامنے نہیں آئی۔

مولانا امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی صاحب نے قرآن کی روشنی میں رسول کے حقیقی تصور کو وضاحت سے بیان کیا ہے۔ ان دونوں علما نے اس موضوع پر گہری تحقیق کی ہے۔ میرے نزدیک رسول کے اس تصور کو سمجھنا اسلام کے کئی بنیادی تصورات کو سمجھنے کی کلید ہے۔

ب۔ رسالت کے تصور کا درست مفہوم: زمین پر خدا کی عدالت

قرآن کے مطابق، نبی وہ ہستی ہے جو خدا کا پیغام انسانوں تک پہنچاتی ہے۔ بعض انبیا کو خدا کی طرف سے کتابیں عطا کی گئیں تاکہ ان کے دنیا سے رحلت پا جانے کے بعد یہ کتابیں لوگوں کے درمیان مذہبی تنازعات کے تصفیے کا ذریعہ بنیں ۔33 نبی کے پیغام کو قبول یا رد کرنے کا کوئی فوری دنیوی نتیجہ نہیں ہوتا، کیونکہ ہر فرد کا حتمی احتساب روز قیامت ہوگا۔

لیکن رسول وہ ہے، جس کے پیغام کو قبول یا تمرّد سے مسترد کرنے کے ان کے براہ راست مخاطبین کے لیے فوری دنیوی نتائج نہایت گہرے اور اہم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آجاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔“ (یونس10 : 47)

”ہم (کسی قوم کو) کبھی سزا نہیں دیتے، جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں (کہ سزا سے پہلے وہ اُس پر حجت پوری کر دے) ۔“ (بنی اسرائیل17 : 15)

”حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار اِن بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں تھا، جب تک اِن کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج لے جو ہماری آیتیں اِنھیں پڑھ کر سنا دے ۔“

(القصص28 : 59)

قرآن کے مطابق وہ قومیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، کچھ مخصوص برائیوں میں مبتلا تھیں۔ البتہ ان پر دنیوی سزا ان کی طرف مبعوث کیے گئے رسول کے پیغام کو جھٹلانے کی وجہ سے ہی نازل ہوئی۔ 34

یہ حقیقت میرے لیے ایک دیرینہ سوال کا جواب بن کر سامنے آئی۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ جب خدا نے قوم نوح پر طوفان یا قوم لوط پر پتھروں کی بارش کی صورت میں عذاب بھیجا تو آج کے دور میں ایسے عذاب کیوں نہیں آتے، خاص طور پر ان شہروں میں جہاں نہ صرف کھلے عام گناہ کیے جاتے ہیں، بلکہ ان کی تبلیغ بھی کی جاتی ہے ؟ قرآن ہمارے اس معمے کو حل کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ عمومی طور پر لوگوں کے گناہوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا، لیکن کسی رسول کے پیغام کو جھٹلانے کا جرم اس کے براہ راست مخاطبین کے لیے دنیوی سزا کا باعث بنتا ہے۔

کچھ علما نے ان آیات میں مذکورہ جزا و سزا کو قیامت کی جزا و سزا قرار دیا ہے، البتہ ان آیات کا سیاق و سباق اس تاویل کی تائید نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر، سورۂ یونس کی آیات 48-49 میں قطعی طور پر واضح ہے کہ مذکورہ سزا دنیوی سزا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ان آیات کا موقع کلام یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سوال کیا کہ ”یہ فیصلہ“کب آئے گا؟ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ فرمائیں کہ ہر قوم کے لیے ایک مقررہ وقت یا مہلت ہوتی ہے، اور جب وہ وقت آتا ہے اور مہلت گزر جاتی ہے تو فیصلہ نافذ کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر سورۂ حجر کی آیت 4 بالکل صراحت سے بتاتی ہے کہ ہر قوم کو ایک مہلت دی جاتی ہے اور جب یہ مہلت ختم ہو جاتی ہے تو ان پر فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد آیات— جن میں خاص طور پر سورۂ رعد کی آیت 40؛ سورۂ غافر کی آیت 77 اور سورۂ یونس کی آیت 46 شامل ہیں— میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قوم کے حوالے سے اپنی دینونت کے متعلق کچھ فیصلے ان کی زندگی میں دکھا دے گا اور کچھ ان کی وفات کے بعد ظاہر ہوں گے۔ یہ آیات تصریح کرتی ہیں کہ قرآن میں جس فیصلے کا ذکر کیا گیا ہے، خاص طور پر رسول کے مخاطبین کے حوالے سے، وہ دنیوی فیصلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے براہِ راست مخاطبین میں سے جو لوگ اس کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں اور اس پر ظلم کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن تو سزا کے مستحق ہوں گے ہی، لیکن انھیں دنیا میں بھی عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ بہت سے روایتی علما — بہ شمول زمخشری، بیضاوی، اور ابو حیان— اس بات سے متفق ہیں کہ ان آیات میں مذکور فیصلہ دنیوی فیصلہ ہے، اور وہ اس کے مقابل نقطۂ نظر کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔

خدا کے رسولوں کے منصب کو سورۂ ابراہیم کی آیات 13 تا 15 اور سورۂ انبیا کی آیات 6 تا 9 میں نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ رسولوں نے اپنی قوموں کے سامنے خدا کا پیغام پیش کیا، لیکن انھیں ناحق مسترد کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ان پر ظلم کیے گئے۔ نتیجتاً، ان رسولوں کے منکرین پر خدا کا فیصلہ نافذ ہوا۔ ان ظالموں کو ہلاک کر دیا گیا، جب کہ رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو نجات دی گئی۔ یہ آیات اس سنتِ الٰہی کو بیان کرتی ہیں کہ رسولوں کا انکار کرنے والوں کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے، اور خدا اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دیتا ہے اور کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے رسول نہ صرف انکار کرنے والوں کے لیے سزا کا باعث بنتے ہیں، بلکہ اپنے پیروکاروں کے لیے دنیوی انعامات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ قرآن سورۂ اعراف کی آیت 96 میں واضح کرتا ہے کہ جو لوگ رسول کے پیغام کو قبول کرتے ہیں، انھیں دنیا میں انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ مزید برآں، سورۂ ابراہیم کی آیت 14 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب رسول کے دشمنوں کو ختم کر دیا جاتا ہے تو ان لوگوں کو، جو رسول کے پیغام کو قبول کرتے اور اس کی مدد کرتے ہیں، زمین پر اقتدار کی صورت میں دنیوی انعام عطا کیا جاتا ہے۔

چنانچہ رسولوں کا انکار کرنے والوں اور ان پر ظلم ڈھانے والوں کے لیے خدا کی طرف سے دنیوی سزا مقرر ہے، جب کہ رسول کے پیغام کو قبول کرنے اور اس کی حمایت کرنے والوں کے لیے دنیا میں انعامات اور برکتیں طے ہیں۔

5۔خدا کن لوگوں سے ناراض ہوتا ہے

خدا کے رسول کا انکار ان کے براہِ راست مخاطبین کے لیے دنیوی سزا کا باعث بنتا ہے۔ اس حقیقت نے میرے ذہن میں ایک سوال کو جنم دیا کہ اگر میں کسی رسول کا براہِ راست مخاطب ہوں اور باوجود اس کے کہ میں رسول کے پیغام کو خلوص دل سے سنتا ہوں، لیکن کچھ جائز وجوہات کی بنا پر، مثلاً اگر پیغام کا کوئی پہلو اخلاقی یا عقلی طور پر میرے لیے قابلِ فہم نہ ہو، میں اس پیغام کو قبول نہ کروں تو کیا خدا مجھے سزا دے گا؟ اس پر قرآن کا جواب ہے کہ نہیں! میں اس کی وضاحت پیش کرتا ہوں۔

قرآن اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ رسول کے براہِ راست مخاطبین کے لیے خدا حق کو ہر شک و شبہ سے بالاتر کر کے واضح کر دیتا ہے۔ اس وضاحت کو ممکن بنانے کے لیے خدا مختلف ذرائع اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، رسول کی بے عیب شخصیت اور کردار اور اس کا مضبوط اور مدلل بیان ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں، جہاں کسی معقول مخالف دلیل کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ، رسول کو معجزات عطا کیے جاتے ہیں اور خارجی سیاسی و عسکری حالات اس انداز سے ترتیب پاتے ہیں جو اس کے دعوے کی سچائی کو مزید تقویت بخشتے ہیں۔ یوں دلائل کی قوت، رسول کا کردار، معجزات اور خارجی واقعات کی مدد سے ایسا ماحول تشکیل پاتا ہے، جہاں حق رسول کے مخاطبین پر غیر مبہم طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ جو لوگ اس واضح حق کا انکار کرتے ہیں، ان کے انکار کی وجوہات عموماً بے بنیاد ہوتی ہیں۔ مثلاً، وہ رسول کے پیغام کو غفلت کی وجہ سے یا اپنی دنیوی خواہشات، مفادات، روایات یا انا کے خلاف سمجھ کر رد کرتے ہیں۔

قرآن کا اعلان ہے کہ جب تک آپ کی نیت خالص اور سچائی پر مبنی ہو اور آپ رسول کے پیغام کو جان بوجھ کر اور ناحق طور پر رد نہ کریں، آپ کو سزا نہیں دی جائے گی۔ اس بات کو قرآن کی درج ذیل آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے:

”حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار اِن بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں تھا، جب تک اِن کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج لے جو ہماری آیتیں اِنھیں پڑھ کر سنا دے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم بستیوں کو اُسی وقت ہلاک کرتے ہیں، جب اُن کے لوگ اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن جاتے ہیں۔“ (القصص28 : 59 )

قرآن کی سورۂ توبہ کی آیت 70 اور سورۂ ابراہیم کی آیت 45 میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ قومیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے، اس وقت ہلاک کر دی گئیں جب ان لوگوں نے خود ہی ”اپنے اوپر ظلم کیا“۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جانتے بوجھتے باطل اعمال کے مرتکب ہوئے۔

مزید برآں، قرآن سورۂ غافر کی آیت 5 میں فرماتا ہے کہ رسول کے براہِ راست مخاطبین میں سے جو لوگ خدا کی سزا کے مستحق قرار پائے، وہ تھے جنھوں نے جھوٹے اور بے بنیاد دلائل کے ذریعے سے حق کو مسترد کیا ۔ (وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ)

اسی طرح، قرآن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جھوٹ اور تکبر خدا کے نزدیک ناقابل معافی گناہ ہیں۔ متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ تکبر کسی بھی صورت میں قابل معافی نہیں۔ مثال کے طور پر، سورۂ غافر کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ تکبر کے سبب خدا کے پیغام کو رد کرتے ہیں، وہ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ علاوہ ازیں، قرآن میں وہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ کا اولین انسانوں سے مکالمہ بیان ہوا ہے، بتاتی ہے کہ خدا نے انسانوں سے اپنے خطاب میں یہ وضاحت کی کہ جب بھی وہ حق سے ہٹیں گے تو انھیں ہدایت دینے کے لیے انبیا اور رسول بھیجے جائیں گے۔ ان آیات میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وہ جھوٹ کے ذریعے سے اپنے غلط فہم کو چھپانے کی کوشش نہ کریں (کَذَّبُوْا) اور نہ جانتے بوجھتے حق کو تکبر کے سبب مسترد کریں (وَاستَکبَرُوا)۔ تکبر کی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس کی تعریف یوں بیان کی:

”کبر، جانتے بوجھتے حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔“ (مسلم، رقم91)

اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے سخت ناراض ہوتا ہے جو اُس کے پیغامِ حق کو پہچاننے کے باوجود بلاوجہ مسترد کر دیتے ہیں۔ آئیے، قرآن کے ان مقامات کا جائزہ لیتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے ان افراد کی سخت مذمت کی ہے جو دل سے حق کو ماننے کے باوجود اسے جھٹلاتے ہیں۔

سورۂ نمل کی آیت 14 میں آیا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا، حالاں کہ ان کے دل اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، لیکن انھوں نے ناحق اور تکبر کے باعث اس حق کو جھٹلا دیا۔

سورۂ نحل کی 83 میں قرآن اعلان کرتا ہے کہ مکہ کے مشرکین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے تھے، لیکن اس کے باوجود ناشکری کرتے ہوئے انھوں نے پیغام الٰہی کو رد کر دیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےبراہ راست مخاطب یہود و نصاریٰ کے ایک گروہ کے متعلق سورۂ بقرہ کی آیت 146 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور اِن میں یہ ایک گروہ ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔

سورۂ آل عمران کی آیت 71 میں اہل کتاب کے اس گروہ کی سخت مذمت کی گئی ہے جو ”جان بوجھ کر حق کو چھپاتے “ ہیں اور لوگوں کو گم راہ کرتے ہیں۔

سورۂ انعام کی آیت 28 کے مطابق جہنم میں وہ لوگ جائیں گے جو دنیا میں حق کو چھپانے کے جرم کے مرتکب ہوئے۔

سورۂ اعراف کی آیت 9 میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن نقصان اٹھانے والے وہ ہوں گے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ناحق اور بے بنیاد وجوہات کے باعث رد کیا۔

سورۂ محمد کی آیت 32 میں ان لوگوں کا ذکر ہے، جو ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔

سورۂ نمل کی آیت 14 میں ان افراد کی مذمت کی گئی ہے جن کے دل حق کی گواہی دے چکے تھے، لیکن انھوں نے اپنی انا اور تکبر کی وجہ سے اسے جھٹلا دیا۔

الف۔ کافر کون ہے؟

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں ، بنیادی طور پر قرآن ان کے لیے ”کافر“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو حق کا انکار کرے یا اسے چھپائے۔ قرآن میں ان افراد کو کافر یا منکر کہا گیا ہے جنھوں نے کھلے عام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو مسترد کیا۔ تاہم، ”کافر“ کی اصطلاح صرف انکار تک محدود نہیں، بلکہ اس کے معنی میں ناشکری اور تکبر بھی شامل ہیں، جو قرآن میں اس کے گہرے اور وسیع تر مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔

لفظ ”کافر“ عربی مادے ”ک-ف-ر“ سے مشتق ہے۔ قبل از اسلام عرب اس لفظ کو کسان کے لیے استعمال کرتے تھے، کیونکہ کسان زمین میں بیج بوتے وقت ان پر مٹی ڈال دیتے تھے، یعنی بیج کو چھپاتے تھے۔ جس طرح کسان بیج کو مٹی میں چھپاتا ہے، ویسے ہی ”کافر“ وہ شخص ہے جو حق کو چھپاتا ہے، یعنی ایسا شخص جو جانتے بوجھتے حق کا انکار کرتا ہے۔ 35

چنانچہ ”کافر“ صرف وہ نہیں جو حق کا جانتے بوجھتے انکار کرے، بلکہ وہ بھی ہے جو حق کو چھپائے۔ دوسرے الفاظ میں، لفظ”کافر“ایسے شخص پر دلالت کرتا ہے جو غیر معقول وجوہات کی بنا پر حق کو قبول کرنے سے انکار کرے۔

قرآن صراحت سے بتاتا ہے کہ رسول کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ حق کو اپنے براہ راست مخاطبین کے لیے اس قدر واضح کر دیتا ہے کہ کسی شک و شبہ کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ جب حق کا وضوح اس درجے میں مکمل ہو جاتا ہے تو جو لوگ رسول کے پیغام کو رد کرتے ہیں، وہ بے جا وجوہات کی بنا پر ایسا کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ آئیے، چند ایسی مخصوص وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں جنھیں منکرین کی طرف سے رسولوں کے انکار اور ان کے پیغام کو رد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا:

1۔ قرآن ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کے بغیر ہی مسترد کر دیتے ہیں ۔ (النمل27 : 84)

2۔ یہ مطالبہ کہ حق کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا جب تک اللہ خود اس معاشرے کے اشرافیہ سے بات نہ کرے ۔ (الزخرف 43 : 31)

3۔ حق کو اس بنیاد پر مسترد کرنا کہ وہ ان کے دنیوی مفادات یا نفسانی خواہشات کے خلاف ہے۔ (النجم 53 : 29 ۔ المائدہ 5 : 48)

4۔ وہ لوگ جو نہ حق کو سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے فہم و شعور کا استعمال کرتے ہیں۔ (الملک 67: 10۔ الانفال 8 : 22)

5۔ حق کو اس بنیاد پر رد کرنا کہ وہ ان کے آباؤ اجداد کے عقائد اور روایات کے خلاف ہے۔ (ابراہیم14 : 10۔ الاعراف 7 : 70)

6۔ حق کو عقلی دلائل کے بجاے غیر معمولی معجزات کے تقاضے کی بنیاد پر مسترد کرنا ۔ (الانعام6 : 124۔ بنی اسرائیل17 : 89-93)

7۔ اس بنیاد پر حق کو رد کرنا کہ رسول محض ایک انسان ہے اور کسی غیر معمولی طاقت کا حامل نہیں۔ (الانبیا 21 : 1-3۔ بنی اسرائیل17 : 94۔ الفرقان 25 : 7-8۔ ابراہیم 14: 10)

8۔ اس وجہ سے حق کو مسترد کرنا کہ اس پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب اور کم زور طبقے کے لوگ ہیں۔ (الشعراء26 : 111۔ الرعد 13: 27)

9۔ بعض یہودیوں کی مذمت اس بنا پر کی گئی کہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننے سے اس لیے انکار کیا کہ وہ ان کی قوم سے تعلق نہیں رکھتے تھے (البقرہ2 : 87-90)

قرآن میں بے شمار آیات ایسی ہیں، جو اس کے پیغام کو رد کرنے والوں کے پیش نظر اسی نوع کی غیر معقول اور ناحق وجوہات کو بیان کرتی ہیں۔

ب۔ انکارِ حق کی سزا کی معقولیت

فرض کریں کہ قرآن میں رسولوں کے متعلق پیش کی گئی پوری اسکیم درست ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف عقلی طور پر، بلکہ اخلاقی طور پر بھی بالکل جائز اور معقول ہے کہ ان لوگوں کو سزا دی جائے، جو قرآن میں بیان کردہ بے بنیاد وجوہات کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے رسول کو جھٹلاتے ہیں۔

ج۔ تکفیر کے حوالے سے مختصر وضاحت

یہ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ انسانوں کے دلوں میں کیا ہے، چونکہ انبیا اور رسول براہِ راست اللہ سے رابطے میں ہوتے ہیں، اس لیے اللہ انھیں یہ بتا دیتا ہے کہ کون شخص ناحق اور بے بنیاد وجوہات کی بنا پر حق کو جھٹلا رہا ہے۔

قرآن کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ ان کے بعد کسی کو کافر قرار دینا ہمارے اختیار میں نہیں، کیونکہ ہم کسی کے دل میں جھانک کر یہ نہیں جان سکتے کہ وہ شخص اللہ کے پیغام کو کیوں مسترد کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اس شخص کے سامنے حق کی اصل شکل کے بجاے اس کی مسخ شدہ تصویر آئی ہو اور ایسا اسلام کی بہت سی مختلف اور متضاد تعبیرات کی موجودگی میں ممکن بھی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ شخص حق کو اس لیے مسترد کر رہا ہو کہ جو دلائل اس کے سامنے پیش کیے گئے ہیں، وہ اسے اخلاقی، عقلی یا منطقی طور پر مطمئن نہ کر سکے ہوں۔ مزید یہ بھی ممکن ہے کہ وہ شخص زندگی میں ایسی سنگین مشکلات سے دوچار ہو کہ اس کے پاس حق کو تلاش کرنے کے لیے درکار وقت ہو اور نہ توانائی۔ خلاصہ یہ کہ ہم نہ تو اللہ سے براہ راست پوچھ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے دل میں جھانک کر یہ تعین کر سکتے ہیں کہ وہ شخص کسی پیغام کو مخلصانہ وجوہات کی بنا پر مسترد کر رہا ہے یا بے جا وجوہات کی بنا پر اس سے منہ موڑ رہا ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے براہ راست رابطے میں تھے۔ ان کے بعد یہ ذریعہ باقی نہیں رہا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ فیصلہ کہ کون کافر ہے اور کون نہیں، صرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی کریں گے۔ اس لیے آج کے دور میں جو لوگ اسلام کو رد کرتے ہیں، وہ محض غیر مسلم کہلائیں گے اور انھیں کافر نہیں کہا جا سکتا۔

امید ہے کہ اب تک قرآن میں رسولوں کے حوالے سے پیش کی گئی اسکیم آپ کو بھی اتنی ہی عقلی اور اخلاقی محسوس ہو گی، جتنی یہ میرے لیے ہے۔

6۔ حضرت نوح ، اللہ کے پہلے رسول

حضرت نوح کا قصہ قرآن میں مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ یہاں ہم چند آیات کی مدد سے اس موضوع پر اپنے موقف کی تائید میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

قرآن حضرت نوح کے حوالے سے کسی مخصوص زمانے کا تعین نہیں کرتا، لیکن جس طرح کتاب اللہ میں ان کا ذکر ہوتا ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کی طرف بھیجے جانے والے پہلے رسول تھے۔ 36حضرت نوح نے اپنی قوم میں پھیلے ہوئے شرک اور بت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی اور قوم کو ایک اللہ کی عبادت اور اخلاقی اصلاح کی دعوت دی۔ نوح کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو مسترد کیا اور ان کی منطق اور دلائل کو نظرانداز کر دیا۔ 37 انھوں نے نوح کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ اعتراضات کیے کہ اگر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ان کے پاس غیر معمولی اور مافوق الفطرت طاقت کیوں نہیں؟ یا پھر ان کے ماننے والے زیادہ تر غریب اور نچلے طبقے کے لوگ کیوں ہیں؟ 38انھوں نے یہاں تک دھمکی دی کہ اگر نوح اپنی تبلیغ سے باز نہ آئے تو انھیں سنگسار کر دیا جائے گا۔39

قرآن میں بیان کردہ خدا کے رسولوں کے متعلق قانون الٰہی کے مطابق، نوح کی قوم کو ان کے انکار اور رسول کی مخالفت کی پاداش میں ایک طوفان کے ذریعے سے ہلاک کر دیا گیا۔ نوح کے پیغام کو قبول کرنے اور ان کی مدد کرنے والے چند متبعین کو ایک کشتی کے ذریعے سے بچا لیا گیا اور بعد میں انھیں زمین پر غلبہ عطا کیا گیا۔ 40

قرآن نوح کی قوم کے مقام سکونت یا ان کے اور ان کی قوم کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی زمانی ترتیب کی تفصیل بیان نہیں کرتا۔ تاہم، یہ واضح کرتا ہے کہ نوح کا طوفان عالمی نہیں، بلکہ ایک علاقائی واقعہ تھا، جس کا مقصد رسولِ خدا کے براہِ راست مخاطبین میں سے منکرین کو ہلاک کرنا تھا۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سائنسی یا تاریخی طور پر اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ حضرت نوح واقعی موجود تھے اور ان کی قوم کو ایک مقامی طوفان کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا؟ ہمارے پاس ان دعووں کی تصدیق یا تردید کا کوئی سائنسی طریقہ موجود نہیں ۔

لیکن ایک امید موجود ہے۔ قرآن حضرت نوح کے قصے کے بارے میں ایک دل چسپ دعویٰ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نوح کے واقعے کو اس نے انسانی اجتماعی یادداشت میں محفوظ رکھا ہے اور بعد کی نسلوں کے لیے اسے ”نشانی “اور ”یاد دہانی“بنایا ہے۔41اگرچہ قرآن حضرت نوح کے بعد کے کئی رسولوں کے واقعات بیان کرتا ہے، لیکن یہ منفرد دعویٰ صرف حضرت نوح کے واقعے کے بارے میں کرتا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز دعویٰ ہے۔ تو کیا واقعی حضرت نوح کا قصہ انسانی اجتماعی یادداشت میں موجود ہے؟ جی ہاں، یہ قصہ دنیا کی کئی ثقافتوں میں موجود ہے اور یہ حقیقت قرآن کے دعوے کی تائید کرتی ہے۔ ان قصوں کی تفصیلات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں عمومی تصورات اور بنیادی نکات مشترک ہیں، جو ان سب کے ایک مشترک ماخذ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ قرآن کے اس خاص دعوے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرت نوح کی سرگذشت کو قرآن کی الہامی حیثیت کی دلیل بناتا ہے، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ جان سکیں کہ چین سے لے کر ہندوستان، شمالی امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا تک تقریباً تمام ثقافتوں میں طوفان کا قصہ موجود ہے اور ان سب روایات میں عمومی مماثلت پائی جاتی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ حضرت نوح کی سرگذشت معمولی اختلافات کے ساتھ اسلام، عیسائیت اور یہودیت میں موجود ہے۔ آئیے، دنیا بھر کی دیگر مختلف ثقافتوں میں طوفان کے ان قصوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

الف۔ دنیا کی تقریباً تمام تہذیبوں میں طوفان کے قصے: ایک تجزیہ

ریڈ انڈینز کے ہاں طوفان: وینابوزھو (Waynaboozhoo) اور عظیم طوفان کی کہانی کے مطابق خدا یا عظیم روح(Great Spirit)، انسانیت سے ناراض ہو کر زمین پر طوفان لے آیا تاکہ انھیں ختم کر دے۔ وینابوزھو (Waynaboozhoo) نامی ایک شخص نے ایک بیڑا بنا کر اپنی جان بچائی اور بعد میں زمین کو دوبارہ بسایا۔42

نارڈک (Norse) طوفان: نارڈک داستان میں زمین ایک دیو کے خون سے ڈوب جاتی ہے، جسے اوڈین (Odin) خدا نے قتل کیا تھا۔ صرف ایک ”فراسٹ جائنٹ “(Frost Giant) اور اس کی بیوی کشتی پر زندہ بچتے ہیں اور بعد میں زمین کو آباد کرتے ہیں۔ 43

چینی طوفان: چینیوں کے ہاں موجود طوفان کے قصے کے مطابق کچھ بچے آسمانی بجلی کے دیوتا پر احسان کرتے ہیں۔ بدلے میں وہ انھیں آنے والے طوفان کی خبر دے دیتا ہے۔ وہ انھیں بچاؤ کے لیے ایک کدو جیسی کشتی فراہم کرتا ہے۔ وہ بچے اس کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں اور طوفان سے جان بچاتے ہیں۔ پھر یہی بچے زمین کو دوبارہ آباد کرتے ہیں۔44

ہندوستانی طوفان: منو (Manu) نامی ایک شخص نے ایک مچھلی کے ساتھ اچھائی کی، جو کچھ روایتوں کے مطابق، وشنو دیوتا کا اوتار تھی۔ مچھلی نے بعد میں منو (Manu) کو آگاہ کیا کہ ایک طوفان انسانیت کو ختم کر دے گا اور اسے ایک کشتی بنانے کی ہدایت کی۔ منو (Manu) طوفان سے بچ گئے اور بعد میں زمین کو دوبارہ آباد کیا۔45

یونانی طوفان: دیوتا زیوس (Zeus) انسانیت سے ناراض ہو کر زمین پر ایک عظیم طوفان بھیجتا ہے۔ زیوس (Zeus) نے ڈیوکیلیون (Deucalion) اور اس کی بیوی کو بچایا، جنھوں نے بعد میں زمین کو دوبارہ آباد کیا۔46

قدیم میسوپوٹیمیا کا طوفان: گلگامیش کے رزمیے (Epic of Gilgamesh) کے مطابق آسمان کے عظیم دیوتا زمین پر طوفان لا کر انسانیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک دیوتا اوتناپشتم (Utnapishtim) نامی شخص کو دیوتاؤں کے منصوبے سے آگاہ کرتا ہے اور اسے تجویز دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک کشتی بنا کر بچا سکتا ہے۔ اوتناپشتم (Utnapishtim) اس رہنمائی پر عمل کرتا ہے اور ایک کشتی تعمیر کرتا ہے۔ اپنی بیوی، چند لوگوں اور جانوروں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو جاتا ہے۔ پھر ایک شدید طوفان آتا ہے ، جو زمین کو مکمل طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ اوتناپشتم (Utnapishtim)، اس کی بیوی اور ان کے چند پیروکار اس طوفان سے محفوظ رہتے ہیں اور دیوتا اینلیل (Enlil) نے انھیں اپنی برکت سے نواز دیتا ہے۔47

طوفان کی سومیری (Sumerian) داستان میں بیان کیا جاتا ہے کہ نسل انسانی کو دیوتاؤں نے اپنے کام سر انجام دینے کے لیے تخلیق کیا تھا۔ انسانوں کی آبادی بہت زیادہ اور پرشور ہو گئی۔ لہٰذا دیوتا اینلیل (Enlil) نے انھیں ختم کرنے کے لیے ایک طوفان بھیج دیا۔ لیکن ایک اور دیوتا اینکی (Enki) نے بادشاہ زیوسودرا (Ziusudra) (کچھ روایات کے مطابق بادشاہ اترہاسس (Atrahasis)) کو بچانے کی خواہش ظاہر کی۔ اینلیل (Enlil) نے اینکی (Enki) کو براہ راست بادشاہ کو خبردار کرنے سے منع کر دیا، اس پر اینکی (Enki) نے بادشاہ کے نرسل سے بنے گھر کو مخاطب کیا۔ بادشاہ نے یہ انتباہ سن لیا، ایک کشتی بنائی اور اپنے خاندان کے افراد اور مختلف جانوروں کو بچا لیا۔ 48

طوفان کی مصری روایت: مصری روایت کے مطابق را (Ra) نامی دیوتا انسانیت کو اس کے خلاف بغاوت کے سبب ختم کرنا چاہتا ہے اور اپنی بیٹی سیخمت (Sekhmet) کو یہ کام سونپتا ہے۔ سیخمت (Sekhmet) کے ہاتھوں موت اور تباہی پھیل جانے کے بعد دیگر دیوتا زمین کو شراب سے ڈھانپ دیتے ہیں تاکہ سیخمت (Sekhmet) نشے میں آ کر اپنی تباہی روک دے۔ اس سے بچ جانے والوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ زمین پر دوبارہ زندگی شروع کریں۔49

ہوائی تہذیب میں طوفان کی اساطیر: ہوائی کے مقامی لوگوں کے ہاں طوفان کا قصہ حضرت نوح کے قصے سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ اس داستان میں ”نو“ (Nu) نامی شخص خدا کے حکم پر ایک کشتی بناتا ہے اور اس کے خاندان کے افراد بچ جاتے ہیں، جب کہ باقی انسانیت طوفان میں ہلاک ہو جاتی ہے۔50

افریقہ میں طوفان کا معروف قصہ: افریقہ کے کئی قدیم قبائل میں طوفان کی ایسی کہانیاں موجود ہیں، جو طوفان نوح سے بہت مشابہت رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، مآسی (Maasai) قبیلے میں اس طرح کے ایک واقعے کی روایت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آیا، جب انسانیت اس قدر فساد کا شکار ہو چکی تھی کہ خدا نے زمین کو طوفان کے ذریعے سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک نیک شخص، تمبائینوٹ (Tumbainot) کو خدا نے حکم دیا کہ وہ ایک کشتی بنائے اور اس پر کچھ جانوروں اور اپنے خاندان کے افراد کو سوار کرے، تاکہ وہ طوفان سے محفوظ رہے۔51

میں نے دنیا بھر کی تہذیبوں سے یہ مثالیں اس لیے پیش کی ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ قرآن کا یہ دعویٰ کس قدر معتبر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کہانی کو انسانی اجتماعی یادداشت میں محفوظ رکھا۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ قرآن میں کئی رسولوں کے قصے بیان کیے گئے ہیں، لیکن حضرت نوح کی کہانی کو خاص طور پر تمام انسانیت کے لیے ”یاد دہانی“ اور ”نشانی“ قرار دیا گیا۔ قرآن کا یہ دعویٰ حیران کن طور پر درست ثابت ہوتا ہے، کیونکہ حضرت نوح کے طوفان کا قصہ تقریباً تمام انسانی تہذیبوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے، اگرچہ ان روایات کی تفصیلات میں اختلافات موجود ہیں۔

اس پہلو سے دیکھا جائے تو جو لوگ قرآن کی الہامی حیثیت پر شک کرتے ہیں، انھیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ حضرت نوح کی کہانی کے بارے میں قرآن کے دعوےکے آثار عالمی سطح پر پائے جاتے ہیں اور صرف عرب یا اس کے آس پاس کے علاقوں تک محدود نہیں ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کیسے معلوم ہو سکتا تھا کہ نوح کی کہانی چین سے لے کر افریقہ اور آسٹریلیا تک تقریباً ہر تہذیب میں موجود ہے؟ یہ نکتہ قابل غور ہے۔

اب تک، میرے خیال میں قرآن میں رسولوں کے بارے میں بیان کردہ بیانیہ عقلی اور خارجی شواہد کے مطابق نظر آتا ہے۔ آئیے، اب رسولوں کے بارے میں قرآن کے بیانیے کو مزید گہرائی میں اتر کر دیکھتے ہیں۔

7۔رسولوں کے متعلق خدا کے منصوبے کا پہلا مرحلہ: انفرادی رسول

قرآن کے مطابق حضرت نوح کے بعد رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے منصوبے کا پہلا مرحلہ سامنے آتا ہے، جس کے تحت مختلف اقوام کی ہدایت کے لیے انفرادی رسول مبعوث کیے گئے۔52قرآن میں بعض رسولوں کا نام صراحت سے مذکور ہے، جب کہ کچھ کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے۔ 53

قرآن کے بیانیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب انسانیت چھوٹی چھوٹی بستیوں میں بکھری ہوئی تھی تو ہر قوم کی رہنمائی کے لیے الگ الگ رسول بھیجے گئے۔ لیکن جیسے ہی انسانیت ترقی کرتے ہوئے قوموں اور تہذیبوں کے عہد میں داخل ہوئی، اللہ تعالیٰ کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ اس نئے مرحلے میں انفرادی رسولوں کی جگہ ایسی قومیں کھڑی کی گئیں جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو نہ صرف اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ذمہ دار تھیں، بلکہ اسے دنیا بھر میں پھیلانے پر بھی مامور تھیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی نسل کو منتخب کیا۔ اگرچہ حضرت ابراہیم کے زمانے کے لیے کوئی قطعی زمانی حوالہ موجود نہیں، لیکن بائیبل کے علما کے نزدیک آپ تقریباً چار ہزار سال قبل مسیح کے دور میں دعوت دے رہے تھے۔ یہ دور انسانیت کے تہذیب کے دور میں داخل ہونے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

الف۔ حضرت ابراہیم سے پہلے رسولوں کا تاریخی ثبوت

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ کیا کوئی ایسا تاریخی ثبوت موجود ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے تمام اقوام میں رسول مبعوث کیے گئے؟ بدقسمتی سے، تحریری تاریخ کی محدودیت—کیونکہ یہ صرف تقریباً 5500 سال پر محیط ہے—کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ تمام اقوام میں ان رسولوں کی بعثت یا ان کے انکار کے نتیجے میں ان اقوام کے خاتمے کے متعلق کوئی حتمی شواہد پیش کیے جا سکیں۔

ب۔ قرآن میں صرف مشرق وسطیٰ کے مخصوص رسولوں کا ذکر کیوں ہے؟

قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے تمام اقوام میں رسول بھیجے گئے، لیکن اس میں صرف چند مخصوص رسولوں — مثلاً حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت لوط وغیرہ — کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن وضاحت کرتا ہے کہ ان رسولوں کے تذکرے کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کے فوری مخاطب، یعنی عرب مشرکین، یہود اور نصاریٰ پہلے ہی ان کے قصوں سے واقف تھے ۔ 54

8۔ اللہ تعالیٰ کے منصوبۂ رسالت کا دوسرا مرحلہ: ذریت ابراہیم کی ذمہ داری

قرآن کے مطابق، رسولوں کی بعثت دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں، انفرادی رسولوں کو ان کی اقوام کی طرف بھیجا گیا۔55دوسرے مرحلے میں، رسالت کو ایک منتخب گروہ تک محدود کر دیا گیا اور ان رسولوں کے ذریعے سے ایسی اقوام کو اٹھایا کیا گیا، جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو عملی طور پر نافذ کریں اور اس کی تبلیغ کریں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی نسل کو چنا ۔ 56

حضرت ابراہیم اپنی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ ان کی قوم نے انھیں جھٹلایا اور ایذا پہنچائی ۔ 57لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دی اور ان کی قوم کو ہلاک کر دیا۔ قرآن حضرت ابراہیم کے زمانے کی کوئی مخصوص تعیین نہیں کرتا۔ مزید برآں، انھیں ایک نئے مشن کے ساتھ سرفراز کیا گیا۔ رسولوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے طور پر، ان کی اولاد سے دو اقوام کو برپا کیا گیا—ایک حضرت اسحاق کی نسل سے اور دوسری حضرت اسمٰعیل کی نسل سے—ان اقوام کا مقصد اللہ تعالیٰ کے پیغام کو نافذ کرنا اور دنیا میں اس کی تبلیغ کرنا تھا۔

الف۔ قرآن میں رسولوں کی بعثت کے دو مراحل کی حکمت

قرآن میں مذکور رسالت کے دو مراحل اور رسولوں کا کردار انسانی معاشرتی ارتقا—جو خود دو ادوار میں وقوع پذیر ہوا—کے پس منظر میں نہایت حکیمانہ محسوس ہوتا ہے۔ابتدا میں، جب انسان چھوٹی چھوٹی قبائلی بستیوں میں منقسم تھا، انفرادی رسولوں کا بھیجا جانا ہی کافی تھا۔ تاریخ کے بیش تر عرصے تک، جو ابتداے آفرینش سے تقریباً پانچ سے چھ ہزار سال پہلے تک آتا ہے، انسانیت زیادہ تر چھوٹے دیہاتوں اور قصبوں میں سکونت پذیر تھی۔ تاہم، جب تہذیب و تمدن کے دور کا آغاز ہوا اور انسان چھوٹے گروہوں سے ترقی کرتے ہوئے سلطنتوں اور بادشاہتوں کے دور میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو محفوظ اور متحرک رکھنے کے لیے کام کے دائرے کو وسعت دینا ضروری ہو گیا۔ ایسے وقت میں، اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت، ایک پوری قوم کو اس مقصد کے لیے منتخب کیا گیا کہ وہ نہ صرف اس کے پیغام کو زندہ رکھے، بلکہ دنیا بھر میں اس کی تبلیغ بھی کرے۔ یہ حکمت عملی اس وقت کی معاشرتی حقیقتوں کے عین مطابق تھی، کیونکہ انسانی تمدن کا دائرہ قبائلی بستیوں سے نکل کر بڑی بڑی سلطنتوں اور اقوام تک پھیل چکا تھا۔

ب۔ حضرت اسحاق کی نسل سے پہلی قوم: حضرت موسی اور خروج

حضرت اسحاق کی نسل ابتدائی طور پر کنعان کے علاقے میں مقیم تھی اور بعد ازاں وہ مصر منتقل ہو گئی، جہاں حضرت یوسف سے جڑے واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ بنی اسرائیل جو حضرت اسحاق کی اولاد تھے، مصریوں کی غلامی میں مبتلا ہو گئے۔ ابھی تک انھیں بہ طور ایک قوم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو نافذ کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی۔ یہ عظیم ذمہ داری حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ شروع ہوئی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ اور ان کے پیروکار اپنے مخالفین پر غالب آئیں گے ،58اور بنی اسرائیل کو نجات دے کر زمین میں پیشوائی عطا کی جائے گی ۔59 بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغام قبول کیا، البتہ فرعون نے اللہ کے رسول کی دعوت کو جھٹلایا۔فرعون اور اس کی قوم، جنھوں نے اللہ کے رسول کا انکار کیا، نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور مومنین پر ظلم و ستم بھی کیا اور ان سے لڑے، جس کی پاداش میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔60 اس کے برعکس، جنھوں نے رسول کی دعوت کو قبول کیا اور اس کی حمایت کی، یعنی بنی اسرائیل، انھیں نجات دی گئی اور زمین میں بادشاہی اور اقتدار سے نوازا گیا ۔61

بنی اسرائیل کے مشن کی تفصیلات کتاب استثنا 20 : 1-20 میں ملتی ہیں۔یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کنعان اور اس کے ارد گرد کی سرزمین عطا کی اور حکم دیا کہ وہ اس علاقے کو مشرکانہ عقائد سے پاک کریں اور اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت پر عمل اور اس کی تبلیغ کے لیے خاص کر دیں۔ اس مقصد کے تحت کنعان کی مشرکانہ اقوام کو یا تو اس علاقے کو چھوڑ دینا تھا یا مکمل تباہی کا سامنا کرنا تھا۔ بنی اسرائیل کے درمیان مشرکانہ اقوام کی موجودگی ان کے خدائی مشن کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھی گئی، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے پیغام، خالص توحید کی پاکیزگی کو متاثر کر سکتی تھی،جب کہ اللہ کو یہ مقصود تھا کہ بنی اسرائیل اللہ کے نمایندے کے طور پر اس پیغام کو آیندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں اور اسے دنیا بھر میں پھیلائیں۔

ج۔ کنعان کے مشرکین کی تباہی کے حکم کی تعدیل

بعض افراد کنعان کے مشرکین کی مکمل تباہی کے خدائی حکم کو ظالمانہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم، اگر اس حکم کو اس وقت کے تاریخی سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو اس کی حکمت واضح ہو جاتی ہے:

الف۔ بنی اسرائیل جنگ کے اخلاقی اصولوں کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ وہ جنگ سے پہلے اپنے دشمنوں کو صلح کی پیشکش کرتے تھے۔ اگر صلح کی پیشکش قبول نہ کی جاتی تو صرف مسلح مردوں سے جنگ کی جاتی اور انھیں قتل کیا جاتا، جب کہ عورتوں اور بچوں سے تعرض نہ کیا جاتا ۔ (استثنا 20 : 10 – 14)

ب۔ کنعان وہ سرزمین تھی جو بنی اسرائیل کو عطا کی گئی، تاکہ وہ ایک قوم کی حیثیت سے وہاں اپنی بنیاد قائم کریں اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں نافذ کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا فریضہ انجام دیں۔ کنعان کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جو مشرکین وہاں سے نہ نکلیں، انھیں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی موجودگی بنی اسرائیل کے درمیان اللہ تعالیٰ کے پیغام کی پاکیزگی کے لیے ایک سنگین خطرہ تھی اور یہ بات نہایت حکمت پر مبنی ہے۔

ذرا اس منظر کو ذہن میں لائیں، یہ وہ دور تھا جب دنیا میں شرک اور مشرکانہ عقائد کا غلبہ تھا اور توحید پر قائم رہنے والا صرف ایک مختصر گروہ—بنی اسرائیل—اللہ تعالیٰ کے دین کا علم بردار تھا۔ اگر حضرت ابراہیم کے خدا کا پیغام سچ ہے تو یہ مشن نہایت عظیم اور فیصلہ کن اہمیت کا حامل تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغام کے واحد امین بن کر دنیا کے سامنے حق کو پیش کریں۔

اب غور کیجیےکہ بنی اسرائیل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو نہ صرف اپنی زندگیوں میں نافذ کریں، بلکہ اسے نسل در نسل محفوظ رکھتے ہوئے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلائیں۔ یہ ذمہ داری اُس وقت کی دنیا میں ایک کٹھن اور نازک چیلنج تھی، کیونکہ دنیا بھر میں مشرکانہ عقائد کا راج تھا۔ ایسے میں اگر مشرکین کو کنعان میں رہنے کی اجازت دی جاتی تو اس بات کا حقیقی خطرہ تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرکین کے عقائد، رسومات اور غیر اخلاقی روایات بنی اسرائیل میں سرایت کر جاتیں اور یوں اللہ تعالیٰ کے پیغام میں ملاوٹ کا خدشہ پیدا ہو جاتا۔

لہٰذا یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ کنعان کے مشرکین کو یہ اختیار دیا گیا کہ یا تو وہ سرزمین چھوڑ دیں یا پھر مکمل تباہی کے لیے تیار ہو جائیں۔

د۔ آثارِ قدیمہ کے شواہد: حضرت یوسف، حضرت موسی اور خروج

اگرچہ یہ تاثر عام ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خروج کے واقعات کا کوئی مادی ثبوت موجود نہیں، لیکن ”Decoding the Exodus “نامی دستاویزی فلم اس موقف کو کامیابی سے چیلنج کرتی ہے۔ یہ فلم، جسے سمچا جیکوبوویچی (Simcha Jacobovici) نے تیار کیا اور مشہور ہدایت کار جیمز کیمرون (James Cameron) نے پروڈیوس کیا، 62 ان تاریخی شخصیات اور واقعات کے وجود کے لیے آثارِ قدیمہ سے ٹھوس شواہد پیش کرتی ہے۔ یہ شواہد اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ ان انبیا اور ان کے واقعات کی تاریخ میں ایک حقیقی بنیاد موجود ہے۔

مزید برآں، عہد نامہ قدیم (Old Testament) نہ صرف حکمت اور قوانین الٰہی کا ایک اہم ماخذ ہے، بلکہ یہ بنی اسرائیل کے ماضی کے بارے میں محفوظ تاریخی دستاویز بھی ہے۔ اسے یہودی تاریخ کا ایک معتبر اور اہم حوالہ سمجھا جانا چاہیے۔

ہ۔ بنی اسرائیل: حضرت موسی کی قیادت میں ایک قوم کی تشکیل

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک قوم میں ڈھال دیا۔ پہلی بار اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین نازل فرمائے، جو معاشرتی امور کی تنظیم کے لیے ایک مکمل نظام فراہم کرتے تھے۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے تیار کیا تاکہ وہ اس کے پیغام پر دنیا میں عمل درآمد کریں اور اس کی تبلیغ کریں۔63 یہ حقیقت ہماری زندہ تاریخ سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل ہزاروں سال تک توحید کے علم بردار رہے۔ انھوں نے اپنے ایک خدا کے پیغام کو، جیسا کہ یہ قرآن میں مذکور ہے، دنیا کے سامنے پیش کیا اور اس ذمہ داری کو ایک طویل عرصے تک خلوص کے ساتھ نبھایا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل میں مذہبی غرور اور اخلاقی انحطاط کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ قرآن نے اس حقیقت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کے علاوہ دیگر کئی سورتوں میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس طرح بنی اسرائیل نے حق سے انحراف کیا اور اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتی۔ سورۂ مریم کی آیت 59 میں بھی اسی بات کو مزید موکد کیا گیا ہے۔

و۔ حضرت عیسیٰ: بنی اسرائیل کے آخری رسول

قرآن کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ انھوں نے بنی اسرائیل کو دعوتِ دین دی، وعظ و نصیحت کی، اور ان کے شدید غرور، بداعمالیوں اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کی خلاف ورزی پر انھیں سرزنش کی۔ 64 بائیبل میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے بنی اسرائیل کے مذہبی پیشواؤں پر سخت سرزنش کا ذکر ہے۔ انجیل متی کے باب 23 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے مذہبی رہنماؤں پر فردِ جرم عائد کی جو حضرت عیسیٰ ہی کے ہاتھوں، اللہ تعالیٰ کے عذاب کی زد میں آنے والے تھے۔بہت سے اسرائیلیوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کا انکار کیا۔ کچھ نے تو آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا انکار اور ان کی مخالفت کرنے والی اقوام بالآخر عذابِ الٰہی کا شکار ہوتی ہیں۔ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں بھی یہی قانون نافذ ہوا۔انجیل متی کے باب 24 کی آیات32 – 41 میں حضرت عیسیٰ نے واضح طور پر یہی پیشین گوئی کی ہے۔

یہاں یہ امر بھی نہایت قابلِ غور ہے کہ بائیبل کے یہ واقعات قرآن کے بیان کردہ رسولوں کے کردار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ عذاب کے قانون سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں اور انتہائی معقول نظر آتے ہیں۔

آئیے آگے چلتے ہیں۔

انجیل متی کے باب 24 کی آیات 32 – 41 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے واضح طور پر پیشین گوئی کی کہ جو لوگ انھیں ستا رہے ہیں، وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل نہ ہو جائے۔ انھوں نے فرمایا کہ جس طرح حضرت نوح کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، اسی طرح ان کے براہ راست مخاطبین میں سے حق کے مخالفین پر بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔ البتہ، عذاب کے وقت سب کے سب ہلاک نہیں ہوں گے، کچھ لوگ مارے جائیں گے، جب کہ کچھ کو زندہ چھوڑ دیا جائے گا۔

یہ پیشین گوئی 70 عیسوی میں پوری ہوئی، جب رومیوں نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رحلت کے تقریباً 10 سے 15 سال بعد پیش آیا۔ اس تباہی میں رومیوں نے بنی اسرائیل کے نصف افراد کو قتل کر دیا اور باقی کو قیدی بنا لیا۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کا حیرت انگیز طور پر پورا ہونا تھا۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ ان کے مخالفین اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ دیکھ لیں۔ وہ ایسا عذاب ہو گا جس میں آدھے لوگ مارے جائیں گے، اور نصف بچیں گے۔ یہ واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے حوالے سے جو قانون قرآن میں بیان کیا گیا ہے، وہ کس طرح عملی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اگر کسی قوم کی مکمل ہلاکت ضروری نہ ہو تو اللہ تعالیٰ رسول کے منکرین پر دوسرے لوگوں کے ذریعے سے اپنا عذاب نازل فرماتا ہے۔

ز۔ حضرت اسمٰعیل کی اولاد میں آخری قوم:حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم : اللہ تعالیٰ کے آخری رسول

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیغام کا انکار کرنے پر حضرت اسحاق کی اولاد کے ساتھ اپنا عہد ختم کر دیا۔ تقریباً 600 سال بعد اللہ تعالیٰ نے آخری مرتبہ ایک نئی قوم کو برپا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قوم حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسمٰعیل کی نسل سے وجود میں آئی۔ اس مقصد کے لیے، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول منتخب فرمایا۔

مکہ کے ابتدائی دور کی کئی سورتوں، جیسا کہ سورۂ قمر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ رسول ہیں، جیسے اُن سے پہلے رسول بھیجے گئے تھے، اور یہ کہ ان کے مخاطبین کا بھی وہی انجام ہو گا جو پہلے رسولوں کے مخاطبین کا ہوا تھا۔65

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند ایک رسول ہیں۔ 66 موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا رسول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن حضرت موسیٰ کے مشن سے بالکل مشابہ ہے، اور حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، وہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ قرآن اس نکتے کو تقریباً ہر دوسری سورہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ:

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن مکمل طور پر شکست کھائیں گے ۔67

اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں گے، انھیں ایک ایسی قوم میں ڈھالا جائے گا جسے زمین میں اقتدار عطا کیا جائے گا۔68انھیں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔69

جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے لیے کنعان کا علاقہ مختص کر دیا گیا تاکہ اسے ایک اللہ کے دین کا مرکز بنایا جائے اور اسے دیگر تمام مذاہب سے پاک کیا جائے، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرہ نماے عرب کا علاقہ عطا ہوا تاکہ اسے توحید کے مذہب کا نیا مرکز بنایا جائے اور دیگر مذہبی نظریات سے پاک کیا جائے۔70

اس تناظر میں، جیسا کہ صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:

لا يجتمع دينان في جزيرة العرب.

(موطا امام مالک،رقم 1862)

”جزیرہ نماے عرب میں دو دین نہیں رہیں گے۔“

آگے بڑھنے سے پہلے یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ اگرچہ رسول کے ذریعے سے دنیوی فیصلے کا اطلاق بنیادی اور خاص طور پر ان کے براہ راست مخاطبین پر ہوتا ہے، لیکن اُس کے رسول کی تعلیمات تمام انسانیت کے لیے عام ہیں۔ تاریخی پس منظر کی روشنی میں، قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین کے معاملے میں فرستادۂ ہادی اور عربوں اور ان کے گردونواح کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول (دنیوی فیصلے کے ذریعے) کے طور پر متعارف کراتا ہے ۔71 محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس، روم، حبشہ،بحرین، مصر، یمن اور شام کے حکمرانوں کو خطوط لکھے، جن میں زمین پر اللہ کے فیصلے کے دائرۂ اختیار کو واضح طور پر متعین کیا گیا۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط کے بارے میں اہم نوٹ

ہم نے پہلے بیان کیا تھا کہ قانون رسالت کے مطابق، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے براہِ راست مخاطبین پر حق کو نہ صرف دلائل اور براہین کے ذریعے سے واضح کرتے ہیں، بلکہ رسول کی شخصیت اور خارجی حالات کو اس انداز میں ترتیب دیتے ہیں کہ وہ رسول کے دعوے کی تائید میں نظر آتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر مخاطبین کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ رسول کی دعوت پر سنجیدگی سے غور کریں۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خطوط جو مختلف بادشاہوں کو ارسال کیے گئے، آج آسانی سے آن لائن دستیاب ہیں۔ ان خطوط میں مخاطبین کو اسلام کی دعوت دی گئی اور اس کے ساتھ یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ اللہ کے رسول کی دعوت کو رد کرنا ان بادشاہوں اور ان کی افواج پر اللہ کے عذاب کا سبب بنے گا۔ یہ بادشاہ عرب میں ہونے والے واقعات سے باخبر تھے۔ انھیں یہ معلوم تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے براہِ راست مخاطبین کے لیے اللہ کی عدالت بن کر آئے ہیں۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عرب میں مکمل فتح سے بھی واقف تھے۔ اس کے باوجود جب بعض بادشاہوں نے ان خطوط کو سنے یا سمجھے بغیر رسول کے پیغام کو مسترد کر دیا تو وہ اللہ کے رسول کے پیغام کو ناحق رد کرنے کے سبب، قرآن میں بیان کردہ رسولوں کے قانون کے مطابق، اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔

مولانا مودودی نے اپنی تفسیر”تفہیم القرآن“ میں سورۂ توبہ کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سایہ سلطنتوں کے بادشاہوں کو خطوط لکھنے سے پہلے ہی وہاں کے عوام کے ساتھ کئی سالوں تک رابطے قائم کر رکھے تھے۔ مولانا نے یہ بھی بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار وفود روانہ کیے اور بعض مواقع پر ان وفود کے ارکان کو قتل کر دیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ وہ بادشاہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی دعوت سے بے خبر تھے۔ وہ عرب کے حالات اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بہ خوبی آگاہ تھے۔

مزید تفصیلات کے لیے جاوید احمد غامدی صاحب کی ویڈیو ”23 اعتراضات کے جواب میں: 84، اتمام حجت“ دیکھیے جو ”غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ “کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پورا جزیرہ نماے عرب اور وہ علاقے جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خطوط بھیجے، اللہ کے دنیوی فیصلے کا مظہر بنے اور اس فیصلے کا نفاذ اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے کیا گیا۔

قرآن اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب یا تو قدرتی آفات کے ذریعے سے نازل ہو گایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کی تلواروں کے ذریعےسے ۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انذار کے ضمن میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اگر رسولوں کی مخاطب کسی قوم کا مکمل خاتمہ مطلوب نہ ہو تو اللہ کا عذاب انسانوں کی تلواروں کے ذریعے سے نازل ہوتا ہے۔ 72

قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے اللہ کا عذاب نازل ہو تو ان کے براہِ راست مخاطبین پر دو قسم کے عذاب آئیں گے:

1۔ موت کی سزا ، جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے۔ 73

2۔ محکومی اور ذلت کی زندگی۔

حدیث میں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ توبہ کی آیت 29 کے تناظر میں ارشاد فرمایا کہ ان کے براہِ راست مخاطبین میں سے جو لوگ رسول کا انکار کریں گے اور اس سے جنگ کریں گے، ان کے لیے اللہ کا عذاب رسول کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جائے گا ۔ 74

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابۂ کرام کو یہ بتا دیا تھا کہ رسولوں کے قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف عرب تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ان تمام ہم سایہ سلطنتوں پر بھی نافذ ہوگا، جہاں اللہ کا پیغام رسول کے خطوط کے ذریعے سے پہنچایا جا چکا تھا۔75

قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صراحت کے ساتھ بتایا گیا کہ اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ ان کی زندگی میں نافذ ہو جائے گا اور کچھ ان کے وصال کے بعد ظاہر ہوگا۔76

مندرجہ بالا تفصیل قرآن میں موجود اس لائحۂ عمل کا خلاصہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے براہِ راست مخاطبین پر خدائی فیصلے کے نفاذ میں پیش نظر رکھا جانا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اعلان کے بعد کے 23 سال میں وہ تمام واقعات ٹھیک اسی طرح پیش آئے، جیسا کہ قرآن نے ان کی پیشین گوئی کی تھی۔ آئیے، مختصراً دور رسالت کے ان 23 سالوں کا جائزہ لیں۔ ذیل میں، میں صرف ان امور کا ذکر کروں گا جو تاریخ میں عمومی طور پر مقبول اور متفق علیہ ہیں، اور ان تاریخی امور سے قطع نظر کروں گا، جو مورخین اور مسلم علما کے مابین اختلاف اور تنازع کا محل ہیں۔

1۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں تک مکہ اور اس کے گرد و نواح میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کی تبلیغ کی۔ کچھ لوگوں نے آپ کی دعوت قبول کر لی، جب کہ کچھ نے اسے مسترد کر دیا۔ جلد ہی مدینہ کے پورے شہر نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کر لیا اور آپ مدینہ کے مذہبی اور سیاسی رہنما بن گئے۔

2۔ چونکہ تمام لوگ اللہ کے رسول کا انکار نہیں کر رہے تھے اور بہت سے لوگ سنجیدگی سے اللہ کے پیغام پر غور کر رہے تھے، اس لیے اللہ کا عذاب قدرتی آفات کے ذریعے سے مکمل تباہی کی صورت میں نازل نہیں ہوا، بلکہ اس بار اللہ کا عذاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ ہوا۔

3۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے انکار پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے خلاف جنگ اور ظلم و ستم کرتے تھے، ان پر فوراً اللہ کا عذاب جنگوں میں شکست کی صورت میں نازل ہوا، جیسا کہ غزوۂ بدر میں ہوا۔ قرآن کے مطابق، غزوۂ بدر اللہ کا فیصلہ تھا، جس میں مکہ کے وہ سردار ہلاک ہوئے، جنھوں نے اللہ کے رسول کے خلاف محاذ کھولا تھا۔ مکہ کے تقریباً تمام بڑے سردار غزوۂ بدر میں مارے گئے ۔ 77

4۔ جو لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت میں سرگرم نہیں تھے، انھیں مزید مہلت دی گئی۔ قرآن کے قانون رسالت کے مطابق، ہر قوم کو فیصلہ صادر ہونے سے پہلے ایک مدت دی جاتی ہے۔78 ایک اور وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ مکہ اور اس کے گرد و نواح میں بہت سے لوگ اللہ کے پیغام کو قبول کرنے کی طرف مائل تھے، اس لیے انھیں مہلت دی گئی ۔ 79

5۔ اس مہلت کے دوران میں ، اللہ کے پیغام کو قبول کرنے والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مدینہ ہجرت کر جائیں تاکہ اللہ کے عذاب کے نفاذ سے قبل محفوظ ہو سکیں۔ ہجرت کے اس حکم کی تاکید اتنی زیادہ تھی کہ سواے کم زوروں اور ناداروں کے، جن لوگوں نے بغیر کسی معقول عذر کے ہجرت نہ کی، انھیں اللہ تعالیٰ نے جہنم کی وعید سنائی ۔ 80

وراثت سے متعلق ایک حدیث کی مختصر وضاحت

یہاں ایک حدیث کا ذکر نہایت اہم ہے، جس کی وضاحت اُس وقت مکمل طور پر سامنے آتی ہے، جب اسے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دنیا میں اللہ کی دینونت کے فیصلے کے پس منظر میں دیکھا جائے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

”نہ مسلمان اِن میں سے کسی کافر کے وارث ہوں گے اور نہ یہ کافر کسی مسلمان کے ۔“

( بخاری، رقم 6764،مسلم، رقم 1614)

اس حدیث کو ایک دائمی حکم سمجھنے سے دینی احکام میں واضح تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم مردوں کو اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) خواتین سے نکاح کی اجازت ہے۔ اب اگر نکاح جائز ہے تو پھر وراثت کے حق کی ممانعت کیوں؟

معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد اُس دور میں فرمایا تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ عذابِ الٰہی کے نافذ ہونے سے پہلے معاشرے میں کفار سے مکمل علیحدگی اختیار کریں اور ان سے تعلق منقطع کر دیں۔ یہ ہدایت اُس مخصوص صورت حال کے لیے دی گئی تھی اور اسے ایک دائمی قانون کے طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔

اب آگے بڑھتے ہیں:

بالآخر وہ وقت آیا، جب اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ رسول کے پیغام کو رد کرنے والے اب بلاجواز اپنے کفر پر قائم ہیں۔ چنانچہ اُن کے لیے دو طرح کے عذاب مقدر کیے گئے:

1۔ مشرکین کے لیے

رسول کے معاندین کے اس گروہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ رسول کی طرف سے حق اُن پر پوری طرح واضح ہو چکا ہے، مگر اس کے باوجود وہ بلا کسی معقول وجہ کے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا سب سے بڑی غداری ہے۔ لہٰذا یہ مشرکین اگر توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے تو سزا کے طور پر ان کے لیے موت کا حکم ہے ۔81

2۔ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے لیے

اگرچہ اللہ کے ساتھ شرک سب سے بڑی غداری ہے، مگر مشرکین اور اہل کتاب کے معاملے میں فرق کیا گیا۔ مشرکین کو موت کی سزا کا حامل قرار دیا گیا۔ ہاں، اگر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیں تو اس عذاب سے بچ سکتے ہیں، البتہ مشرکین کے ساتھ ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے والوں میں کچھ یہود و نصاریٰ بھی شامل تھے۔ قرآن انھیں اہل کتاب— وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی—کہتا ہے۔

قرآن کے مطابق یہودیوں نے اللہ کے احکام میں تحریف کی، انبیا کو ایذا پہنچائی اور اللہ کی ہدایت کو پس پشت ڈالا، لیکن وہ صریح شرک اور انتہائی غداری جیسے جرم میں مبتلا نہ تھے۔ اسی بنا پر قرآن نے انھیں ’مَغْضُوْبٌ عَلَیْہِمْ ‘،یعنی اللہ کے غضب کے مستحق قرار دیا۔82 عیسائی اگرچہ تثلیث (Trinity) کے عقیدے پر قائم ہیں، لیکن وہ اسے توحید ہی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں اور اپنی تاویلات کے ذریعے سے ایک خدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن نے انھیں ’ضالین‘،یعنی گم راہ کہا ہے۔83 اسی لیے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ کے لیے قتل کی سزا مقرر نہیں کی گئی، بلکہ انھیں مسلمانوں کے ماتحت محکومی اور ذلت کی زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ قرآن میں صراحت کر دی گئی ہے۔84 مزید وضاحت کے لیے سورۂ توبہ کا مطالعہ مفید ہو گا۔

یوں قرآن نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ اللہ کے آخری رسول کو جھٹلانے والوں پر عذاب ضرور نازل ہوگا۔ یہ عذاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہاتھوں نافذ ہوا، جو یا تو عبرت ناک موت کی صورت میں آیا یا پھر محکومی اور ذلت آمیز زندگی کی شکل میں۔

غیر مسلموں سے جنگ کے متعلق ایک حدیث کی وضاحت

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہونا اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا ظہور ہوتا ہے۔ اسی مخصوص تناظر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر فرمایا کہ انھیں لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ اللہ کے پیغام کو قبول نہ کر لیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل حدیث پر غور کیجیے:

”مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں…اگر وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں اور اُن کے مال ہمارے لیے محترم ہیں، اور ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کریں گے، الاّ یہ کہ …۔‘‘

( بخاری، رقم 387- 392)

یہ حدیث ہر زمانے کے مسلمانوں کے لیے عمومی ہدایت کے طور پر نہیں لی جا سکتی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے: ” دین کے معاملے میں (اللہ کی طرف سے) کوئی جبر نہیں ہے “ ۔85 عام حالات میں جو لوگ اللہ کے پیغام کو قبول نہیں کرتے، ان کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ خود فرمائے گا۔ اگر ان کا انکار کسی معقول وجہ کی بنا پر ہوا ہو، جیسا کہ پیغام ان کے لیے پوری طرح واضح نہ ہو سکا یا کسی ناجائز سبب جیسے تکبر یا دنیوی مفادات کی بنا پر ہوا ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر موقوف ہے۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ دنیا میں کسی غیرمسلم پر دین زبردستی نہ نافذ کریں۔

البتہ جب اللہ کا کوئی رسول دنیا میں موجود ہوتا ہے تو صورت حال بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حجت مکمل کرتے ہیں۔ رسول کی بے مثال شخصیت، ان کے دلائل کی قوت، خارجی حالات اور بعض اوقات معجزات کے ذریعے سے حق کو اس درجے پر واضح کر دیا جاتا ہے کہ انکار کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ اس کے بعد پہلے سے متعین مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے مخاطبین میں سے ان لوگوں کی تشخیص کرتے ہیں، جو غیر معقول وجوہات، جیسا کہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر حق کے پیغام کو رد کر دیتے ہیں۔ پھر ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا فیصلہ دنیا ہی میں نافذ کر دیا جاتا ہے۔

غیر مسلم کے قتل سے متعلق ایک حدیث کی وضاحت

ایک اور حدیث جو کئی لوگوں کے لیے باعث اشکال ہے، قانونِ رسالت اور سورۂ توبہ میں اس کے بیان کے تناظر میں اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تنازع کا فیصلہ کرتے ہوئےقرار دیا کہ ”مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ “ (بخاری، رقم 6517)

اگر اس حدیث کی وضاحت مستقل اور عمومی قانون کے طور پر کی جائے تو یہ قرآن کے انصاف کے اصولوں سے متصادم معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ناحق قتل، خواہ قاتل اور مقتول کا مذہب کچھ بھی ہو، جرم ہے۔ تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد کیوں فرمایا؟ جب اس حدیث کو قرآن کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد اس وقت فرمایا گیا ، جب مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موت کی سزا کا اعلان کر دیا تھا۔ چنانچہ جو مشرک شخص اللہ کے اس فیصلے کے تحت پہلے ہی عذاب کا مستحق قرار پایا ہو، اگر کوئی اسے قتل کر دے تو وہ قتل قصاص کا حق دار نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین میں سے ایذا رسانی کرنے والے معاندین رسول کے بارے میں موت کی سزا پہلے سے طے کر دی گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں اگر ایک شخص کے خلاف سزاے موت کسی جرم میں سنا دی گئی ہے اور کوئی دوسرا شخص اسے اسی اثنا میں قتل کر دیتا ہے تو قاتل کو اس جرم کی انتہائی سزا، یعنی قصاص میں قتل کی سزا نہیں سنائی جائے گی۔

آئیے، ہم اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول قرار دینے سے متعلق دعوے کس طرح سچ ثابت ہوئے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو ایک امت کی شکل دی اور ان پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ اللہ کے دین کو دنیا میں قائم کریں، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو بھی ایک امت میں ڈھالا گیا تاکہ وہ اللہ کے دین کو قائم کریں اور اس کی تبلیغ کریں۔86

جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو کنعان کی سرزمین دی گئی، جسے انھوں نے دیگر تمام مذاہب سے پاک کر دیا، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں جزیرہ نماے عرب کو دیگر ادیان سے پاک کر دیا گیا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کے اقتدار میں دیا گیا تاکہ وہ اسے صرف توحید کا مرکز بنائیں اور دین پر عمل کریں اور اس کی تبلیغ کریں۔

مگر قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو خطوط ارسال کیے۔ کیا یہ بادشاہ، جو ایک زندہ رسول کی دعوت کے مخاطب تھے، اللہ کے اس قانون کے تحت نہیں آتے تھے، جو رسولوں کے بارے میں قرآن میں بیان ہوا ہے اور جس کے مطابق منکرین کو دنیوی عذاب سے دوچار ہونا ہوتا ہے؟ جی ہاں، وہ بھی اس قانون کے دائرۂ کار میں آتے تھے۔ چنانچہ بادشاہ اور ان کی افواج پر یہ فیصلہ نافذ ہوا۔

قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ اللہ کا فیصلہ ان کی زندگی میں بھی نافذ ہوگا اور ان کے بعد بھی جاری رہے گا۔87 چنانچہ یہی ہوا۔ جب جزیرہ نماے عرب میں اللہ کا فیصلہ نافذ ہو گیا تو اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا۔ ان بادشاہتوں پر، جن کے سربراہان کو رسول نے خط لکھے تھے، رسول کے پیغام کے انکار کی وجہ سے اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پندرہ سال کے اندر وہ عظیم سلطنتیں، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو جھٹلایا تھا، اس جرم کے وبال میں پکڑی گئیں۔ یہ سلطنتیں معجزانہ طور پر صحابۂ کرام کے ہاتھوں شکست کھا کر زمین بوس ہو گئیں۔ اس طرح جنھوں نے ایک زندہ رسول کا انکار کیا، وہ نہ صرف جزیرہ نماے عرب کی حد تک شکست کھا گئے، بلکہ ایک عالمی سطح پر رسول اور ان کے متبعین کو غلبہ حاصل ہوا۔ اسی طرح جن لوگوں نے آپ کی اعانت کی تھی، وہ مہذب دنیا کے تقریباً آدھے حصے پر اقتدار میں آ گئے۔یہ سب ایسے ہی ہوا، جیسا کہ قرآن نے وعدہ کیا تھا 88اور اس طرح یہ وعدہ حیرت انگیز طور پر پورا ہوا۔

عربوں کی اس وقت کی عالمی سپر پاورز پر یہ معجزانہ فتح کسی فوجی طاقت یا حربی مہارت کا نتیجہ نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا معجزہ اور رسول کے متبعین کے لیے دنیوی انعام تھا، جسے سورۂ نور کی آیت 55 میں ”زمین پر اقتدار“کہا گیا ہے۔ یہ انعام اللہ کے رسول کے وفادار ساتھیوں کے لیے مقدر تھا، جیسا کہ قرآن میں وعدہ فرمایا گیا۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عرب بدو اپنے ہم سایہ طاقت ور سلطنتوں کے مقابلے میں عسکری اعتبار سے نہایت کم زور، غیر تجربہ کار اور وسائل سے محروم تھے۔

اسلامی تاریخ کی ماہر پروفیسر کیرول ہلنبرینڈ (Carole Hillenbrand) لکھتی ہیں:

”اسلامی فتوحات کے اس غیر معمولی مظہر پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن کم ہی حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے… یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ عربوں کو اپنے حریفوں پر کسی قسم کی فوجی برتری حاصل تھی۔ نہ ان کے پاس کوئی خفیہ ہتھیار تھا، نہ کوئی نئی جنگی حکمت عملی… وہ تو بحری جنگوں کے فن سے بھی ناآشنا تھے۔“89

صحرا نشین بدوی عربوں کے پاس نہ کوئی جنگی مہارت تھی اور نہ کوئی قابلِ ذکر فوجی تجربہ۔ جس آسانی سے انھوں نے اُس زمانے کی عظیم سلطنتوں کو سرنگوں کیا، ایک ایسا معجزہ ہے جو آج بھی ماہرین اور مورخین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

اینڈریو لاؤتھ (Andrew Louth) اس بارے میں رقم طراز ہیں:

”مشرقی بازنطینی سلطنت کے علاقے جس تیزی کے ساتھ شکست کھا کر عربوں کے ہاتھ آ گئے، وہ آج بھی مورخین کے لیے ایک معما بنا ہوا ہے، جو وضاحت کا محتاج ہے۔“90

مشہور مورخ بارنبی راجرسن (Barnaby Rogerson) لکھتے ہیں:

”یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اُس وقت کی دو بڑی سپر پاورز بازنطینی سلطنت (مشرقی رومی سلطنت) اور ساسانی فارس تھیں… وہی دنیا کی غالب ترین طاقتیں تھیں۔ اگر اسے جدید دور کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اسکیمو امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کو شکست دے دیں۔“91

ہو سکتا ہے آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا موازنہ عثمان غازی جیسی شخصیت سے کریں، جنھوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی یا سکندرِ اعظم اور چنگیز خان جیسے فاتحین سے ان کا موازنہ کر یں، جنھوں نے زمین کی تسخیر کا خواب دیکھا اور اسے حقیقت بنایا۔ یہ شخصیات بھی اپنے مقدر کی پیشین گوئیاں کرتی تھیں اور دعویٰ کرتی تھیں کہ خواب و رؤیا میں انھیں کامیابی اور عظمت کی بشارت دی گئی ہے جو بعد ازاں پوری ہوئی۔ تاہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ان سب سے قطعی مختلف ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے محض کسی ایک خواب یا اتفاقی پیشین گوئی کا ذکر نہیں کیا تھا، بلکہ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ ان کے رب نے تمام واقعات کی تفصیلات پہلے ہی بیان فرما دی ہیں، جو بعینہٖ اسی ترتیب اور انداز میں وقوع پذیر ہوں گی۔ قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اللہ کے فیصلے کے نفاذ کا پورا نقشہ پہلے ہی بیان کر دیا تھا اور وہ تمام امور بالکل اسی طرح مکمل ہوئے، جیسا کہ بتایا گیا تھا، نہ صرف عرب کی سرزمین پر ،بلکہ عالمی سطح پر بھی۔

اس کے برعکس، عثمان غازی یا چنگیز خان جیسی شخصیات اپنی سیاسی، عسکری اور حکمت عملی کی صلاحیتوں پر ناز کرتی تھیں، جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس حقیقت کو بیان کیا کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک بالاتر ہستی کی طرف سے موصول ہونے والے احکامات کو نافذ کر رہے ہیں ۔ وہ احکامات بعض اوقات خود ان کے ذاتی فیصلوں کو کالعدم کر دیتے تھے اور آپ انھیں بے چون و چرا تسلیم کرتے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ سکندرِ اعظم سلطنتِ عثمانیہ کے حکمرانوں یا چنگیز خان کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کو عملی طور پر کسی طرح کی عسکری مہارت یا تربیت حاصل نہ تھی۔ یہی حقیقت ان کے معاملے کو بالکل منفرد اور غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ آپ تصور کیجیے کہ ایک ایسا گروہ جو نہ تعداد میں برتر ہے، نہ جنگی مہارت کا حامل، اعلان کرتا ہے کہ وہ اللہ کی براہِ راست ہدایت اور اس کی نصرت سے دنیا کو فتح کرے گا اور پھر حقیقت میں وہ آدھی دنیا کو اپنے زیر نگیں لے آتا ہے۔ اگر ایسا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے رونما ہو تو یہ میری اخلاقی اور عقلی ذمہ داری ہوگی کہ میں خدا کے بارے میں ان کے دعوے کی حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کروں۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بہ خوبی سمجھتے تھے کہ ان کی کامیابیاں ان کی عسکری مہارت یا اعداد و شمار کی برتری کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ رسولوں کے قانون کے مطابق اللہ کی نصرت اور اس کے فیصلوں کا مظہر ہیں۔ جنگ یرموک اس حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور بازنطینی سلطنت کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھی۔ بعض جدید مورخین کے مطابق، بازنطینی فوج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب تھی، جب کہ مسلمانوں کے لشکر میں محض چالیس سے پینتالیس ہزار مجاہدین شامل تھے۔ اس نازک صورت حال میں، جب سب کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا اور وسائل بہت کم تھے، خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کمان کی تبدیلی کا ایک حیران کن فیصلہ کیا۔ انھوں نے پے درپے کامیابیاں سمیٹنے والے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے عظیم سپہ سالارکو معزول کر کے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا نیا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اس غیر متوقع تبدیلی کا مقصد یہ یاد دلانا تھا کہ مسلمانوں کی فتح ان کی جنگی مہارت، حکمت عملی یا سپہ سالاروں کی صلاحیت کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے قانون کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سزا دے رہا تھا جنھوں نے رسول کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار ساتھیوں کو ان کی حمایت اور نصرت کے انعام کے طور پر غلبہ اور فتح عطا فرما رہا تھا۔

9۔ مسلمان بھی بنی اسرائیل کی طرح اخلاقی انحطاط کا شکار ہوں گے

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے ایک عہد لیا تھا، جس کا تقاضا تھا کہ وہ خلوصِ دل کے ساتھ اس کے دین پر عمل کریں اور اس کی تعلیمات کو دنیا بھر میں عام کریں۔ یہ فریضہ انھوں نے صدیوں تک بہ خوبی نبھایا۔ تاہم، ایک وقت ایسا آیا جب وہ اخلاقی زوال کی اس حد تک پہنچ گئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اللہ نے ان کے ساتھ اپنا عہد ختم کر دیا۔ اسی طرح اللہ نے بالخصوص، عرب مسلمانوں اور بالعموم، تمام امتِ مسلمہ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ دین حق پر خلوصِ نیت سے عمل کریں اور اللہ کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں۔ ایک رہنما کتاب اور منشور کے طور پر انھیں قرآن دیا گیا ہے، جسے خدا کی ہدایت کے طور پر دنیا میں عام کرنا ان کا فریضہ ہے۔ تاہم، بنی اسرائیل کی طرح، مسلمانوں کے زوال کا وقت بھی آئے گا اور جب یہ زوال پوری طرح رونما ہو جائے گا تو پھر اللہ کی طرف سے کوئی اور رسول انسانیت کی ہدایت کے لیے نہیں بھیجا جائے گا، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔ اس کے بعد انسان پر قیامت برپا ہو گی۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اس ممکنہ زوال کی پیشین گوئی صدیوں پہلے کر دی تھی۔ اس بارے میں ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”تم ضرور ان لوگوں کے طریقوں پر بالشت بر بالشت اور ہاتھ بر ہاتھ چلتے جاؤ گے جو تم سے پہلے تھے حتیٰ کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے تو تم بھی ان کے پیچھے گھسو گے۔صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، جب آپ پہلوں کی بات کرتے ہیں تو کیا آپ کا اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے؟ آپ نے فرمایا: اور کون! “(مسلم، رقم 6448)

10۔ قرآن کے قانون رسالت کا خلاصہ

ہماری اب تک کی بحث کا ایک مختصر بیان یہ ہےکہ قرآن کے مطابق ہر انسان فطری طور پر اپنے خالق کو جانتا ہے اور نیکی و بدی کی بنیادی تفریق سے آگاہ ہے۔ ابتدا میں، خدا نے انسانیت کے پہلے گروہ سے براہِ راست خطاب کیا اور ان کی پیدایش کی حقیقت اور ان کے مقصد زندگی کو واضح کیا۔ تمام انسان اس وقت راہِ راست پر قائم تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انحرافات نے جنم لیا۔ انحراف کے اس سلسلے کو روکنے اور انسانیت کو راہِ راست پر واپس لانے کے لیے خدا نے اپنے نبی مبعوث فرمائے۔ جب اکثر قوموں نے نبیوں کی تعلیمات کو مسترد کر دیا اور حق کے دلائل کے باوجود خدا اور جزا و سزا کو جھٹلانے پر اصرار کیا تو خدا نے رسولوں کو بھیجا۔ رسول نہ صرف خدا کے پیغام کے مبلغ ہوتے ہیں، بلکہ زمین پر خدا کی عدالت اور اس کی دینونت کا مظہر بن کر آتے ہیں۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک قیامت صغریٰ برپا کر کے دکھاتے ہیں، تاکہ آخرت کے حساب و کتاب اور جزا و سزا کی ایک جھلک دیکھ کر لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لائیں اور اخروی جزا و سزا کو مانیں۔

رسول کسی قوم میں آ کر برسوں تک خدا کے پیغام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کی دعوت کے دلائل کی مضبوطی، ان کے کردار کی عظمت، ان کے معجزات اور ان کے حق میں رونما ہونے والے خارجی حالات قوم کے لیے حق کو بالکل واضح کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے مخاطبین پر اتمام حجت ہو جاتی ہے اور قوم کے پاس انکار کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ پھر ایک وقت آتا ہے، جب خود اللہ تعالیٰ رسول کے مخاطبین کے لیے دنیا ہی میں جزا و سزا کے فیصلے کا اعلان کرتا ہے۔اس فیصلے کے مطابق، رسول کی دعوت کو قبول کرنے والے دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں اور فوز و فلاح پاتے ہیں، جب کہ انکار کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نافذ ہوتا ہے۔ اگر قوم کی مکمل تباہی مقصود ہو تو عذاب قدرتی آفات کے ذریعے سے آتا ہے۔ لیکن اگر مخاطب قوم کا مکمل خاتمہ ضروری نہ ہو تو عذاب دیگر انسانوں کے ہاتھوں نافذ کیا جاتا ہے۔

جب انسان چھوٹے گروہوں میں منقسم تھے تو انفرادی قوموں کے لیے رسول بھیجے گئے، لیکن جب انسانیت تہذیبوں اور اقوام میں تقسیم ہو گئی تو خدا نے انفرادی رسولوں کی جگہ ایسی قوموں کو چنا ،جو اس کے پیغام کو عام کریں۔ اس مقصد کے لیے حضرت ابراہیم کی نسل کو منتخب کیا گیا۔

پہلی قوم حضرت اسحاق کی نسل سے اٹھی، جس کے لیے کنعان کی سرزمین خاص کر دی گئی تاکہ وہ اسے خدا کے دین کے لیے وقف کریں اور وہاں سے دیگر مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو ختم کر دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں یہ قوم خدا کی منتخب قوم بنی، اسے قانون دیا گیا اور اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ دنیا میں خدا کے دین اور ہدایت پر عمل کریں اور اسے پوری دنیا میں عام کریں۔ بنی اسرائیل نے ایک لمبے عرصے تک اس ذمہ داری کو نبھایا۔ تاہم، پھر وہ حق سے انحراف کے مرتکب ہو گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت عیسیٰ نے انھیں خدا کی راہ پر واپس لانے کی کوشش کو اور انھیں اس پر ابھارا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھے ہوئے عہد کو پورا کریں۔ انھوں نے بنی اسرائیل کو یہ انذار بھی کیا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ اللہ تعالیٰ کی منتخب قوم ہونے کا حق کھو دیں گے۔اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ لیکن بد قسمتی سے بنی اسرائیل نے نہ صرف حضرت عیسیٰ کو جھٹلایا، بلکہ ان پر ظلم و ستم بھی کیا۔ نتیجتاً، خدا نے ان پر رومیوں کے ذریعے سے سخت عذاب نازل کیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے چھ سو سال بعد، خدا نے ایک نئی قوم کو اپنی ہدایت کا آخری علم بردار بنایا۔ اس بار یہ قوم حضرت اسمٰعیل کی نسل سے تھی اور اس مقصد کے لیے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ رسولوں کے بارے میں قرآن کے بیان کردہ قانون کا جائزہ لیں تو معلوم تاریخ گواہ ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں تمام واقعات بالکل ویسے ہی پیش آئے، جیسا کہ قرآن نے پیشین گوئی کی تھی۔ مزید برآں، بائیبل میں مذکور عذاب کے تمام قصے، چاہے وہ حضرت نوح، حضرت لوط، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے متعلق ہوں، قرآن میں بیان کردہ رسولوں کے قانون کی روشنی میں مکمل طور پر قابلِ فہم ہو جاتے ہیں۔یہ واقعات اور قصے محض گناہ گاروں پر خدا کے غضب کے بے ترتیب مظاہر نہیں ہیں، بلکہ خدا کی ایک عظیم حکمت والے منصوبے کے تحت اور مربوط طریقے سے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ ان قوموں کو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نمایندگی کے لیے منتخب کیا اور قانونِ رسالت کے ذریعے سے قیامت کے دن—جب تمام انسان جزا و سزا پائیں گے—کی سب سے بڑی دنیوی دلیل فراہم کی۔

قرآن میں قانونِ رسالت کے حوالے سے کیے گئے دعوے ہر انسان کو ایک مضبوط بنیاد اور وجہ فراہم کرتے ہیں کہ وہ قرآن کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے اور اسے خدا کی طرف سے حق کے طور پر تسلیم کرنے کی کوشش کرے۔

__________

  1. 1۔ البقرہ 2 : 256۔
  2. 2۔ البقرہ2 : 210۔ الانعام6 : 8، 158۔ الحجر 15 :7۔ الفرقان 25 : 22۔ الشعراء 26 :4۔ النحل 16: 28۔ السجدہ 32 : 12۔
  3. 3۔ القلم 68 : 4۔
  4. 4۔ الاسراء17 : 75۔
  5. 5۔ ق50 :22۔
  6. 6۔ الشمس 91 : 8۔
  7. 7۔ البقرہ2 : 213۔
  8. 8۔ البقرہ 2 : 213۔ الفرقان25 :18۔
  9. 9۔ الانعام6 :100۔ سبا 34 :41۔
  10. 10۔ دیکھیے:

    “Are We Wired to Believe in a Higher Power?”, BBC Teach, https://www.bbc.co.uk/teach/are-wewired-to-believe-in-a-higher-power/z74xkmn .

  11. 11۔ جوبین بیخراد،” زرتشت یا زوراسٹر عقیدہ: ایک مذہب جس نے سب سے پہلے خدا کی وحدانیت کا پیغام دیا “، بی بی سی اردو، https://www.bbc.com/urdu/world-60658763
  12. 12۔ دیکھیے:

    “Indian Religion – Fort Raleigh National Historic Site (U.S. National Park Service)”,

    https://www.nps.gov/fora/learn/education/indian-religion.html

  13. 13۔ ویکیپیڈیاپر مضمون” Anishinaabe “دیکھیے۔
  14. 14۔ ویکیپیڈیا پر مضمون” Nanabozho “ملاحظہ کیجیے۔
  15. 15۔ دیکھیے:

    Cierra Tolentino, “Chinese Mythology: History, Culture, Myths, and Heroes,” https://historycooperative.org/chinese-mythology/.

  16. 16۔ دیکھیے:

    Onukwube Anedo and Anedo Ngozi, “Ghosts in Chinese and Igbo Religion,” Journal of African Studies & Development, Vol. 13, pp. 1 – 14.

  17. 17۔ دیکھیے:

    Scott Linklater, “What Is Aboriginal Dreamtime?”,

    https://www.aboriginal-art-australia.com/aboriginal-art-library/aboriginal-dreamtime/.

  18. 18۔ دیکھیے:

    Arthur Cotterell, “Bamapana,” in A Dictionary of World Mythology (Oxford University Press, 2003),

    https://www.oxfordreference.com/display/10.1093/acref/9780192177476.001.0001/acref-9780192177476-e-487.

  19. 19۔ دیکھیے:

    Robert a Armour, Gods and Myths of Ancient Egypt, (American Univ in Cairo Press, 2001), 99-100.

  20. 20۔ دیکھیے :

    Robert a Armour, Gods and Myths of Ancient Egypt, (American Univ in Cairo Press, 2001), 135.

  21. 21۔ دیکھیے: britannica.com پرمضمون:” African Religions “۔
  22. 22۔ دیکھیے: britannica.com پر مضمون:” African Religions “۔
  23. 23۔ britannica.com پر مضمون:” Valhalla “ ملاحظہ کیجیے۔
  24. 24۔ britannica.com پر مضمون:” Niflheim “ملاحظہ کیجیے۔
  25. 25۔ britannica.com پر مضمون:” Loki “ ملاحظہ کیجیے۔
  26. 26۔ britannica.com پر مضمون:” Elysium “ دیکھیے۔
  27. 27۔ britannica.com پر مضمون:” Hell – Greek, Roman, Mythology “ دیکھیے۔
  28. 28۔ britannica.com پر مضمون:” Prometheus “دیکھیے۔
  29. 29۔ دیکھیے:

    “DOLUS (Dolos) – Greek God or Spirit of Trickery & Guile, https://www.theoi.com/Daimon/Dolos.html.

  30. 30۔ البقرہ 2 : 213۔
  31. 31۔ الصافات37 : 71-72۔
  32. 32۔ غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے یو ٹیوب چینل پر ویڈیو بہ عنوان ”23 سوالات کے جواب میں: اتمام حجت“ دیکھیے۔
  33. 33۔ البقرہ2 : 213۔
  34. 34۔ النحل16 : 112-113۔ الحاقہ69 : 10۔ التغابن64 : 5-6۔
  35. 35۔ دیکھیے:

    Abdullah al Andalusi, “What Is a Kafir? The Confusion in English Regarding the Quranic Use of the Word ‘Kafir,’” (blog),

    https://abdullahalandalusi.com/2016/05/05/thequranic-use-of-the-word-kafir/.

  36. 36۔ النساء 4: 163۔ ابراہیم14 : 9۔
  37. 37۔ نوح71 : 5-7۔
  38. 38۔ ہود11 : 27۔ المومنون23 : 24۔ الشعراء 26: 111 ۔
  39. 39۔ الشعراء26 : 116۔
  40. 40۔ ہود11 : 40۔ الشعراء26 : 119-120۔ الاعراف7 : 64۔ یونس 10: 73۔
  41. 41۔ الفرقان25 : 37۔ الحاقہ69 : 12۔ الصافات37: 78۔
  42. 42۔ دیکھیے:

    “A Flood of Myths and Stories | Blog | Independent Lens,”

    https://www.pbs.org/independentlens/blog/a-flood-of-myths-andstories/.

  43. 43۔ دیکھیے:

    “A Flood of Myths and Stories | Blog | Independent Lens,”

    https://www.pbs.org/independentlens/blog/a-flood-of-myths-andstories/.

  44. 44۔ دیکھیے:

    “A Flood of Myths and Stories | Blog | Independent Lens,”

    https://www.pbs.org/independentlens/blog/a-flood-of-myths-andstories/.

  45. 45۔ دیکھیے:

    “A Flood of Myths and Stories | Blog | Independent Lens,”

    https://www.pbs.org/independentlens/blog/a-flood-of-myths-andstories/.

  46. 46۔ دیکھیے:

    “A Flood of Myths and Stories | Blog | Independent Lens,”

    https://www.pbs.org/independentlens/blog/a-flood-of-myths-andstories/.

  47. 47۔ mythencyclopedia.com پر مضمون” Floods – Myth Encyclopedia “ دیکھیے۔
  48. 48۔ دیکھیے:

    “The Flood of Noah and the Flood of Gilgamesh | The Institute for Creation Research,”

    https://www.icr.org/article/noah-flood-gilgamesh/.

  49. 49۔ دیکھیے:

    Joshua J. Mark, “Book of the Heavenly Cow,” World History Encyclopedia,

    https://www.worldhistory.org/Book of the Heavenly Cow/

  50. 50۔ دیکھیے:

    “Flood Myths,” Indigenous Peoples Literature (blog),

    https://indigenouspeoplenet.wordpress.com/2022/06/29/flood-myths/

  51. 51۔ meta-religion.com پر مضمون:” Flood Myths – Africa “ملاحظہ کیجیے۔
  52. 52۔ یونس10 :47۔ بنی اسرائیل17 : 15 ۔القصص28 : 59 ۔
  53. 53۔ الفرقان25 : 38 ۔ ابراہیم14: 9 ۔
  54. 54۔ القمر 54 : 4۔
  55. 55۔ یونس10 : 47 ۔ بنی اسرائیل17 : 15 ۔ القصص28 : 59 ۔
  56. 56۔ العنکبوت29 : 27 ۔ آل عمران3 :33۔
  57. 57۔ العنکبوت29 : 24۔
  58. 58۔ القصص28: 35۔
  59. 59۔ القصص28: 5۔
  60. 60۔ الانفال8: 54۔
  61. 61۔ الاعراف7: 129 ۔ الاعراف 7 :137 ۔ المائدہ5 : 21۔
  62. 62۔ دیکھیے:

    The Exodus Decoded, directed by Simcha Jacobovici, (2006, Canada, Associated Producers), Documentary.

  63. 63۔ القصص28 : 5۔
  64. 64۔ المائدہ5: 78 اور دیگر بہت سی آیات میں یہی فرمایا گیا ہے، خاص طور پر سورۂ مائدہ کی آیات اہم ہیں۔
  65. 65۔ الاعراف7:38 بھی دیکھیے ۔
  66. 66۔ المزمل73 : 15۔
  67. 67۔ دیکھیے: المجادلہ 58: 5 ۔ المجادلہ 58 :20 – 21 اور دیگر متعلقہ آیات۔
  68. 68۔ النور24 : 55۔
  69. 69۔ الحج 22: 78۔
  70. 70۔ الفتح48 : 28 ۔ التوبہ9 : 33۔ الصف61 : 9۔
  71. 71۔ الانعام6 :92۔ الشوریٰ 42 :7۔
  72. 72۔ التوبہ9 : 52۔
  73. 73۔ الزمر 39:26 ۔المجادلہ58 : 20 ۔
  74. 74۔ مسند عبد بن حمید،رقم 545۔
  75. 75۔ بخاری، رقم2941۔
  76. 76۔ الرعد13 : 40 ۔ الغافر46 : 77۔ یونس10 :46۔ الزخرف43 :41- 42۔
  77. 77۔ تفصیلات کے لیے سورۂ انفال کا مطالعہ کریں۔
  78. 78۔ الحجر15 :4۔
  79. 79۔ الفتح48 : 25۔
  80. 80۔ النساء4: 97- 98۔
  81. 81۔ التوبہ9: 5۔
  82. 82۔ الفاتحہ1: 7۔
  83. 83۔ الفاتحہ1: 7۔
  84. 84۔ التوبہ: 29۔
  85. 85۔ البقرہ2 : 256۔
  86. 86۔ البقرہ2 : 143۔
  87. 87۔ الرعد13 : 40۔ الغافر40: 77۔
  88. 88۔ النور24 : 55۔
  89. 89۔ دیکھیے:

    Carole Hillenbrand, “Muhammad and the Rise of Islam,” in The New Cambridge Medieval History, vol. 1, 4 vols. (Cambridge: Cambridge University Press, 2005), 340.

  90. 90۔ دیکھیے:

    Andrew Louth, “The Byzantine Empire in the Seventh Century,” in The New Cambridge Medieval History, vol 1, 4 vols. (Cambridge: Cambridge University Press, 2005), 298.

  91. 91۔ دیکھیے:

    Barnaby Rogerson, “The Caliph: Part 1: Foundation,” Al-Jazeera English, https://youtu.be/P3O9d-7PsI48.