باب چہارم
نزولِ مسیح ــــــ غامدی صاحب کا موقف
گذشتہ باب میں نزولِ مسیح کے تصور پر جناب جاوید احمد غامدی کے اشکالات سامنے آ گئے ہیں۔ یہ قرآنِ مجید کے نصوص، فہم حدیث کے اصول،تاریخ کے حقائق اور علم و عقل کے مسلمات کی روشنی میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اشکالات مانع ہیں کہ روایات میں منقول نزولِ مسیح اور اُس کے متعلقات کو متعین،محسوس اور مشہود واقعات کے طور پر قبول کیا جائے۔ اِن کے ساتھ یہ جائز نہیں ہے کہ مذکورہ تصور کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے پیش کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ذاتِ اقدس سے کسی ناقابلِ اطمینان اور مشتبہ بات کو منسوب کرنا دین و ایمان کے منافی ہے۔ ایسا اقدام دنیا و آخرت، دونوں میں سنگین نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔
اِس کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اگر غامدی صاحب نزولِ مسیح کے معروف تصور کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست نہیں سمجھتے تو کیا وہ اِس موضوع کی کثیر روایات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں؟ اِس کا جواب نفی میں ہے۔ غامدی صاحب اِس موضوع کی جملہ روایات کو اصلاً قبول کرتے ہیں، تاہم وہ اُن کی تاویل سنن ابنِ ماجہ اور بعض دوسری کتابوں میں نقل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی روشنی میں کرتے ہیں۔70 اِس روایت سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح اور قتل دجال کا ذکر خود مسیح علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کےموقع پر کیا تھا۔ روایت کے مطابق اسرا و معراج کے سفر کے دوران میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انبیا علیہم السلام سے ملاقات فرمائی تو وقوعِ قیامت کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔ اُس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ روایت درجِ ذیل ہے:
عن عبد اللّٰه بن مسعود قال: لما كان ليلة أسرى برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم لقي إبراهيم وموسى وعيسى.فتذاكروا الساعة. فبدأ بإبراهيم. فسألوه عنها. فلم يكن عنده منها علم. ثم سألوا موسى. فلم يكن عنده منها علم. فرد الحديث إلى عيسى بن مريم. فقال: قد عهد إلي فيما دون وجبتها. فأما وجبتها فلا يعلمها إلا اللّٰه. فذكر خروج الدجال. قال فأنزل فأقتله. فيرجع الناس إلى بلادهم. فيستقبلهم يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون. فلا يمرون بماء إلا شربوه. ولا بشيء إلا أفسدوه. فيجأرون إلي اللّٰه. فأدعو اللّٰه أن يميتهم. فتنتن الأرض من ريحهم. فيجأرون إلى اللّٰه. فأدعو اللّٰه. فيرسل السماء بالماء. فيحملهم في البحر. ثم تنسف الجبال وتمد الأرض مد الأديم. فعهد إلي متى كان ذلك كانت الساعة من الناس. كالحامل التي لا تدري أهلها متى تفجؤهم بولادتها. 71
(ابن ماجہ، رقم 4081)
’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے فرمایا: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ کی ملاقات سیدنا ابراہیم، موسیٰ اور عیسٰی علیہم السلام سے بھی ہوئی۔ وہ آپس میں قیامت کے بارے میں بات چیت کرنے لگے۔ سب سے پہلے اُنھوں نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا، لیکن اُنھیں اِس کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ پھر اُنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، اُنھیں بھی اِس کا علم نہیں تھا۔ اِس پر عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام سے بات کرنے کو کہا گیا تو اُنھوں نے فرمایا: مجھے قیامت کے قائم ہونے سے پہلے کی باتیں بتائی گئی ہیں۔ رہا اِس کے قائم ہونے کا وقت تو وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر اُنھوں نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا اور فرمایا: میں نازل ہو کر اُسے قتل کروں گا۔ اِس کے بعد لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے۔ آگے سے اُنھیں یاجوج و ماجوج ملیں گے، جو ہر ٹیلے سے تیزی کے ساتھ اُتر رہے ہوں گے۔ وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے، اُسے پی جائیں گے۔ اور جس چیز کے پاس سے نکلیں گے، اُسے تباہ و برباد کر دیں گے۔ اُسی وقت لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، اور میں بھی اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ اِنھیں تباہ کر دے۔ (چنانچہ وہ سب ہلاک ہو جائیں گے)۔ تب (ساری) زمین میں اُن کی سڑاند پھیل جائے گی۔ پھر لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، میں بھی اللہ سے دعا کروں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو اُنھیں بہا کر سمندر میں پھینک دے گی۔ پھر پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین کو اِس طرح کھینچ کر برابر کر دیا جائے گا، جس طرح چمڑے کو کھینچ دیا جاتا ہے۔ (عیسیٰ علیہ السلام نے کہا): مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ واقعہ ہو گا تو قیامت اتنی قریب ہو گی، جیسے وہ حاملہ جس (کا وقت بالکل قریب ہو اور اُس) کے گھر والوں کو پتا نہ ہو کہ اچانک کس وقت ولادت ہو جائے گی۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک یہ روایت نزولِ مسیح کی روایتوں کی الجھنوں اور اشکالات کو رفع کر دیتی ہے۔ اگر اِس روایت کو اصل اور دیگر روایتوں کو متابعات کے طور پر سمجھا جائے تو نزولِ مسیح، ظہورِ دجال، خروجِ یاجوج و ماجوج اور علاماتِ قیامت کی جملہ روایتیں بہت حد تک ہم آہنگ اور ہم رنگ مضمون کے طور پر سامنے آتی ہیں اور اہل علم کے لیے اُنھیں قبول کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔
یہ روایت کیونکر اصل کا مقام رکھتی ہے، دیگر روایتیں کیسے اِس کے تابع ہیں اور اِس کے مندرجات خصوصاً نزولِ مسیح کا ممکنہ طور پر کیا مدعا اور مصداق ہے؟ اِن سوالات کی وضاحت ایک مفصل کتاب کی متقاضی ہے۔ یہاں اجمالی بیان کے طور پر چند نکات پیش ہیں۔
1۔ نزولِ مسیح کے باب کی روایت
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نزولِ مسیح، ظہورِ دجال، خروجِ یاجوج و ماجوج اور علاماتِ قیامت ہی کے ابواب سے متعلق ہے۔ سنن ابن ماجہ میں یہ’فتنة الدجال وخروج عيسی بن مريم وخروج ياجوج و ماجوج‘ کے باب میں درج ہے۔اِن موضوعات کی بعض دیگر روایتیں بھی اِس باب میں منقول ہیں۔ مزید برآں، اِس روایت میں وہ تمام امور مذکور ہیں، جو نزولِ مسیح کے تصور کا جزوِ لازم ہیں اور اِس موضوع کی روایتوں میں بہ تکرار نقل ہوئے ہیں،یعنی:
*نزولِ مسیح قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
* قیامت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے۔
* آپ کی موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گا۔
*آپ دجال کو قتل کریں گے۔
* پھر آپ کی موجودگی ہی میں یاجوج و ماجوج کا خروج ہو گا۔
*وہ ہر بلندی سے پل پڑیں گے۔
* پھر مسیح علیہ السلام اُن کی ہلاکت کی دعا کریں گے تو وہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔
* زمین اُن کی لاشوں سے بھر جائے گی۔
* پھر حضرت مسیح دعا فرمائیں گے تو زمین اُن کے وجود سےپاک ہو جائے گی۔
* اُس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی۔
اِن نکات سے واضح ہے کہ اِس روایت میں بالاختصار وہی باتیں بیان ہوئی ہیں، جو نزولِ مسیح کی بعض دوسری روایتوں میں بالتفصیل نقل ہیں۔ اِس ضمن کی ایک مثال حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہے، جسے ابنِ ماجہ نے اُسی کتاب اور اُسی باب میں نقل کیا ہے، جس میں مذکورہ روایت منقول ہے۔ اِس کے تقابل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابنِ مسعود اور نواس بن سمعان رضی اللہ عنہماکی روایات ایک ہی مدعا کے دو مختلف بیانات ہیں۔ ایک میں اجمال ہے اور دوسری میں تفصیل ہے۔ دونوں میں بعض متنوع اضافے بھی ہیں،جوایک دوسرے کے خلا پرکرتے ہیں۔ یہی معاملہ اِس موضوع کی دیگر روایتوں کا ہے۔روایت درجِ ذیل ہے:
سمع النواس بن سمعان الكلابي، يقول: ذكر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم الدجال الغداة، فخفض فيه ورفع، حتى ظننا انه في طائفة النخل. فلما رحنا إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عرف ذلك فينا، فقال: ما شانكم؟ فقلنا: يا رسول اللّٰه، ذكرت الدجال الغداة، فخفضت فيه ثم رفعت، حتى ظننا انه في طائفة النخل، قال: غير الدجال اخوفني عليكم، إن يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه، و اللّٰه خليفتي على كل مسلم. إنه شاب قطط، عينه طافئۃ، كاني اشبهه بعبد العزى بن قطن، فمن رآه منكم فليقرا عليه فواتح سورة الكهف. إنه يخرج من خلة بين الشام، والعراق، فعاث يمينًا، وعاث شمالاً، يا عباد اللّٰه، اثبتوا. قلنا: يا رسول اللّٰه، وما لبثه في الارض؟ قال: اربعون يومًا، يوم كسنة، ويوم كشهر، ويوم كجمعة، وسائر ايامه كايامكم. قلنا: يا رسول اللّٰه، فذلك اليوم الذي كسنة تكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: فاقدروا له قدرہ. قلنا: فما إسراعه في الارض؟ قال: كالغيث اشتد به الريح، قال: فياتي القوم فيدعوهم فيستجيبون له، ويؤمنون به، فيامر السماء ان تمطر فتمطر، ويامر الارض ان تنبت فتنبت، وتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى، واسبغه ضروعًا، وامده خواصر، ثم ياتي القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله، فينصرف عنهم، فيصبحون ممحلين ما بايديهم شيء، ثم يمر بالخربة، فيقول لها: اخرجي كنوزك، فينطلق، فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل. ثم يدعو رجلاً ممتلئًا شباباً، فيضربه بالسيف ضربة فيقطعه جزلتين رمية الغرض. ثم يدعوه فيقبل يتهلل وجهه يضحك. فبينما هم كذلك إذ بعث اللّٰه عيسى ابن مريم، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين، واضعًا كفيه على اجنحة ملكين، إذا طاطا راسه قطر، وإذا رفعه ينحدر منه جمان كاللؤلؤ . ولا يحل لكافر ان يجد ريح نفسه، إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه، فينطلق حتى يدركه عند باب لد فيقتله. ثم ياتي نبي اللّٰه عيسى قومًا قد عصمهم اللٰه، فيمسح وجوههم، ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة، فبينما هم كذلك، إذ اوحى اللّٰه إليه: يا عيسى، إني قد اخرجت عبادًا لي لا يدان لاحد بقتالهم، واحرز عبادي إلى الطور. ويبعث اللّٰه ياجوج وماجوج، وهم كما قال اللّٰه: من كل حدب ينسلون. فيمر اوائلهم على بحيرة الطبرية، فيشربون ما فيها، ثم يمر آخرهم، فيقولون: لقد كان في هذا ماء مرةً. ويحضر نبي اللّٰه واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيرًا من مائة دينار لاحدكم اليوم، فيرغب نبي اللّٰه عيسى واصحابه إلى اللّٰه، فيرسل اللّٰه عليهم النغف في رقابهم، فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة. ويهبط نبي اللّٰه عيسى واصحابه فلا يجدون موضع شبر إلا قد ملاه زهمهم ونتنهم ودماؤهم فيرغبون إلى اللّٰه فيرسل عليهم طيرًا كاعناق البخت، فتحملهم فتطرحهم حيث شاء اللّٰه. ثم يرسل اللّٰه عليهم مطرًا لا يكن منه بيت مدر، ولا وبر فيغسله، حتى يتركه كالزلقة، ثم يقال للارض انبتي ثمرتك، وردي بركتك، فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة فتشبعهم، ويستظلون بقحفها، ويبارك اللّٰه في الرسل، حتى إن اللقحة من الإبل تكفي الفئام من الناس، واللقحة من البقر تكفي القبيلة، واللقحة من الغنم تكفي الفخذ. فبينما هم كذلك إذ بعث اللّٰه عليهم ريحًا طيبةً، فتاخذ تحت آباطهم فتقبض روح كل مسلم، ويبقى سائر الناس يتهارجون كما تتهارج الحمر، فعليهم تقوم الساعة.72
(ابن ماجہ، رقم 4075)
’’نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا۔ اِس دوران میں آپ نے اپنی آواز پست بھی کی اور بلند بھی کی۔ اِس سے ہمیں خیال ہوا کہ وہ قریب ہی کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ بعد ازاں شام کے وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ہمارے چہروں کو خوف زدہ دیکھ کر پوچھا: تمھیں کیا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: یارسول اللہ، جب آپ نے دجال کا ذکر فرمایا اور اپنی آواز کو پست بھی رکھا اور بلند بھی فرمایا تو اِس سے ہمیں اندیشہ ہوا کہ دجال قریب ہی کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: مجھے تمھارے بارے میں دجال سے بڑھ کر ایک اور بات کا اندیشہ ہے۔ دجال اگر میری موجودگی میں ظاہر ہوا تو میں خود اُس کے خلاف حجت پیش کروں گا، لیکن اگر اُس کا ظہور میرے رخصت ہونے کے بعد ہوا تو تم میں سے ہر مسلمان اُس کے خلاف حجت پیش کرے گا۔ اللہ ہر مسلمان کا محافظ ہو گا۔ (آپ نے مزید فرمایا کہ) دجال گھنگھریالے بالوں والا جوان ہو گا۔ اُس کی ایک آنکھ اندھی ہو گی۔ وہ عبدالعزی ٰ بن قطن کے مشابہ ہو گا۔ تم میں سے جو شخص اُس کو دیکھے، وہ سورۂ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔ (پھر آپ نے فرمایا): وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا۔ اللہ کے بندو،تم (اُس کے مقابلے میں) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اُس کا زمین میں قیام کتنی مدت کے لیے ہو گا؟آپ نے فرمایا: چالیس دن تک۔ البتہ، اِن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے جتنا ہو گا، اور ایک دن ایک جمعہ (یعنی سات دنوں) کی طرح ہو گا۔باقی (37) دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ بھی بتا دیجیے کہ جو دن ایک سال کے برابر ہوگا، کیا اُس ایک دن کی (پانچ) نمازیں کفایت کریں گی؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ البتہ، تم اپنے اندازے سے اُن کے اوقات مقرر کر لینا۔ پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، دجال زمین میں کتنی تیزی سے چلے گا؟ آپ نے فرمایا : جس تیزرفتاری سے ہوا بادلوں کو چلاتی ہے۔ (فرمایا): وہ کچھ لوگوں کے پاس جائے گا اور اُنھیں دعوت دے گا۔ وہ اُس کی دعوت پر ایمان لائیں گے اور اُس کی تصدیق کریں گے۔ وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش ہونے لگے گی، زمین کو درخت اگانے کا حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی۔ شام کو اُن کے مویشی اپنی چراگاہوں سے اِس طرح لوٹیں گے کہ اُن کے کوہان لمبے، کولہے چوڑے اور پھیلے ہوئے اور تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔ (فرمایا): پھر وہ دوسرے لوگوں کے پاس جا کر اپنی دعوت پیش کرے گا۔ وہ اُس کی تکذیب اور تردید کریں گے۔ جب وہ وہاں سے واپس ہو گا تو اُن لوگوں کے اموال اُس کے ساتھ چل پڑیں گے۔ صبح تک لوگ بالکل خالی ہو جائیں گے۔ پھر وہ ایک ویران زمین سے کہے گا کہ اپنے خزانے نکالو، اور جب لوٹے گا تو زمین کے خزانے اُس کے پیچھے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح (بہ کثرت) چل رہے ہوں گے۔ پھر وہ ایک نوجوان کو بلائے گا اور تلوار سے نشانے کے عین مطابق اُس کے دوٹکڑے کر دے گا۔ اِس کے بعد وہ دوبارہ اُس کو بلائے گا تو وہ کھلکھلاتا اور ہنستا ہوا اُس کے پاس آئے گا۔ اِسی دوران میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابنِ مریم کو بھیج دیں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے پاس نازل ہوں گے۔ وہ زرد لباس پہنے ہوں گے اور دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو یوں لگےگا کہ پانی کےقطرے (بالوں سے) ٹپک رہے ہیں۔ جب سر اٹھائیں گے تو قطرے موتی کی طرح ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ (فرمایا): اُن کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی ــــ اور وہ اُن کی حدِ نظر تک پہنچے گی ــــ وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر وہ دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ کے دروازے پر اُسے پکڑ لیں گے اور اُسےقتل کر دیں گے۔ اِس کے بعد عیسٰی علیہ السلام اُن لوگوں کے پاس آئیں گے، جنھیں اللہ نے دجال سے بچایا ہو گا۔ وہ اُن کے چہروں کو سہلائیں گے اور اُن کو جنت میں اُن کے درجات سے آگاہ فرمائیں گے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ عیسٰی علیہ السلام پر وحی بھیجیں گےکہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں، جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔ آپ اِنھیں بہ حفاظت طور کی طرف لے جائیے۔ پھر اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔ اِن کا پہلا گروہ بحیرۂ طبریہ پر سے گزرے گا اور اُس میں جتنا پانی ہو گا، پی لے گا۔ اِس کے بعد اُن کا دوسرا گروہ وہاں پہنچے گاتو وہ کہے گا کہ کیا اِس دریا میں کبھی پانی بھی تھا! اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے اصحاب طور پہاڑ پر حاضر رہیں گے۔ اُن کےلیے اُس وقت بیل کا سر سو اشرفیوں سے افضل ہو گا۔ (فرمایا): پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج پر عذاب بھیجیں گے۔ اُن کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہو گا، جس کی وجہ سے صبح تک وہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب زمین میں اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت برابر جگہ خالی نہ ہو گی۔ (ہر جگہ یاجوج و ماجوج کی لاشیں پڑی ہوں گی)۔ پھر آپ اور آپ کے اصحاب اللہ سے دعا کریں گے۔ چنانچہ اللہ ایسے پرندوں کو بھیجے گا، جو بڑے اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گے۔ وہ اُن لاشوں کو اٹھا لے جائیں گے اور اُنھیں وہاں پھینک دیں گے، جہاں اللہ کا حکم ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا، جو زمین کے ہر حصے کو دھو ڈالے گی۔ زمین ایسی صاف شفاف ہو جائے گی، جیسے حوض ہوتا ہے۔ اِس کے بعد زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل اگا اور اپنی برکت کو لوٹا دے۔ (اِس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے پھل پیدا ہوں گے)۔ ایک انار ایک گروہ کے لیے کفایت کرے گا۔ اُس کا چھلکا سائبان کے برابر ہو گا۔وہ اُس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں اتنی برکت ہو گی کہ ایک اونٹنی کا دودھ انسانوں کے ایک بڑے گروہ کو کفایت کرے گا۔ ایک گاے کا دودھ ایک برادری کے لیے اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کے لیے کافی ہو گا۔ اِسی دوران میں اللہ تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجیں گے،جو اُن کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جائے گی۔ اِس کے نتیجے میں ہر مومن اور مسلم کی روح قبض ہو جائے گی۔ برے اور بد ذات لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح آپس میں لڑیں گے۔اُن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔‘‘
حضرت نواس بن سمعان کی اِس روایت کا لفظ لفظ بتا رہا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کا تفصیلی بیان ہے۔
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک فہم حدیث کا ایک اہم اصول ہے کہ کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اِس باب کی تمام روایات کو پیشِ نظر ر کھنا چاہیے تاکہ اُس واقعے، اُس موقعے اور اُس موضوع کی تمام دستیاب تفصیلات سامنے آ جائیں۔ اِس کے نتیجے میں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس راوی نے کیا بات چھوڑی ہے اور کس نے اُسے بیان کیا ہے اور کہاں ابہام یا اجمال ہے اور کہاں وضوح اور تفصیل ہے۔ اِس طرح موضوع کی ممکن حد تک جامع تصویر سامنے آ جاتی ہے۔73 چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی مذکورہ روایت کو جب ہم نزولِ مسیح کے موضوع کی دیگر روایتوں میں شامل کرتے ہیں تو بات کی اصل حقیقت پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے اور وہ ترددات اور اشکالات رفع ہو جاتے ہیں،جو نزولِ مسیح کے تصور کو قبول کرنے میں مانع تھے۔
2۔ نزولِ مسیح کا رؤیا میں بیان
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح کا ذکر شبِ اسرا کے رؤیا میں ہوا ہے۔74اِس کے ابتدائی الفاظ ’لما كان ليلة أسرى برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم لقي إبراهيم وموسى وعيسى‘، ’’اسرا کی رات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی‘‘ سے اِس امر کی وضاحت ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ مسیح، ظہورِ دجال اور خروجِ یاجوج و ماجوج کے حوالے سے جو تفصیلات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں، اُن کا تعلق واقعاتِ اسرا و معراج سے ہے۔75
قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے اور آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرانے کا یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60کے الفاظ ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ (اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا) سے یہی بات متعین ہوتی ہے۔ارشاد ہے:
وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ. وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا.
’’ تم یاد کرو، جب ہم نے (اِسی تنبیہ و تخویف کے لیے) تم سے کہا تھا کہ تمھارے پروردگار نے اِن لوگوں کو گھیرے میں لے لیا ہے (اور یہ اُس کا مذاق اڑا رہے تھے)۔ اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے (اِن کے اِسی رویے کی وجہ سے) اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا اور اُس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔ ‘‘
صحیح بخاری میں نقل حضرت انس بن مالک کی روایت، رقم 7079 سے اِس امر کی تائید ہوتی ہے کہ معراج کا آسمانی سفر بھی عالم رؤیا میں ہوا تھا۔ اِس کے متعلقہ جملے ملاحظہ کیجیے:
عن شريك بن عبد اللّٰه أنه قال سمعت أنس بن مالك یقول: ليلة اسري برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من مسجد الكعبة انه جاءه ثلاثة نفر قبل ان يوحى إليه وهو نائم في المسجد الحرام، فقال اولهم: ايهم هو؟ فقال اوسطهم: هو خيرهم، فقال آخرهم: خذوا خيرهم، فكانت تلك الليلة. فلم يرهم حتى اتوه ليلةً اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ــــــ ولا ينام قلبه، وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم… قال: واستيقظ وهو في مسجد الحرام.
’’شریک بن عبداللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اُس رات کے بارے میں یہ بیان کرتے سنا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ کعبہ سے لے جایا گیا۔ (وہ بیان کرتے ہیں): وحی (کا سلسلہ) شروع ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سوئے ہوئے تھے کہ تین افراد (فرشتے) آپ کے پاس آئے۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا: اِن (لوگوں) میں سے وہ کون ہیں؟ درمیان والے نے جواب دیا: وہ جو اِن (لوگوں ) میں سب سے بہتر ہیں۔ آخری نے کہا: جو سب سے بہتر ہیں، بس اُنھیں لے جائیے۔ (پھر وہ تینوں واپس چلے گئے)۔ اِس رات میں بس اتنا ہی معاملہ ہوا۔ اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں نہیں دیکھا، یہاں تک کہ یہی (تینوں افراد) ایک دوسری رات میں (دوبارہ) آئے۔ اُس وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا، مگر آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ ــــــ اور آپ کا دل کبھی نہیں سوتا تھا۔ سب نبیوں کا یہی معاملہ ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل کبھی نہیں سوتے… حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اِس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام میں تھے۔‘‘76
اِس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قربِ قیامت میں مسیح علیہ السلام کے نزول، دجال کے ظہور اور یاجوج و ماجوج کے خروج کی جو تفصیلات مذکور ہیں، وہ اسرا و معراج کے موقعوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدات کا حصہ ہیں۔ یہ مشاہدات عالم رؤیا میں آپ کے نظر نواز ہوئےتھے۔
3۔ نبیوں کے رؤیا
اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وحی و الہام کے جو طریقے اختیار کرتے ہیں، اُن میں سے ایک طریقہ خطاب اور کلام ہے۔ یعنی اللہ کی بات زبان و بیان کے پیراے میں نبیوں تک پہنچتی ہے۔ الہامی صحائف اصلاً اِسی کا مجموعہ ہیں۔ اِس کی سب سے نمایاں مثال قرآنِ مجید ہے۔ اِس میں اللہ کا کلام اللہ ہی کے الفاظ و اسالیب میں نقل ہے۔
تعلیم و تربیت کا دوسرا طریقہ تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ اِس میں حقائق کو مشہود اور ممثل طریقے سے دکھایا جاتا ہے۔ اِس نوعیت کے مشاہدات کبھی عالم بیداری میں کھلی آنکھوں سے دکھائے جاتے ہیں اور کبھی نیند کے عالم میں رؤیا کی صورت میں سامنے لائے جاتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں یہ من جانب اللہ اور مبنی بر حق ہوتے ہیں۔ پہلی صورت کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبریل علیہ السلام کے اترنے کا مشاہدہ ہے۔ دوسری صورت کی مثال اسرا و معراج کے مشاہدات ہیں۔
دوسری صورت عموماً اُن امور کے لیے ہوتی ہے، جو اپنی کامل تفہیم کے لیے حسی تجربے یا عینی مشاہدے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا پروردگار سے یہ دعا کرنا کہ پروردگار، ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا، اِس بات کی درخواست ہے کہ اللہ کی طرف سے عبادت کے طریقے اُنھیں ممثل کر کے دکھا دیےجائیں۔77
اِس سے واضح ہے کہ پیغمبروں کے رؤیا من جانبِ اللہ اور وحی و الہام کی ایک قسم ہوتے ہیں۔ چنانچہ اُن میں شیطان کی کسی دراندازی یا نفس کے کسی خیال کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ وہ صادق، نفس الامر کے مطابق اور مبنی برحقیقت ہوتےہیں اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتےہیں۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِن کے بارے میں لکھا ہے:
’’… حضرات انبیا علیہم السلام کو جو رؤیا دکھائی جاتی ہے، وہ رویاے صادقہ ہوتی ہے۔ اِس کے متعدد امتیازی پہلو ہیں، جو ذہن میں رکھنے کے ہیں۔
پہلی چیز تو یہ ہے کہ رؤیاے صادقہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس طرح فرشتے کے ذریعے سے کلام کی صورت میں اپنی وحی نازل فرماتا ہے، اُسی طرح کبھی رؤیا کی صورت میں بھی اُن کی رہنمائی فرماتا ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ یہ رؤیا نہایت واضح، غیرمبہم اور روشن صورت میں ’كَفَلْقِ الصُّبْح‘ ہوتی ہے، جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینانِ قلب ہوتا ہے۔ اگر اِس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اِس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر واضح فرما دیتا ہے۔
تیسری چیز یہ ہے کہ جہاں واقعات و حقائق کا مشاہدہ کرانا مقصود ہو، وہاں یہی ذریعہ نبی کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا ہے، اِس لیے کہ اِس طرح واقعات کی پوری تفصیل مشاہدہ میں آ جاتی ہے اور وہ معانی و حقائق بھی ممثل ہو کر سامنے آ جاتے ہیں، جو الفاظ کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔
چوتھی چیز یہ ہے کہ رؤیا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اُس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آ سکتا ہے، لیکن رؤیاے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے۔ آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے، لیکن رؤیا بہ یک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہو جاتی ہے۔ آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اِس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے،لیکن رؤیا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تجلی الٰہی اپنی آنکھوں سے دیکھنی چاہی، لیکن وہ اِس کی تاب نہ لا سکے۔ برعکس اِس کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں جو مشاہدے کرائے گئے، وہ سب آپ نے کیے اور کہیں بھی آپ کی نگاہیں خیرہ نہیں ہوئیں۔‘‘(تدبر قرآن4/475-476)
4۔ تمثیلی مشاہدات کی تعبیر
انبیا علیہم السلام کو جو حقائق بہ چشم سر بصری نظارے کے طور پر یا بہ چشم دل رؤیاے صادقہ کے طریقے پر مشاہدہ کرائے جاتے ہیں، وہ بعض اوقات رؤیت کے عین مطابق اوربعض اوقات محتاجِ تعبیر ہوتے ہیں۔ اگر پہلی صورت ہو، یعنی مشاہدات اور نتائج میں عینی مطابقت ہو تو اُن کے فہم و تفہیم میں کوئی اشتباہ یا التباس پیدا نہیں ہوتا۔وہ پیغمبروں پر بھی واضح ہوتے ہیں اور اُن کے مخاطبین بھی اُنھیں بہ آسانی سمجھ پاتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر جو کچھ دیکھتا ہے، وہ بعینہٖ ماضی یا حال کا مشہود واقعہ ہوتا ہے یا مستقبل میں منصۂ عالم پر نمودار ہو جاتا ہے۔ اِس کی مثال رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کا بارِ دگرمشاہدہ ہے۔ یہ مشاہدہ ایک بار آپ نے شبِ اسرا میں رؤیا کے دوران میں کیا اور دوسری بار عالم بیداری میں اُس وقت کیا، جب کفار نے اُسے ماننے سے انکار کر دیا۔ آپ کو جھٹلانے کے لیے اُنھوں نے آپ سے مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کی تفصیلات پوچھیں تو اللہ نے مسجد کو آپ کی آنکھوں کے سامنے کر دیا اور آپ نے براہِ راست دیکھتے ہوئے اُس کی پوری تفصیل بیان فرمادی۔
جہاں تک اُن مشاہدات کا تعلق ہے، جن کا من و عن ظہور مقصود نہیں ہوتا، وہ تعبیر و تشریح کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ بالعموم عالم رؤیا میں دکھائے جاتے ہیں۔ اِن میں کوئی منظر تمثیل و تشبیہ کے طریقے پر دکھایا جاتا ہے، جس کا مدعا و مصداق و اقعی اور ظاہری نہیں، بلکہ معنوی اور مجازی ہوتا ہے۔استاذِ گرامی کے نزدیک اِن کی نوعیت اراءت کے طریقے پر وحی کی ہے۔ چنانچہ اِن کے ظہور کو بعینہٖ سمجھنے کے بجاے تعبیر اورتمثیل کے تعلق سے سمجھنا چاہیے۔ علاماتِ قیامت اور فتن کی روایتوں کے حوالے سے اُنھوں نے لکھا ہے:
’’آثار ِقیامت اور فتن وغیرہ کے جو واقعات روایتوں میں بیان ہوئے ہیں، وہ آپ کو بتائے نہیں گئے، بلکہ دکھائے گئے تھے، عام اِس سے کہ وہ رؤیا میں دکھائے گئے ہوں یا بیداری کی حالت میں۔ چنانچہ واقعہ اور تمثیل کا جو امتزاج اِس طرح کے مشاہدات میں ملحوظ ہوتا ہے، وہ اِن کی شرح و وضاحت میں بھی لازماً ملحوظ رہنا چاہیے۔‘‘ (علم النبی593)
قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اِس طرح کے رؤیا کا ذکر آیا ہے۔ چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:
سورۂ صافات (37)میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے رؤیا میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ اِس کی تعبیر، ظاہر ہے کہ یہ تھی کہ وہ اپنے فرزند کو معبد کی خدمت کے لیے اللہ کی نذر کر دیں۔ تاہم، اُنھوں نے تعبیر کا طریقہ اختیار کرنے کے بجاے اُس پر بعینہٖ عمل کرنے کا راستہ منتخب کیا۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اُن کی جانب سے امتثالِ امر میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، اُس پر آخری درجے میں عمل ہو جائے۔ اللہ نے آپ کے تسلیم و رضا کے عظیم جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اُس کے ساتھ پوری محبت اور التفات کے ساتھ اِس حقیقت کو بیان فرما دیا کہ یہ رؤیا تھا اور اِس بنا پر محتاجِ تعبیر تھا، لہٰذا بعینہٖ عمل کا متقاضی نہیں تھا:78
فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ. وَنَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ. قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا….
(37: 103-105)
’’پھر جب دونوں نے سرِتسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا۔اور ہم نے اُس سے پکار کر کہا کہ ابراہیم، تم نے خواب کو سچا کر دکھایا ہے…۔‘‘
حضرت یوسف علیہ السلام نے رؤیا میں سورج، چاند اور گیارہ ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئےدیکھا تھا۔ اِس کی تعبیر یہ نہیں تھی کہ یہ اجرامِ فلکی آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوں، بلکہ یہ تھی کہ آپ کے والدین اور گیارہ بھائی احتراماً آپ کے آگے جھک جائیں گے۔ قرآن سے واضح ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو حضرت یوسف نے اِسی کو اپنے رؤیا کی تعبیر قرار دیا:
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰي اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ. وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا وَقَالَ يٰاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا….
(یوسف12: 99-100)
’’پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے، اُس نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور کہا: مصر میں، اللہ چاہے تو امن چین سےرہیے۔ (اپنے گھر پہنچ کر) اُس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب بے اختیار اُس کے لیے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف نے کہا: ابا جان، یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے، جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اُس کو حقیقت بنا دیا…۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک مستقبل کے حالات و وقائع کے بارے میں بالعموم یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اُنھیں عالم رؤیا میں تمثیل و تشبیہ کے انداز میں دکھایا جاتا ہے۔نوعیت یہ ہوتی ہے کہ مستقبل میں رونما ہو نے والے واقعات مثالوں میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ گویا مثال کی تجسیم ہو جاتی ہے اور وہ کبھی واقعہ کی صورت میں ممثل ہو کر سامنے آتی ہے اور کبھی واقعے کی روداد کے طور پر لفظوں میں ادا ہو جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں واقعے اور مثال کا باہمی تعلق تشبیہ کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِن مشاہدات کو اِن کے بعینہٖ وقوع پر محمول کرنے کے بجاے محتاجِ تعبیر سمجھا جاتا ہے۔
اِس نوعیت کے جو رؤیا قرآن و حدیث میں نقل ہوئے ہیں،اِن میں سے بعض کے تعبیری مصداقات خود قرآن و حدیث میں بیان ہو گئے ہیں اوربعض واقعاتی حقائق کے طور پر تاریخ میں ثبت ہو چکے ہیں۔79 اب وہ کسی تعبیر و تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ مگر جہاں تک انبیا کے اُن خوابوں کا تعلق ہے، جو ابھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوئے، وہ بہرحال محل تدبر ہیں۔ اہل علم و دانش اُن پر غور کر کے اُن کی تعبیر و تشریح کر سکتے ہیں۔
ایسےخوابوں کے بارے میں استاذِ گرامی کا موقف یہ ہے :
* اُنھیں انبیا کے تعبیرشدہ خوابوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
*اُن کی تمثیلات کا مصداق دین کے پورے علم کو سامنے رکھ کر طے کرنا چاہیے۔
*اُن کے بارے میں اپنی تحقیق و جستجو اورغور و فکر کے نتائج کو حتمی طریقے سے نہیں، بلکہ امکانی راے کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔
*اُن میں سے جن تمثیلات کی کوئی تعبیر سمجھ میں نہ آ رہی ہو، اُن کے بارے میں غیرضروری خیال آرائی کے بجاے اللہ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔
چنانچہ استاذِ گرامی کے نزدیک نزولِ مسیح، ظہورِ دجال، خروجِ یاجوج و ماجوج اور آخری زمانے کےعظیم جنگی معرکوں اور فتنہ و فسادات کے بارے میں منقول روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیاے صادقہ کا بیان ہیں۔ یہ تمثیل و تشبیہ کے اسالیب پر مبنی ہیں۔ اِن کی تعبیر کرنی چاہیے اور اگر کوئی تعبیر سمجھ میں نہ آئے تو اِن کے بیان کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے اِن کے مفہوم پر توقف کرنا چاہیے۔
اُنھوں نے لکھا ہے:
’’… فتن، ملاحم اور علاماتِ قیامت کے بارے میں جو کچھ روایتوں میں بیان ہوا ہے، اُس کو بھی اِسی زاویے سے دیکھنا چاہیے، اور جہاں تعبیر سمجھ میں نہ آ رہی ہو، معاملہ اللہ کے سپرد کردینا چاہیے، اِس لیے کہ اِس طرح کی چیزیں بالعموم مصداق کے سامنے آجانے کے بعد ہی واضح ہوتی ہیں اور اِن سے مقصود بھی یہی ہوتا ہے کہ اپنے وقت ہی پر واضح ہوں۔‘‘
(علم النبی757)
5۔ نزولِ مسیح کی تمثیل کا مصداق
اوپر بیان کیے گئے مباحث سے درجِ ذیل باتیں پوری طرح متحقق ہو گئی ہیں:
اول، نزولِ مسیح اور اُس کی تفصیلات کا ذکر اسرا و معراج کے دوران میں ہوا ہے۔
دوم، اسرا و معراج کے واقعات عالم رؤیا میں پیش آئے تھے، لہٰذانزولِ مسیح کی جملہ روایات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا کا بیان ہیں۔
سوم، انبیا کے رؤیا وحی و الہام ہی کی ایک قسم ہوتے ہیں۔ یہ عین حق ہوتے ہیں، اِنھیں عام انسانی خوابوں پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔
چہارم، یہ رؤیا عموماً تمثیل کی صورت میں ہوتے ہیں، اِس لیے صادق اور مبنی بر حق ہونے کے باوجود تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں۔
پنجم، محتاجِ تعبیر ہونے کا تقاضا ہے کہ اِنھیں اِن کے ظاہری مدعا پر محمول کرنے کے بجاے مجازی مدعا پر محمول کیا جائے اور بعینہٖ مصداق تلاش کرنے کے بجاے معنوی مصداق کی جستجو کی جائے۔
اِس خلاصے کے بعداب اُس تعبیر کو سمجھ لیجیے، جو استاذِ گرامی نے نزولِ مسیح کی تمثیل کے بارے میں پیش کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں بیان ہوا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رؤیا میں ایک مجلس کا مشاہدہ فرمایا، جس میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام تشریف فرما تھے۔ اُن کے مابین وقوعِ قیامت کا سوال زیرِبحث تھا۔80 سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال ہوا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ وہ اُس کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ عیسٰی علیہ السلام سے استفسار ہواتو اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اُس کے متعین وقت کا تو علم نہیں ہے، البتہ وہ اتنا جانتے ہیں کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہو گا اور وہ اتر کر اُسے قتل کریں گے۔ روایت کے الفاظ ہیں:
…فرد الحديث إلى عيسى بن مريم. فقال قد عهد إلي فيما دون وجبتها. فأما وجبتها فلا يعلمها إلا اللّٰه. فذكر خروج الدجال. قال فأنزل فأقتله.
(ابن ماجہ، رقم 4081)
’’… پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام سے بات کرنے کو کہا گیا تو اُنھوں نے فرمایا: مجھے قیامت کےقائم ہونے سے پہلے کی باتیں بتائی گئی ہیں۔ رہا اِس کے قائم ہونے کا وقت تو وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر اُنھوں نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا اور فرمایا: میں نازل ہو کر اُسے قتل کروں گا۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک اِس میں ’فأنزل فأقتله‘ (میں اتروں گا اور اُسے قتل کروں گا) کے الفاظ کو اُن کے ظاہری معنی پر محمول کر کے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ مسیح علیہ السلام بہ نفس نفیس آسمان سے اتریں گے۔ اِس کے دو بنیادی وجوہ ہیں:
اولاً، قرآنِ مجید اِس امر کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآنِ مجید میں کئی پہلوؤں سے زیرِ بحث آئی ہے، مگر موقع بیان کے باوجود اِس بارے میں ادنیٰ اشارہ بھی مذکور نہیں ہے۔ سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116 تا 119 سے واضح ہے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے نصاریٰ کی گم راہی کے بارے میں پوچھیں گے۔ اِس کے جواب میں حضرت مسیح اپنی لا علمی کا اظہار کریں گے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اپنی آمدِ ثانی کی صورت میں وہ اِس سے لاعلم نہیں ہو سکتے۔ پھر آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان ہوا ہے۔ وہاں بھی نزولِ مسیح کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔81
ثانیاً، روایتوں میں مذکور نزولِ مسیح کا متعین وقت گزر چکا ہے اور نزولِ مسیح کا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔
یہ مقرر وقت 857 ہجری بہ مطابق 1453 عیسوی ہے، جو 570 سال پہلے گزر چکا ہے۔82 اگر نزولِ مسیح کے الفاظ سے آپ کا شخصی نزول مراد ہوتا تو لازم تھا کہ اُس موقع پر دجال بھی ظاہر ہوتا اور آپ نازل ہو کر اُسے قتل کر چکے ہوتے۔ مگر تاریخ کی شہادت اِس کے برخلاف ہے۔
اِن قطعی وجوہ کی بنا پر یہ درست نہیں ہے کہ نزولِ مسیح کی پیشین گوئی کو آپ کے شخصی نزول پر محمول کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کے نتیجے میں قرآن کی آیات پر اعتراض پیدا ہوتا اور احادیث خلافِ واقعہ ثابت ہوتی ہیں۔83
اِس کے بعد نزولِ مسیح کو قبول کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اِسے تمثیل مان کر اِس کی مجازی تعبیر قیاس کی جائے۔ ایسا کرنا دو وجوہ سے قرین صحت ہے:
1۔ نزولِ مسیح کا رؤیا میں ذکر۔
انبیا علیہم السلام کو مستقبل کے واقعات عموماً رؤیا میں تمثیل کے طریقے پر دکھائے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیا میں دکھایا گیا۔
2۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کا تمثیلی اسلوب کلام۔
انجیل سے واضح ہے کہ مسیح علیہ السلام کا طرزِ کلام تمثیلی تھا۔ وہ اپنے مدعا کی وضاحت کے لیےعموماً مجاز کا اسلوب اختیار کرتے تھے۔یعنی اپنی بات کے ابلاغ کے لیے حکایتیں بیان کرتے، مثالیں پیش کرتے اور تشبیہ و استعارے اور اشارے کنایے میں کلام فرماتے تھے۔84
درجِ بالا استدلا ل کی بنا پر استاذِ گرامی نے نزولِ مسیح کے بیان کو تمثیل قرار دیا ہے اور قرآنِ مجید، بائیبل اور احادیث کے نظائر کی روشنی میں اِس کے مصداق کی تعیین کی ہے۔ چنانچہ اُن کا موقف ہے کہ یہاں مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے آپ کا شخصی نزول نہیں، بلکہ مجازی نزول مراد ہے۔85 یعنی جب مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اتروں گا تو اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ بہ نفس نفیس دوبارہ نازل ہوں گے، بلکہ یہ تھا کہ آپ کی ہدایت ــــ جسے نصاریٰ نے یک سر زائل کر دیا ہے ـــــ دوبارہ ظاہر ہو گی۔ چنانچہ اُنھوں نے عبداللہ بن مسعود کی مذکورہ روایت کی شرح میں لکھا ہے:
’’قرآن و حدیث سے واضح ہے کہ یہ رؤیا کے واقعات ہیں، جو محتاجِ تعبیر ہوتے ہیں۔ چنانچہ نزولِ مسیح کی روایتوں کے باب میں اِس کی تعبیر ہم نے اُن کی ہدایت کے نزول سے کی ہے، جو قیامت کے قریب خود اُنھی کے ماننے والوں میں اِس شان کے ساتھ ظاہر ہو جائے گی کہ گویا وہ خود آسمان سے اترے اور اپنی قوم کی اصلاح کر کے چلے گئے ہیں۔‘‘
(علم النبی 782)
اُن کے نزدیک یہ بالکل ویسی ہی تمثیل ہے، جیسی آپ نے اپنی عدالت کے بارے میں بیان فرمائی تھی۔ انجیل متی سے واضح ہے کہ اُنھوں نے بہ حیثیتِ رسول اپنی عدالت کے برپا ہونے کو بھی اپنی آمد سے تعبیر کیا تھا اور فرمایا تھا:
’’جیسا نوح کے دنوں میں ہوا، ویسا ہی اِبنِ آدم (مسیح علیہ السلام ) کے (دوبارہ) آنے کے وقت ہوگا۔کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے، اُس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا، اُن کو خبر نہ ہوئی۔ اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہوگا۔‘‘
(متی 24: 37- 39)
6۔ نزولِ مسیح کی تمثیل کی تفہیم و تشریح
نزولِ مسیح کے باب میں استاذِ گرامی کا موقف حدیث کے الفاظ اور اُن کے مصداق کا انجیل کے درجِ بالا الفاظ اور اُن کے مصداق پر قیاس ہے۔ یعنی اُنھوں نے حدیث میں نقل ’’میں(عیسیٰ ابنِ مریم) نازل ہو ں گا‘‘ کے الفاظ کو انجیل میں نقل ’’ابنِ آدم (عیسیٰ ابنِ مریم) آئے گا‘‘ کے الفاظ پر قیاس کیا ہے اور اِس کے مصداق کو بالکل اُسی طرح آپ کی مجازی آمد پر محمول کیا ہے،جیسے انجیل کی پیش گوئی کا مجازی مصداق تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے۔
اِس قیاس میں مقیس ــــ نزولِ مسیح بہ معنی نزولِ ہدایتِ مسیح ــــ اور مقیس علیہ ــــ آمدِ مسیح بہ معنی آمدِ عدالتِ مسیح ــــ کےباہمی تعلق کی تفہیم ضروری ہے۔ اِس مقصد کے لیے پہلے اُس تمثیل اور اُس کے مصداق کو سمجھ لیجیے، جس پر قیاس کیا گیا ہے۔
سیدنا مسیح علیہ السلام نبوت کے ساتھ رسالت کے منصب پر بھی فائز تھے۔ وہ بنی اسرائیل کے لیے اللہ کی عدالت بن کر نازل ہوئےتھے۔ اِس حیثیت سے اُنھیں اُن پر دین کی حجت کو قائم کرنا اور اُس کے بعد آسمانی جزا و سزا کو نافذ کرنا تھا۔ قانونِ الٰہی کے مطابق اِس کی مقررہ صورت یہ تھی کہ وہ آپ پر ایمان لائیں گے تو زمین و آسمان کی برکتوں سے فیض یاب ہوں گے اور اگر انکار کریں گے تو مستوجبِ سزا ٹھہریں گےاور دنیا ہی میں خدا کے عذاب کا شکار ہو جائیں گے۔86 بنی اسرائیل کی بدبختی کہ اُنھوں نے ایمان و اطاعت کے بجاے انکار و انحراف کا راستہ اختیار کیا۔مسیح علیہ السلام کی غیر معمولی پیدایش، گہوارے میں معجز کلامی اورعظیم الشان خارقِ عادت نشانیاں 87 بھی اُنھیں اعترافِ حق پر آمادہ نہ کر سکیں۔ بالآخر اُن کی حق دشمنی اور شقاوتِ قلبی بڑھتے بڑھتے اِس بدترین سطح تک پہنچ گئی کہ اُنھوں نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔88
رسولوں کی قومیں جب سرکشی کی اِس انتہا کو پہنچ جائیں تو اللہ کی طرف سے اُن کی مہلت ختم ہو جاتی ہےاور عذاب کے نزول کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔ اِس موقع پر رسول کو قوم سے الگ کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔محفوظ کرنے کی صورت بہ شکل حیات ہجرت الی الارض بھی ہو سکتی ہے اور بہ شکل وفات ہجرت الی السماء بھی ہو سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ ہجرت الی اللہ ہوتی ہے، جس کا اظہار اللہ کے اذن سے اوراُس کی مقررہ حکمتِ عملی کے مطابق ہوتا ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے اِس کی تدبیر یہ ہوئی کہ اللہ نے آپ کو وفات دینے اور آپ کے جسم مبارک کو اپنی طرف اٹھا لینے کا فیصلہ کیا۔ اِس کے ساتھ ہی بتا دیا گیا کہ منکرین پر اُن کے انکار کے باعث عذاب نازل کیا جائے گا۔89
یہ عذاب سیدنا مسیح علیہ السلام کی وفات کے چند سال بعد 70 عیسوی میں نازل ہو گیا۔ اِس کی صورت یہ ہوئی کہ رومی سلطنت نے یروشلم کو فتح کر کے اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اُن کی عظمت کے نشان ہیکل سلیمانی کو مسمار کر دیا گیا۔90 ایک لاکھ تینتیس ہزار آدمی قتل ہوئے اور سڑسٹھ ہزار کو غلام بنا لیا گیا۔پورے شہر کو تباہ و برباد کر کے کھنڈر بنا دیا گیا۔ مسیح علیہ السلام کے اتمام حجت کے بعد عذاب الٰہی کی یہی وہ صورت ہے، جس کا حوالہ قرآنِ مجید میں ’وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ‘(دوسری بار کا وعدہ) کے الفاظ میں آیا ہے۔ ارشاد ہے:
…فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا. (بنی اسرائیل 17: 7)
’’…اِس کے بعد جب دوسری بار کے وعدے کا وقت آجاتا ہے تو ہم اپنے کچھ دوسرے زور آور بندے اٹھا کھڑے کرتے ہیں، اِس لیے کہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تمھاری مسجد میں اُسی طرح گھس پڑیں، جس طرح وہ پہلی بار اُس میں گھس پڑے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں، اُس کو تہس نہس کر ڈالیں۔‘‘
اس عذاب کے بارے میں استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’یہ اُس تباہی کا ذکر ہے، جو مسیح علیہ السلام کی طرف سے اتمام حجت کے بعد 70ء میں رومی بادشاہ تیتس (Titus) کے ہاتھوں یہود پر آئی۔ اِس موقع پر ہزاروں مارے گئے، ہزاروں غلام بنائے گئے، ہزاروں کو پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا گیا اور ہزاروں ایمفی تھیئٹروں اور کلوسیموں میں لوگوں کی تفریح طبع کے لیے جنگلی جانوروں سے پھڑوانے یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختۂ مشق بننے کے لیے مختلف شہروں میں بھیج دیے گئے۔ تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین نے اپنے لیے چن لیں اور یروشلم کا شہر اور اُس کی مسجد، سب زمیں بوس کر دیے گئے۔‘‘ (البیان 3/ 67-68)
یہی وہ عدالت ہے، جو بنی اسرائیل پر اللہ کے رسول حضرت مسیح علیہ السلام کے اتمام حجت کے نتیجے میں آسمان سے نازل ہوئی۔ اِسی کی خبر مسیح علیہ السلام نے اپنی آمدکی تمثیل کے پیراے میں بیان فرمائی تھی۔ ذیل میں انجیل کا وہ مکمل اقتباس نقل ہے، جس میں حضرت مسیح نے ا ِس عدالت کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ اُنھوں نے بتایا ہے کہ یہود کی موجودہ نسل ختم ہونے سے پہلے اُن کے ساتھ جزا و سزا کا وہی معاملہ ہو گا، جو قوم نوح کے ساتھ ہوا تھا اور اُس کی صورت یہ ہو گی کہ وہ خود اُس آسمانی عدالت کو لے کر آئیں گے:
’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں، یہ نسل ہرگز تمام نہ ہو گی۔ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے، لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی۔ لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے، نہ بیٹا، مگر صرف باپ۔جیسا نوح کے دنوں میں ہوا، ویسا ہی اِبنِ آدم کے آنے کے وقت ہوگا۔91 کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے، اُس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا، اُن کو خبر نہ ہوئی۔ اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہوگا۔ اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے، ایک لے لیا جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔ دو عورتیں چکی پیستی ہوں گی، ایک لے لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمھارا خداوند کس دن آئے گا۔لیکن یہ جان رکھو کہ اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کو کون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔ اِس لیے تم بھی تیاررہو، کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا، اِبنِ آدم آجائے گا۔‘‘ (متی 24: 34- 44)
انجیل کی اِس پیشین گوئی کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی جس نسل میں مبعوث ہوئے تھے، اُس کے ختم ہونے سے پہلے وہ دوبارہ اُس کے اندر نازل ہوں گے۔ اِس موقع پر وہ اپنے فریضۂ رسالت کی تکمیل کریں گے اور اُن پر اُن کے انکار کی سزا نافذ کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اِس پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل پر اللہ کا عذاب نازل ہوا؟
اِس کا جواب اثبات میں ہے۔ 70 عیسوی میں یہ عذاب اُسی طرح برپا ہوا، جس طرح پیش گوئی میں بیا ن ہوا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پیش گوئی کے مصداق کے طور پر مسیح علیہ السلام نے بہ نفس نفیس نازل ہو کر بنی اسرائیل کی جزا و سزا کا فیصلہ سنایا ؟
اِس کا جواب نفی میں ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ وہ خود تو تشریف نہیں لائے، مگر اُن کی عدالت کا فیصلہ رومیوں کی تلواروں کے ذریعے سے یہود پر نافذ ہوا۔ 92
یہ تاریخی شہادت اِس امر کو ثابت کرتی ہے کہ انجیل میں مذکور آمدِ مسیح کی پیشین گوئی سے مراد مسیح علیہ السلام کا شخصی نزول نہیں تھا۔ یہ آپ کی عدالت تھی، جو نوح علیہ السلام کی عدالت کی طرح آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ فرق صرف آلاتِ عقوبت کا تھا۔ نوح علیہ السلام کی عدالت کے لیے ابرو باد کے آلاتِ سماوی استعمال ہوئے تھے اور مسیح علیہ السلام کی عدالت کےلیے شمشیر و سناں کے آلاتِ ارضی کو کام میں لایا گیا تھا۔
اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو گئی ہے کہ انجیل میں نقل ’’ابن آدم (مسیح) آئے گا‘‘ کے الفاظ مسیح علیہ السلام کی عدالت کے آنے کی تمثیل ہیں، اِن سے آپ کی بہ نفس نفیس آمد کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
اِس کے بعد اب یہ جان لیجیے کہ استاذِ گرامی نےانجیل کے الفاظ اور اُن کے معنوی مصداق کی اِسی مثال پر نزولِ مسیح کی روایات کو قیاس کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جیسے سیدنا مسیح کی ’’عدالت کے آنے‘‘ کے لیے ’’ آمدِ مسیح‘‘ کی تمثیل بیان ہوئی ہے، اُسی طرح آپ کی ’’ہدایت کے ظہور‘‘ کے لیے ’’نزولِ مسیح‘‘ کی تمثیل اختیار کی گئی ہے۔93 یعنی جو اسلوب انجیل کے الفاظ ــــ ’مَجِيءُ ابْنِ الإِنْسَانِ‘،94 ’’حضرت مسیح کا آنا‘‘ اور ’يَأْتِي ابْنُ الإِنْسَانِ‘،95 ’’مسیح علیہ السلام آئیں گے‘‘ ــــ کا ہے، وہی اسلوب روایات کے الفاظ ــــ ’فانزل‘، ’’میں نازل ہوں گا‘‘،96 ’ان ینزل فیکم ابن مریم‘،97 ’’تم میں ابن مریم نازل ہوں گے‘‘ اور ’فيبعث اللّٰه عيسى ابن مريم‘،98 ’’اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا‘‘ ـــــ کا ہے۔ اِن کا مصداق بھی بعینہٖ مجازی اور معنوی ہے۔ چنانچہ جس طرح وہاں آپ کے آنے سے آپ کی ’’عدالت کا آنا‘‘ مراد لیا گیا ہے، اُسی طرح یہاں آپ کے آنے سے آپ کی ’’ہدایت کا آنا ‘‘ مراد لینا چاہیے۔
مزید یہ کہ انجیل اور روایت میں مذکور تمثیلی اسلوب کے دونوں جملے حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے صادر ہوئے ہیں۔ یعنی انجیل اور حدیث، دونوں میں اُنھی کی بات نقل ہوئی ہے۔ ایک ہی شخصیت سےصادر ہونے والے یکساں اسلوب بیان کی شہادت سے بھی استاذِ گرامی کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔
نزولِ مسیح کے مصداق کی مذکورہ بحث سے درجِ ذیل نتائج متعین ہوتے ہیں:
*روایات میں مذکور ’فأنزل فأقتله‘ (میں اتروں گا اور اُسے قتل کروں گا)کے الفاظ اصلاً مسیح علیہ السلام کے الفاظ ہیں، جو اُنھوں نےمعراج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیے۔
* اِن کا پیرایۂ بیان مسیح علیہ السلام کے عام اسلوب کی طرح تمثیلی ہے۔
* اِن میں سیدنا مسیح نے وہی اسلوب اختیار کیا ہے، جو اُنھوں نے انجیل کے خطبے میں اختیار کیا تھا۔
* انجیل میں حضرت مسیح کی آمد کی تمثیل ہے، جس کا مصدا ق ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے طور پر آپ کی عدالت کی آمد ہے۔
* روایات میں نزولِ مسیح کی تمثیل ہے، جس کا مصداق ممکنہ طور پر آپ کی ہدایت کا نزول ہے۔
7۔ ’نزولِ مسیح‘ بہ معنی ’نزولِ ہدایتِ مسیح‘
استاذِ گرامی کے نزدیک ’نزولِ مسیح‘ کی تمثیل کا مصداق ’نزولِ ہدایتِ مسیح‘ ہے۔ اِس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر سیدنا مسیح کی ہدایت دو ہزار سال پہلے آ چکی ہےتو اب دوبارہ ہدایت آنے کی کیا نوعیت ہے اور اُس کی ضرورت کس بنا پرہے؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ اِس سےمراد آپ کی ہدایت کی تجدید اور اُس کا احیا ہے۔ گویا یہ آپ کی ہدایت کا ظہورِ ثانی ہے۔ اِس کا وقوع اِس لیے ضروری ہے کہ آپ کی اصل ہدایت آپ کے متبعین کے فکر و عمل سے بالکل محو ہو گئی ہے۔ اُس کی جگہ ایسا مذہب اپنا لیا گیا ہے، جو آپ کی ہدایت کے بالکل برعکس ہے اور ظلم یہ ہے کہ اُسے آپ کی ہدایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اِس طرح کا غیر معمولی حادثہ کسی اور پیغمبر کی ہدایت کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ اِس حادثے کے تین پہلو غیر معمولی ہیں:
ایک یہ کہ مسیح علیہ السلام کی ہدایت توحید کی اساس سے محروم کر دی گئی ہے۔ یہ تاریخ انسانی کا عظیم المیہ ہے کہ توحیدِ الٰہی کے جلیل القدر علم بردار کو شرک کی مجسم علامت بنا دیا گیا ہے۔ لوگوں سے منوا لیا گیا ہےکہ ــــ معاذ اللہ ــــ آپ اللہ کے فرزند ہیں اور ذاتِ خداوندی کے جسمانی ظہور کے طور پر نازل ہوئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ آپ کی تصدیق شدہ شریعت کویک سر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وہ پیغمبر جو یہ دعویٰ لے کر اٹھا تھا کہ میں تورات کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے آیا ہوں، اُسی کی نسبت سے یہ تسلیم کرا لیا گیا کہ تورات کا تعلق صرف بنی اسرائیل سے ہے، نصاریٰ کے لیے کوئی شریعت نہیں ہے۔
تیسرے یہ کہ یہ مان لیا گیا ہےکہ مسیح علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر سب انسانوں کے جرائم کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ اِس کے نتیجے میں آزمایش، گناہ و ثواب اور جزا و سزا کے بنیادی دینی تصورات کی معنویت بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
یہ بدترین انحرافات نصاریٰ کی شناخت بن گئے ہیں۔ اُن کے تمام فرقے بے شمار اختلافات کے باوجود اِس گم راہی پر کامل اتفاق رکھتے ہیں۔99 اِسی وجہ سے قرآن نے اُن کے لیے ’ضال‘، یعنی گم کردہ راہ کا لقب اختیارکیا ہے۔ 100
اِس تناظر میں غامدی صاحب کا قیاس یہ ہے کہ قیامت سے پہلے مسیح علیہ السلام کی ہدایت اپنی اصل صورت میں بحال ہو جائےگی۔ اِس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ نصاریٰ میں تجدید و احیاے دین کی تحریک اٹھے، جو سینٹ پال کے وضع کردہ دین کو ختم کر کے مسیح علیہ السلام کے اصل دین کو از سرِ نو قائم کر دے۔101 یہ گویا آپ کی دعوت و ہدایت کا ظہورِ ثانی ہو گا۔
اب اِس زاویے سے روایات کے مندرجات کو دیکھیے تو متعدد چیزیں مطابق قیاس محسوس ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
*صلیب توڑ دی جائے گی۔
صلیب تثلیث کی نشانی اور شرک کی سب سے بڑی علامت ہے۔ مسیح علیہ السلام کی ہدایت اگر دوبارہ ظاہر ہوتی ہے تو لازم ہے کہ صلیب کو اُس کے تمام تصورات سمیت پاش پاش کر دیا جائے گا۔
*خنزیر کو قتل کر دیا جائے گا۔
خنزیر اصل میں ممنوعاتِ شریعت کی نشانی ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے جب تورات کی شریعت کو نافذ کیا تو نصاریٰ کے لیے وہ تمام قوانین واجب العمل ہو گئے، جو بنی اسرائیل کے لیے مشروع تھے۔ مگر سینٹ پال نے اُنھیں بنی اسرائیل کے ساتھ خاص قرار دے کر نصاریٰ کو اُن کی پابندی سے آزاد کر دیا۔ اِس کے نتیجے میں خنزیر کی حرمت اور دیگر شرعی قوانین کالعدم ہو گئے۔ گویا خنزیر زندہ ہو گیا۔ یعنی حرام کی گئی چیزیں حلال ہو گئیں۔ اب اگر تجدیدِ ہدایت کی صورت میں اصل قانون بحال ہو گا تو لازماً خنزیر کو حرام ٹھہرایا جائے گا۔ اِسی کو اُس کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔
*مسلمانوں اور نصاریٰ میں مخاصمت ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی بدیہی امر ہے۔جب نصاریٰ اصل ہدایت پر واپس آ جائیں گےاور تثلیث کے عقیدے سے تائب ہو کر توحید کو اختیار کر لیں گےتو اُن کے اور مسلمانوں کے مابین جنگ و جدل کی بنیاد ختم ہو جائے گی۔ اِس کے بعد اُن کا ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر دجال اور اُس کےمعاون و انصار یہود سے برسر پیکار ہونا قابل فہم ہے۔
روایات کی باقی پیش گوئیوں کو بھی اِسی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
- یہ روایت سنن ابن ماجہ کے علاوہ مصنف ابن ابی شیبہ،مسند احمد، جامع البیان للطبری، مسند شاشی اور مستدرک حاکم میں بھی نقل ہوئی ہے۔
- حاکم اور ذہبی نے اِس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے ۔ بوصیری نے اِس کے تمام راویوں کو ثقات میں شامل کیا ہے۔ بعض محدثین نے اِس کے ایک راوی موثر بن عفازہ پر جرح کی ہے، مگر ابنِ حبان اور دیگر محدثین اُنھیں ثقہ قرار دیتے ہیں (الصحیح المسبورمن التفسیر بالماثور، حكمت بشير ياسين3/ 396)۔
- یہ روایت مسلم، رقم 7560 اور ترمذی، رقم 2240 کے تحت بھی نقل ہوئی ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی نے اِسے صحیح قرار دیا ہے۔
- استاذِ گرامی نے اِس امر کو ”میزان” میں ”مبادی تدبرِ حدیث” کے تحت”احادیثِ باب پر نظر” کے زیرِ عنوان اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:”… کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اِس باب کی تمام روایات پیش نظر رکھی جائیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حدیث کا ایک مفہوم سمجھتا ہے،لیکن اُسی باب کی تمام روایتوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہ مفہوم بالکل دوسری صورت میں نمایاں ہو جاتا ہے۔اِس کی ایک مثال تصویر سے متعلق روایتیں ہیں۔ اِن میں سے بعض کو دیکھیے تو بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی تصاویر ممنوع قرار دی گئی ہیں، لیکن تمام روایتیں جمع کیجیے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ممانعت کا حکم صرف اُن تصویروں کے بارے میں ہے، جو پرستش کے لیے بنائی گئی ہوں۔حدیث کے ذخیرے سے اِس طرح کی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ کسی حدیث کے مفہوم میں تردد ہو تو احادیثِ باب کو جمع کیے بغیر اُس کے بارے میں کوئی حتمی راے قائم نہ کی جائے۔” (66)
- ‘اسرا’کے معنی ‘لے جانے’ کے ہیں۔ احادیث و آثار اور اُن کی شروح میں یہ لفظ عموماً اسرا و معراج کے دو سفروں کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان اسفار ہیں۔ ایک میں آپ کو مسجدِ اقصیٰ اور دوسرے میں آسمانوں پر لے جایا گیا۔ مسجدِ اقصیٰ کے سفر کا ذکر قرآنِ مجید میں اِن الفاظ میں آیا ہے:سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا. اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ.(بنی اسرائیل 17: 1)”ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجدتک لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہےتاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیرہے۔”
- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی درجِ ذیل روایت سے بھی اِس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر اسرا کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ دجال کا ذکر بھی فرمایا تھا:ابن عم نبيكم صلى اللّٰه عليه و سلم ( ابن عباس) قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم: مررت ليلة أسري بي على موسى بن عمران عليه السلام رجل آدم طوال جعد كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى بن مريم مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس وأري مالكاً خازن النار والدجال في آيات أراهن اللّٰه إياه. (مسلم، رقم 165)”تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد (ابنِ عباس رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسرا کی رات موسیٰ بن عمران رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ گندم گوں تھے اور لمبے قد کے گٹھے ہوئے جسم کے انسان تھے، جیسے قبیلۂ شنوءہ کے مرد ہوتے ہیں۔ میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھی دیکھا۔ا ُن کا قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید اور سر کے بال سیدھے تھے۔(سفر معراج کے دوران میں) اُن بہت سی نشانیوں میں سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں، آپ کو دوزخ کا داروغہ مالک اور دجال بھی دکھایا گیا۔”
- اسرا و معراج کے واقعات کی نوعیت اور اِس موضوع کی آیات و احادیث کی شرح و وضاحت کے لیے ہماری کتاب ”اسرا و معراج ”ملاحظہ کیجیے ۔
- سورۂ بقرہ کی آیت 128 میں یہ دعا ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے: ‘رَبَّنَا وَ اجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَکَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسۡلِمَۃً لَّکَ ۪وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبۡ عَلَیۡنَا’ (پروردگار، اور ہم دونوں کو تو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد سے بھی اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا اور ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہم پرعنایت کی نظر فرما)۔استاذِ گرامی نے اِس کی شرح میں لکھا ہے: ”اصل الفاظ ہیں:’اَرِنَا مَنَاسِکَنَا’۔ اِن میں ‘اَرِنَا’ کے معنی ‘ہمیں دکھا’ کے ہیں۔ سیدنا ابراہیم نے یہ لفظ اِس لیے استعمال کیا ہے کہ عبادات سے متعلق جو سنن انبیا علیہم السلام نے قائم کی ہیں، اُن کی تعلیم بالعموم اِس طرح دی گئی کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُن پر عمل کرکے رؤیا وغیرہ میں اُنھیں دکھا دیا۔” (البیان 1/ 130)
- سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے جس اقدام نے اِس واقعے کو لافانی بنا دیا، وہ یہ تھا کہ آپ نے یہ جاننے کے باوجود کہ رؤیا بالعموم تعبیری یا مجازی معنی کی تمثیل ہوتے ہیں، اُنھیں ظاہری اور حقیقی معنی پر محمول نہیں کیا جاتا، ظاہری معنی پر عمل کو ترجیح دی۔ یعنی اجتہادی خطا کی گنجایش ہی ختم کر دی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک جانب نہایت معمولی درجے میں یہ امکان تھا کہ تعبیر کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں اجتہادی غلطی واقع ہو سکتی ہے اور دوسری جانب عزیز از جان فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر دینے کا معاملہ تھا۔ آپ نے جو طریقہ اختیار کیا، اُس نےحکم کی تعمیل میں جائز اجتہادی خطا کا امکان ہی باقی نہیں رہنے دیا۔
- اِن کی ایک نمایاں مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ رؤیا ہے، جس میں آپ نے خود کو کھجور کے درختوں والی سرزمین کی طرف ہجرت کرتے دیکھا اور اپنی تلوار کی نوک ٹوٹنے اور پھر اُس کے سالم ہو جانے کا مشاہدہ فرمایا۔اِس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ یثرب تشریف لے جائیں گے، وہاں احد کا معرکہ ہو گا، جس میں مسلمانوں کو پہلے شکست اور بعد میں فتح نصیب ہو گی۔ اِن تعبیرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ ذاتِ خود آگاہ فرمایا۔ مسلم میں ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے:عن النبي صلى اللّٰه عليه و سلم قال: رأيت في المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل فذهب وهلي إلى أنها اليمامة أو هجر فإذا هي المدينة يثرب ورأيت في رؤياي هذه أني هززت سيفًا فانقطع صدره فإذا هو ما أصيب من المؤمنين يوم أحد ثم هززته أخرى فعاد أحسن ما كان فإذا هو ما جاء اللّٰه به من الفتح واجتماع المؤمنين ورأيت فيها أيضًا بقرًا واللّٰه خير فإذا هم النفر من المؤمنين يوم أحد وإذا الخير ما جاء اللّٰه به من الخير بعد وثواب الصدق الذي أتانا اللّٰه بعد يوم بدر. (رقم 2272)”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں، جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ غالباً یمامہ یا ہجر ہو گا، لیکن معلوم ہوا کہ وہ مدینہ، یعنی یثرب تھا۔اور اپنے اِسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو اُس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا۔ سو یہ وہی حادثہ تھا، جو مسلمانوں کو احد کے دن پیش آیا۔ پھر میں نے دوسری مرتبہ تلوار ہلائی تو وہ جیسے پہلے صحیح سلامت تھی، اُسی طرح ہو گئی۔ یہ وہ فتح تھی، جو اللہ نے عطا فرمائی اور مسلمان (جنگ میں منتشر ہو جانے کے بعد) پھر جمع ہو گئے۔ پھر میں نے اِسی خواب میں گائیں دیکھیں اور بخدا، وہ بھی خیر ہی تھا۔ گایوں سے وہ مسلمان مراد تھے، جو احد میں (شہید ہوئے )تھے اور خیر وہی تھا، جو اللہ اِس کے بعد لایا اور وہ حقیقی اجر جو بدر کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں عنایت فرمایا تھا۔”
- یہ پیغمبروں کی ذمہ داری کا اصل موضوع بھی ہے۔ اُن کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ لوگوں کو قیامت کے بارے میں خبردار کریں۔ لہٰذا اُن کی باہمی ملاقات میں یہ بالکل فطری ہے کہ قیامت کے وقت اور اُس کے قرب کی علامات کے بارے میں گفتگو ہو۔
- اِن اشکالات پر تفصیلی بحث گذشتہ ابواب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
- مسلم، رقم 7460 میں نزولِ مسیح کا واقعہ نہایت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام عین اُس موقع پر نازل ہوں گے، جس وقت مسلمانوں کی فوج قسطنطنیہ کو فتح کر لینے کے بعد دجال کے ظہور کی خبر سن کر مدینہ کی طرف واپس پلٹے گی۔قسطنطنیہ 29 /مئی 1453ء بہ مطابق 20 /جمادی الاول 857 ھ کو فتح ہو چکا اور تاحال مسلمانوں کے زیرِ نگیں ہے۔ مگر نہ دجال ظاہر ہوا ہے، نہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوئے ہیں اور نہ اُنھوں نے دجال کو قتل کیا ہے۔ اِس روایت پر تفصیلی بحث گذشتہ ابواب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
- اِس کے برعکس، اگراِنھی دو وجوہ سے نزولِ مسیح کی روایات کو خلافِ قرآن اور خلافِ واقعہ قرار دے کر رد کر دیا جائے تو پھر وہ موادہی باقی نہیں بچتا، جو اِس تصور کا ماخذ ہے۔
- اِس امر کی وضاحت انجیل کے صفحے صفحے سے ہوتی ہے۔ متی کی درجِ ذیل آیات سے اِس اسلوب کی نوعیت اور حقیقت پوری طرح نمایاں ہے:”اُسی روز یسوع گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جا بیٹھا۔ اور اُس کے پاس ایسی بڑی بھیڑ جمع ہوگئی کہ وہ کشتی پر چڑھ بیٹھا اور ساری بھیڑ کنارے پر کھڑی رہی۔ اور اُس نے اُن سے بہت سی باتیں تمثیلوں میں کہیں کہ دیکھو، ایک بونے والا بیج بونے نکلا۔… شاگردوں نے پاس آ کر اُس سے کہا کہ تو اُن سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟ اُس نے جواب میں اُن سے کہا: اِس لیے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے، مگر اُن کو نہیں دی گئی۔… میں اُن سے تمثیلوں میں اِس لیے باتیں کرتا ہوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے۔… لیکن مبارک ہیں تمھاری آنکھیں، اِس لیے کہ وہ دیکھتی ہیں اور تمھارے کان، اِس لیے کہ وہ سنتے ہیں۔ پس بونے والے کی تمثیل سنو۔… اُس نے ایک اور تمثیل اُن کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے۔… اُس نے ایک اور تمثیل اُن کو سنائی کہ آسمان کی بادشاہی اُس خمیر کی مانند ہے۔… یہ سب باتیں یسوع نے بھیڑ سے تمثیلوں میں کہیں اور بغیر تمثیل کے وہ اُن سے کچھ نہ کہتا تھا…۔” (متی 13: 1-34)
- بالکل اُسی طرح جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کو قربان کرنے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے چاند سورج اور گیارہ ستاروں کے سجدہ ریز ہونے کے رؤیا عین حق ہونے کے باوجود مجازی مصداقات کے حامل تھے۔
- رسولوں کی عدالت کا یہ قانون سورۂ یونس میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ.(10: 47) ”(اُس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آجاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔”استاذِ گرامی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے:”یہ اُسی قانون کا بیان ہے جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کر چکے ہیں کہ نبوت و رسالت کو ذریت ابراہیم کے لیے خاص کر دینے سے پہلے دنیا کی تمام قوموں پر خود اُنھی کے رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کیا گیا۔ قرآن میں اِس کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسول اپنے مخاطبین کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے اور اُن کا فیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوئے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ رسولوں کی دعوت میں یہ فیصلہ انذار، انذار عام، اتمام حجت اور ہجرت و براءت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اور اِس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی، خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین کے لیے قیامت صغریٰ برپا ہو جاتی ہے۔”(البیان 2/ 438)
- چنانچہ وہ اللہ کے حکم سے مٹی کے پرندے میں پھونک مار کر اُسے جیتا جاگتا پرندہ بنا تے، مادرزاد اندھے کو بینا کرتے، لا علاج کوڑھی کو شفا دیتے، مردہ انسانوں کو زندہ کرتے اور آنے والے لوگوں کو یہ بھی بتا دیتے کہ وہ کیا کھا کر آئے ہیں اور اُنھوں نے گھر میں کیا جمع کر رکھا ہے۔
- یہ ویسا ہی منصوبہ تھا، جیسا حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلےحضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اور اُن کے بعدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اُن کی قوموں نے بنایا تھا۔
- سنتِ الٰہی کے مطابق رسول کے منکرین پر دنیا میں جو عذاب نازل ہوتاہے، اُسے مجموعی لحاظ سے تین صورتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:ایک صورت یہ ہے کہ رسول کی قوم اصلاً شرک پر قائم ہوتی ہے۔ دعوت کے نتیجے میں اُس کی ایک معتدبہ تعداد رسول پر ایمان لے آتی ہے اور اُسے کسی سرزمین میں اقتدار حاصل ہو جاتا ہے۔ اِس صورت میں عذاب کا فیصلہ رسول اور اُس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ صورت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم بنی اسماعیل کے ساتھ پیش آئی۔دوسری صورت یہ ہے کہ رسول کی قوم اصلاً شرک پر قائم ہوتی ہے۔ دعوت کے نتیجے میں ایمان لانے والوں کی تعداد چند نفوس سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔رسول کو کوئی دارالہجرت بھی میسر نہیں آتا جہاں اُس کا اقتدار قائم ہو سکے۔ ایسی قوم کی عدالت اِس طرح واقع ہوتی ہے کہ رسول اور اس کے ساتھیوں کو الگ کر کے باقی قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح، قوم لوط، قوم شعیب اور بعض دوسری قوموں کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ رسول کی قوم اصلاً توحید پر قائم ہوتی ہے۔ تاہم وہ رسول پر ایمان لانے سے انکار کر دیتی ہے۔ دعوت کے نتیجے میں ایمان لانے والوں کی تعداد اتنی محدود ہوتی ہے کہ وہ منکرین کو تہ تیغ نہیں کر سکتے۔ رسول اور اُس کے ساتھیوں کو کوئی دار الہجرت بھی میسر نہیں آتا۔ ایسی قوم کی عدالت اِس طرح واقع ہوتی ہے کہ اُن پر قیامت تک کے لیے ذلت اورمحکومی کا عذاب نافذ ہو جاتا ہے۔ اُنھیں صفحۂ ہستی سے اِس لیے مٹایا نہیں جاتا کہ وہ اصلاً توحید سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی رسالت کے انکار کے نتیجے میں اُنھیں اِسی عذاب سے دوچار ہونا پڑا۔
- یہ آج تک دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکا۔ واضح رہے کہ یہود کے لیے ہیکل سلیمانی کی نوعیت وہی ہے، جو ہمارے لیے کعبۃ اللہ کی ہے۔
- ”ابنِ آدم” کے الفاظ مسیح علیہ السلام نے اپنی ذات کے لیے استعمال فرمائے ہیں۔ چنانچہ یہاں ابنِ آدم کی آمد سے مراد خود مسیح علیہ السلام کی آمد ہے۔
- رسولوں کے انکار کی پاداش میں اللہ کے عذاب کا نزول خالص تکوینی امر ہے۔ یہ طوفانِ باد و باراں کے روپ میں ہو، کڑک، تھرتھراہٹ، بھونچال اور صوتی دھماکے کے انداز میں ہو یا انسانی افواجِ قاہرہ کی غارت گری کی صورت میں، ہر حال میں من جانبِ اللہ ہوتا اوراللہ کی غیر متبدل سنت کا مظہرہوتا ہے۔
- قرآنِ مجید کی روشنی میں یہ امر مسلم ہے کہ اللہ کا رسول اپنی قوم کے لیے دو ہی چیزیں لے کر آتا ہے: ایک ہدایت اور دوسری عدالت۔ ہدایت سے مرادحکمت و شریعت پر مبنی وہ دین ہے، جسے قوم کو لازماًقبول کرنا ہوتا ہے اور عدالت سے مراد جزا و سزا کا وہ فیصلہ ہے، جو اتمام حجت کے بعد قوم پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔
- متی 24: 37۔
- متی 24: 44۔
- ابن ماجہ، رقم 4081۔
- بخاری، رقم 2222۔
- مسلم، رقم 7568۔
- کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈاکس، تینوں کے ہاں بہت سے اختلافات ہیں، مگر اِن بنیادی انحرافات میں تینوں متفق ہیں۔
- المائدہ 5: 77۔
- امتِ مسلمہ میں بھی دین کی تجدید و احیا کے کام گاہے بہ گاہے ہوتے رہے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ایسے مصلحین اور متجددین پیدا ہوئے ہیں، جنھوں نے امت کو انحرا فات سے نکال کر صحیح راستے پر گام زن کیا ہے۔ ماضی میں اِس کی مثال امام ابنِ تیمیہ اور حال میں امام حمید الدین فراہی ہیں۔